Frequently Asked Questions
زکوۃ / صدقہ و فطرہ
Ref. No. 1297/42-649
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ مذکورہ صورت میں زکوۃ دہندہ کی زکوۃ ادا نہیں ہوگی، صورت واقعہ سے اس کو آگاہ کردیاجائے، تاکہ وہ دوبارہ زکوۃ اداکرے، اگر سفیر مذکور اپنی طرف سے اتنی رقم مدرسہ میں جمع کردے اور زکوۃ دہندہ کو بتادے، تو زکوۃ ادا ہوجائے گی، تاہم سفیر کی حیثیت امین کی ہے، اور امانت ضائع ہونے کی صورت میں امین پر ضمان لازم نہیں آتا۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
متفرقات
Ref. No. 39 / 875
الجواب وباللہ التوفیق
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ قرآن کریم میں لفظ ”بقر“ استعمال ہوا ہے جس کے معنی گائے، بیل اور بھینس کے ہیں۔ یعنی لفظ بقر کا اطلاق گائے ، بیل اور بھینس سب پر ہوتا ہے۔ اس لئے اس کا ثبوت قرآن سے ہی ہوا۔ البتہ فقہ نے اس کو باہر نکال کر مسئلہ کو واضح کردیا ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
متفرقات
Ref. No. 40/969
الجواب وباللہ التوفیق
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ تعبیر اچھی ہے، خوشی میسر ہوگی، بیماری سے شفا ملے گی اور عبادت کی توفیق ملےگی ان شاء اللہ۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
فقہ
Ref. No. 1033/41-202
الجواب وباللہ التوفیق
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ وضاحت مطلوب ہے کہ جب اقبال کے نام ایگریمنٹ ہوگیا تھا تو پھر رسید زید کے نام سے ہی کیوں کٹتی رہی اوررسید کے پیسے کون اور کس کے حصہ سے دیتا رہا۔ کیالگان کے پیسے اقبال کے حصہ سے بھی ادا ہوتے رہے، یہ بھی واضح کریں کہ مذکورہ 22 کٹھہ زمین کیا اقبال کو زید کی جائداد سے حصہ میں ملی تھی ، نیز یہ بھی بتائیں کہ اقبال مرحوم کے کل وارثین کتنے ہیں؟
سوال کو اچھی طرح تفصیل کے ساتھ مرتب کریں اور پھر ارسال کریں تاکہ جواب دیا جاسکے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
زیب و زینت و حجاب
Ref. No. 1372/42-786
الجواب وباللہ التوفیق
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ دونوں بھویں اگر ملی ہوئی ہیں اور گھنی ہیں جو بھدی معلوم ہوتی ہیں تودونوں بھؤوں کے درمیان کے بالوں کو بقدر ضرورت کاٹ کر معتدل کرنے کی گنجائش ہے، گرچہ ایسا کرنا بہتر نہیں ہے۔
ولا باس باخذ الحاجبین وشعر وجہہ مالم یتشبہ بالمخنث کذا فی الینابیع (الھندیۃ ، الباب التاسع عشر فی الختان 5/358) (حاشیۃ الطحطاوی، باب الجمعۃ 1/526)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
اسلامی عقائد
Ref. No. 1768/43-1500
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ جمعہ کی نماز اگر کسی وجہ سے درست نہیں ہوئی، تو وقت کے اندر دوبارہ جمعہ کی نماز دو رکعت پڑھ لی جائے، اور اگر وقت نکلنے کے بعد فساد کا علم ہوا تو اب ظہر کی چار رکعت قضاء کی جائے گی۔ قضاء انفرادی ہوگی اور بہر صورت ظہر کی چار رکعت ہی پڑھی جائے گی۔ اگر کسی نے دو رکعت قضاء میں پڑھی تو وہ دوبارہ چار رکعت ظہر کی قضاء کرے۔ اس لئے آپ اگلے دن ظہر میں اور پھر اگلے جمعہ کو بھی اعلان کردیں کہ جن لوگوں نے کذشتہ جمعہ کو جمعہ کی نماز اس مسجد میں پڑھی تھی وہ اپنی نماز دوہرالیں اور ظہر کی چار رکعت بطور قضاء کے پڑھ لیں۔
وکذا اہل مصر فاتتھم الجمعۃ فانھم یصلون الظھر بغیراذان ولا اقامۃ ولاجماعۃ (شامی، 2/157 سعید)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
حدیث و سنت
Ref. No. 2201/44-2326
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ اس سلسلہ میں شمائل کبریٰ مؤلفہ مولانا مفتی محمد ارشاد صاحب بہت مفید کتاب ہے، اس میں زندگی کے ہر پہلو کی سنتوں کو مدلل انداز میں بیان کیاگیا ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
