Frequently Asked Questions
اسلامی عقائد
الجواب وباللّٰہ التوفیق:مہر عورت کا حق ہے جو کہ شوہر پر واجب ہوتا ہے۔ شوہر کو تو کم کرنے کا یا معاف کرنے کا حق ہی نہیں اس پر تو ادائے گی واجب ہوتی ہے جس کے لئے اصول و ضابطہ مقرر ہے، عورت اگر بغیر کسی دباؤ اور جبر کے کچھ کم کردے تو اس کو اختیار ہوتا ہے وہ کم کر سکتی ہے لیکن اگر جبراً کم کرایا جائے تو کم نہیں ہوگا۔ ایسے ہی ایک ناجائز طریقہ یہ بھی ہے کہ بعض نا اہل اور بے غیرت آدمی پہلی رات کو بیوی سے مہر معاف کراتے ہیں یا کم کراتے ہیں۔ تو عورت اپنے مستقبل کو پیش نظر رکھتے ہوئے دباؤ محسوس کرتی ہے اور مہر معاف کرتی ہے یا کم کرتی ہے تو اس طرح بھی مہر قطعاً معاف نہیں ہوتا نہ ہی کم ہوتا ہے بلکہ شوہر پر مکمل کی ادائے گی واجب رہتی ہے۔(۱)
(۱) والمہر یتأکد بأحد معان ثلاثۃ: الدخول، والخلوۃ الصحیحۃ وموت أحد الزوجین سواء کان مسمی أو مہر المثل حتی لا یسقط منہ شیء بعد ذلک إلا بالإبراء من صاحب الحق کذا في البدائع۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیہ، ’’الباب السابع: في المہر، الفصل الثاني: فیما یتأکد بہ المہر والمتعۃ‘‘: ج ۱، ص: ۳۷۰)
فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج1ص462
اسلامی عقائد
Ref. No. 2556/45-3912
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ شادی کے لئے تمام طرح کی تیاریاں ہورہی ہیں، رشتہ داروں کی آمد ورفت جاری ہے، ہر طرف شادی کا چرچہ ہے، پھر لڑکی نے نانا کے سامنے نکاح نامہ پر انگوٹھا لگایا ، لڑکی دولہن کے طور پر سنگھار کرہی ہے، یہ سب کچھ اس بات کی علامت ہے کہ لڑکی کو نکاح کا علم ہے اور لڑکی نے نکاح کی اجازت دیدی ہے، مزید یہ کہ لڑکی کے باپ نے اپنی موجودگی میں نکاح کرایا ہے۔ اس لئے یہ نکاح درست ہوگیا۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
احکام میت / وراثت و وصیت
Ref. No. 2587/45-4211
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ کسی شخص کا فاجر وفاسق ہونا شرعاً ناپسندیدہ ہے، حکمت وتدبیر کے ساتھ اس کو گناہوں سے بچنےکی ترغیب دینی چاہئے تاہم اگر وہ کسی کی نماز جنازہ میں شرکت کرتا ہے یا جنازہ کو کندھا دیتا ہے تو اس میں شرعاً نہ کوئی قباحت ہے اور نہ کراہت۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
طہارت / وضو و غسل
الجواب وباللّٰہ التوفیق:اگر تعویذ کو اچھی طرح کپڑے میں سی دیا جائے، تو اس کوپہن کر بیت الخلا میں جانا درست ہے۔ لہٰذا اگر والٹ میں بند ہو، تو اس کو جیب میں رکھ کر لےجانے میں حرج نہیں ہے؛ البتہ اس کو ساتھ نہ لے جانا بہتر ہے اگر ممکن ہو۔(۱)
(۱) تکرہ إذا بۃ درہم علیہ آیۃ إلا إذا کسرہ، رقیۃ في غلاف متجاف لم یکرہ دخول الخلاء بہ والاحتراز أفضل۔ (ابن عابدین، الدر المختار مع رد المحتار، ’’سنن الغسل‘‘: ج ۱، ص: ۱۷۸؛ وفتح القدیر لإبن الہمام، ’’باب الحیض والاستحاضۃ‘‘: ج ۱، ص: ۱۶۹؛ وابن نجیم، البحر الرائق، ’’باب ما یمنع الحیض‘‘: ج ۱، ص: ۲۱۳)
فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج3 ص114
طہارت / وضو و غسل
الجواب وباللّٰہ التوفیق:اس طرح بیٹھنے میں ، مقعد، یعنی :سرین بھی ایک طرف سے اٹھی رہتی ہے اور ہیئت نماز کے خلاف بھی ہے، اس لیے اس صورت میں سونے سے وضو ٹوٹ جائے گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سونے سے وضو نہیں ٹوٹتا تھا؛ لیکن آپ کا سونا عام انسانوں کی طرح نہ تھا؛ اس لیے یہ قیاس غلط ہے؛ لہٰذا استرخاء مفاصل (جو غلبہ نوم کی وجہ سے ہوتا ہے، سبب ہے مقعد کے زمین سے اٹھنے کا اور یہ سبب ہے خروج ریح کا؛ اس لیے نوم ناقض وضو ہوئی، لہٰذا اگر آلتی پالتی مار کر بیٹھنے میں سو گیا اوراس حالت میں غلبہ نوم کی وجہ سے استرخاء مفاصل ہو گیا؛ اس کی وجہ سے مقعد زمین سے اٹھ گئی، تو وضو ٹوٹ جائے گا اور اس نوم کے بعد اگر نماز پڑھائی تو نماز نہیں ہوگی۔(۱)
(۱) و ینقضہ حکماً نوم یزیل مسکتہ أي قوتہ الماسکۃ بحیث تزول مقعدتہ من الأرض، وھو النوم علی أحد جنبیہ أو ورکیہ أو قفاہ أو وجھہ۔ (ابن عابدین، الدر المختار مع الرد، ’’کتاب الطہارۃ، مطلب نوم من بہ انفلات ریح غیر ناقض،‘‘ ج ۱، ص:۲۷۰)؛ و سئل أبونصر رحمہ اللّٰہ عمن نام قاعداً نوماً ثقیلاً؟ فقال: لا وضوء علیہ، لکن یشترط أن یکون مقعدہ علی الأرض وھو الصحیح۔ (الفتاویٰ التاتارخانیہ، ’’کتاب الطہارۃ، الفصل الثاني ما یوجب الوضوء،‘‘ ج ۱، ص:۲۵۴)؛ والعتہ لا ینقض کنوم الأنبیاء علیھم الصلاۃ والسلام۔ قولہ:کنوم الأنبیاء قال في البحر: صرح في القینۃ بأنہ من خصوصیاتہ ﷺ، ولذا ورد في الصحیحین ’’أن النبي ﷺ نام حتی نفخ، ثم قام إلی الصلاۃ، ولم یتوضا‘‘ لما ورد في حدیث آخر: إن عیني تنامان، ولا ینام قلبي۔ (ابن عابدین، رد المحتار مع الدر، ’’کتاب الطہارۃ، مطلب: نوم الأنبیاء غیر ناقض،‘‘ ج ۱، ص:۲۷۳)
فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج3 ص226
طہارت / وضو و غسل
الجواب وباللّٰہ التوفیق:اگر جن نے خواب میں صحبت کی ہے، تو اس کا حکم احتلام کا ہے، اگر عورت کو لذت محسوس ہوئی اور انزال ہوا، تو غسل واجب ہو جائے گا ورنہ نہیں۔اور اگر جن نے انسانی شکل میں آکر جاگنے کی حالت میں عورت سے صحبت کی تو اس کا حکم انسان جیسا ہے، اگر حشفہ غائب ہو گیا، تو غسل واجب ہے ورنہ نہیں، اس صورت میں انزال پر وجوب غسل موقوف نہیں ہوگا۔(۲)
(۲) یوجب الاغتسال الإیلاج أي إدخال ذکر من یجامع مثلہ في أحد السبیلین القبل والدبر من الرجل أي من الذکر المشتھي والمرأۃ أي المشتہاۃ۔ (ابراہیم الحلبي، حلبي کبیري،’’کتاب الطہارۃ‘‘ ج۱، ص:۳۶، دارالکتاب دیوبند) عند إیلاج حشفۃ ھي ما فوق الختان آدمي احتراز عن الجني…یعنی إذا لم تنزل و إذا لم یظھر لھا في صورۃ الآدمي۔ قولہ احتراز عن الجني۔ ففي المحیط: لو قالت معي جني یاتینی مرارا، و أجد ما أجد إذا جامعني زوجي لا غسل علیھا لانعدام سببہ وھو الإیلاج أوالاحتلام، و وقع في البحر: یاتیني في النوم مرار أو ظاھرہ أنہ رؤیۃ منام۔۔۔ ھذا إذا کان واقعا في الیقظۃ فلو في المنام فلا شک أن لہ من التفصیل ما للاحتلام (ابن عابدین، رد المحتار، ’’کتاب الطہارۃ، مطلب في تحریر الصاع والمد والرطل‘‘ج:۱، ص:۲۹۸)
فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج3 ص298
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: صورت مسئولہ میں امام صاحب کو چاہئے کہ قعدہ اولیٰ میںتشہد کے بعد فوراً کھڑے ہوجائیں؛ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشہد پڑھتے ہی تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہو جایا کرتے تھے، امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اہل علم کے ہاں اسی پر عمل ہے، چناں چہ وہ پہلی دو رکعت کا قعدہ طویل کرنے کو پسند نہیں کرتے، اور نمازی کو چاہیے کہ پہلی دو رکعت کے تشہد پر کچھ بھی اضافہ نہ کرے، علماء فرماتے ہیں: اگر تشہد پر کچھ اضافہ کیا تو سجدۂ سہو لازم ہوگا، امام شعبی رحمہ اللہ اور دیگر اہلِ علم سے اسی طرح منقول ہے۔
امام صاحب کو چاہئے کہ قعدہ اولیٰ کو زیادہ طول نہ دیں اور مقتدیوں کی رعایت کریں البتہ اگر امام صاحب التحیات کو قدرے سکون سے پڑھتے ہیں تاکہ ہر قسم کے نمازی کی رعایت رکھی جائے تو یہ امر مستحسن ہے، اس پر امام صاحب کو تنقید کا نشانہ بنانا درست نہیں ہے۔
’’سمعت أبا عبیدۃ بن عبد اللّٰہ بن مسعود یحدث عن أبیہ قال: کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم إذا جلس في الرکعتین الأولیین کأنہ علی الرضف قال شعبۃ ثم حرک سعد شفتیہ بشيء فأقول حتی یقوم؟ فیقول حتی یقوم، والعمل علی ہذا عند أہل العمل یختارون أن لا یطیل الرجل القعود في الرکعتین الأولیین ولا یزید علی التشہد شیئا۔ وقالوا إن زاد علی التشہد فعلیہ سجدتا السہو، ہکذا روي عن الشعبي وغیرہ‘‘(۱)
(۱) أخرجہ الترمذي في سننہ، ’’أبواب الصلاۃ الرسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، باب: مقدار القعود في الرکعتین الأولین‘‘: ج ۱، ص: ۸۴، رقم: ۳۶۶۔
فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج5 ص85
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: اگر عذر ہو اور کوئی دوسری صورت نہ ہوسکتی ہو تو امام کو ذرا آگے کرکے اس کے پیچھے صف لگا نی چاہئے اس قدر آگے ہوجانا امام کا کافی ہے کہ امام کے پیر مقتدیوں کے پیر سے آگے رہیں۔(۱)
(۱) وینبغي للقوم إذا قاموا إلی الصلاۃ أن یتراصوا ویسدوا الخلل ویسووا بین مناکبہم في الصفوف ولا بأس أن یأمرہم الإمام بذلک لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام: سووا صفوفکم فإن تسویۃ الصف من تمام الصلاۃ ولقولہ علیہ الصلاۃ والسلام لتسون صفوفکم أو لیخالفن اللّٰہ بین وجوہکم وہو راجع إلی اختلاف القلوب وینبغي للإمام أن یقف بإزاء الوسط فإن وقف في میمنۃ الصف أو میسرتہ فقد أساء لمخالفتہ السنۃ ألا تری أن المحاریب لم تنصب إلا في الوسط وہي معینۃ لمقام الإمام۔ (فخر الدین عثمان بن علي، تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق، ’’کتاب الصلوۃ: الأحق بالامامۃ‘‘: ج۱، ص: ۱۳۶)
السنۃ أن یقوم في المحراب لیعتدل الطرفان، ولو قام في أحد جانبي الصف یکرہ، ولو کان المسجد الصیفی بجنب الشتوی وامتلأ المسجد یقوم الإمام في جانب الحائط لیستوی القوم من جانبیہ، والأصح ما روي عن أبي حنیفۃ أنہ قال: أکرہ أن یقوم بین الساریتین أو في زاویۃ أو في ناحیۃ المسجد أو إلی ساریۃ لأنہ خلاف عمل الأمۃ۔ قال علیہ الصلاۃ والسلام: توسطوا الإمام وسدوا الخلل۔ (ابن عابدین، رد المحتار، ’’کتاب الصلوۃ: باب الإمامۃ، مطلب ہل الإساء ۃ دون الکراہۃ أو أفحش‘‘: ج۲، ص: ۳۱۰)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 5 ص: 416
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق:عشا کا وقت غروب شفق سے شروع ہوتا ہے، مگر شفق سے کون سی مراد ہے؟ اس میں اختلاف ہے لغت میں سرخی اور اس سرخی کے بعد کی سفیدی دونوں کو شفق کہتے ہیں۔ علامہ ابن رشد فرماتے ہیں: ’’وسبب اختلافہم في ہذہ المسئلۃ اشتراک اسم الشفق في لسان العرب فإنہ کما أن الفجر في لسانہم فجران کذلک الشفق شفقان: أحمر وأبیض‘‘(۲)
امام ابو حنیفہ رحمۃاللہ علیہ شفق سے وہ شفق(سفیدی) مراد لیتے ہیں جو سرخی کے غائب ہو جانے کے تھوڑی دیر تک رہتی ہے اور یہی راجح اور قابل عمل ہے۔ ’’ألشفق البیاض الذي بعد الحمرۃ‘‘(۳)
حدیث شریف میں ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں عشا کب پڑھوں؟ تو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’حین أسود الأفق‘‘ یعنی جب آسمان کے کنارے سیاہ ہو جائیں اور حدیث مرفوع ہے ’’یصلي العشاء حین یسود الأفق‘‘(۱) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کے کنارے سیاہ ہو جانے کے بعد نماز عشاء ادافرمائی ہے، اسی کو حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے دلیل بنایا ہے اور اسی پر تمام احناف کا عمل ہے۔(۲)
(۲) ابن رشد، بدایۃ المجتہد ونہایۃ المقتصد: ج ۱، ص: ۱۰۴۔(شاملہ)
(۳) کتاب الأخیار : ج ۱، ص: ۳۹۔(شاملہ)
(۱) أخرجہ أبو داود، في سننہ، ’’کتاب الصلاۃ: باب في المواقیت‘‘: ج ۱، ص: ۵۷، رقم: ۳۹۴۔
(۲) ووقت المغرب منہ إلی غیبوبۃ الشفق وہو الحمرۃ عندہما وبہ یفتی۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب الأول: في المواقیت وما یتصل بہا، الفصل الأول: في أوقات الصلاۃ‘‘، ج ۱، ص:۱۰۷)
فقال عروۃ سمعت بشیر بن أبي مسعود یقول سمعت أبا مسعود الأنصاری یقول: سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: نزل جبریل علیہ السلام فأخبرني بوقت الصلاۃ فصلیت معہ ثم صلیت معہ ثم صلیت معہ ثم صلیت معہ ثم صلیت معہ یحسب بأصابعہ خمس صلوات فرأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یصلي المغرب حین تسقط الشمس ویصلي العشاء حین یسود الأفق۔ (أخرجہ ابوداؤد في سننہ،کتاب الصلاۃ: باب في المواقیت‘‘: ج ۱، ص: ۵۷، رقم: ۳۹۴)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند ج 4 ص: 42
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھ کر معروف طریقہ پر باندھنا سنت ہے، ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنے پر امام شافعیؒ وامام مالکؒ کا بھی یہی مسلک ہے۔ صرف فرق اتنا ہے کہ عند الشافعی ومالک ہاتھ ناف سے اوپر اور امام اعظمؒ کے نزدیک ناف سے نیچے باندھے جائیں۔ امام مالکؒ کا ایک قول ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنے کا ہے، ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنے سے متعلق متعدد احادیث وارد ہوئی ہیں۔ جن سے ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنا ثابت ہے۔(۱) اور حضرت جبرئیل علیہ السلام نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اولاً جو نماز سکھلائی ہاتھ باندھنا اسی وقت سے ثابت ہے۔(۲)
(۱) أخرجہ مالک، في المؤطأ، ’’کتاب الصلاۃ: باب وضع الیدین إحداہاعلی الآخر‘‘ یضع الیمنی علی الیسری۔ (ج۱، ص: ۱۵۸، رقم: ۴۶)
قال کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یؤمنا فیأخذ شمالہ بیمینہ الخ۔ (أخرجہ الترمذي في سننہ، ’’أبواب الصلاۃ عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، باب وضع الیمین علی الشمال في الصلاۃ‘‘: ج ۱، ص: ۵۹، رقم: ۲۵۲، مکتبہ بلال، دیوبند)
(۲) قال محمد ویضع بطن کفہ الأیمن علی رسغہ الأیسر تحت السرۃ فیکون الرسغ في وسط الکف۔ (یعقوب بن إبراہیم، کتاب الآثار بروایۃ محمد، ’’کتاب الصلاۃ: باب الصلوۃ قاعدًا والتعمد علی إلی سترۃ الشيء أو یصلي‘‘: ج۱، ص: ۳۱۹، رقم: ۱۲۰)
فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج4 ص321