نماز / جمعہ و عیدین
Ref. No. 2435/45-3685
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ سجدہ کی جگہ کو عمل قلیل (ایک ہاتھ) سے صاف کرنا یا ہلکے انداز میں پھونک مار کرصاف کرنا مکروہ ہے، البتہ اگر عمل کثیر ہو یا اس قدر زور سے پھونک مارے کہ اس میں آواز معلوم ہو تو یہ مفسد نماز ہے۔
عَنْ أَبِیْ ذَرٍّ رضی اللہ عنہ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((إِذَا قَامَ أَحَدُکُمْ إِلَی الصَّلاَۃِ فَإِنَّ الرَّحَمْۃَ تُوَاجِہُہُ فَلاَ یَمْسَحِ الْحَصٰی (وَفِیْ رِوَایَۃ)ٍ فَلاَ یُحَرِّکِ الْحَصٰی، أَوْ لَا یَمَسََّ الْحَصٰی۔ (مسند احمد: ۲۱۶۵۶)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
قرآن کریم اور تفسیر
الجواب وباللّٰہ التوفیق:مباہلہ کے معنی ایک دوسرے پر لعنت وبددعا کرنے کے ہیں۔ دو افراد یا دو گروہ جو اپنے آپ کو حق بجانب سمجھتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کے مقابلے میں بارگاہ الٰہی میں التجا کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ خداوند تعالیٰ جھوٹے پر لعنت کرے تاکہ سب کے سامنے واضح ہوجائے کہ کو ن سا فریق حق پرہے۔
قرآن کریم کی سورہ آل عمران میں مباہلہ کا واقعہ بیان کیا گیا ہے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران کے نصاری کی جانب ایک فرمان بھیجا جس میں تین چیزیں ترتیب وار ذکر کی گئیں (۱) اسلام قبول کرو (۲) یا جزیہ ادا کرو (۳) یا جنگ کے لیے تیار ہوجاؤ۔ نصاریٰ نے آپس میں مشورہ کرکے شرحبیل، عبد اللہ بن شرحبیل، اور جبار بن قیص کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا ان لوگوں نے آکر مذہبی امور پر بات چیت کی یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت ثابت کرنے میں ان لوگوں نے انتہائی بحث وتکرار سے کام لیا اتنے میں یہ آیت مباہلہ نازل ہوئی اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نصاریٰ کو مباہلہ کی دعوت اور انھوں نے یہ دعوت قبول کرلی؛ لیکن مقررہ وقت پر انھوں نے مباہلے سے اجتناب کیا؛ کیونکہ انھوں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے قریب ترین افراد یعنی اپنی بیٹی: فاطمہ زہراء، اپنے داماد حضرت علی رضی اللہ عنہ، اپنے نواسوں اور فرزندوں حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کو ساتھ لے کر آئے ہیں، چنانچہ شرحبیل نے اپنے دونوں ساتھیوں سے کہاکہ تمہیں معلوم ہے کہ یہ اللہ کانبی ہے اور نبی سے مباہلہ کرنے میں ہماری ہلاکت اور بربادی یقینی ہے؛ اس لیے نجات کا کوئی راستہ تلاش کرو بالآخر ان لوگوں نے صلح کی تجویز منظور کرلی اور اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت ظاہر ہوگئی۔(۱)
(۱) مفتي محمد شفیع العثمانيؒ، معارف القرآن: ج ۲، ص: ۸۵۔
وکان أہل نجران جاؤا إلی النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم لیناظروہ في أمر عیسیٰ علیہ السلام فلما لم یقبلوا الحق دعاہم إلی المباہلۃ، فہذا دلیل علی أن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قد بأہلہم علی حیاتہ أیضاً۔ (الکشمیري، فیض الباري علی صحیح البخاري، ’’باب قصۃ أہل نجران‘‘: ج ۵، ص: ۱۴۰، رقم: ۴۳۸۲)
فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج2ص51
تجارت و ملازمت
Ref. No. 2686/45-4144
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ بینک سودی کاروبار کرتاہے، اس لئے اس کے منافع سود پر مشتمل ہوتے ہیں ، لہذا بینک کے شیئر خریدنا جائز نہیں ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند