نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: واضح رہے کہ ایک نماز سے دوسری نماز میں داخل ہونے کے لیے نیت کے ساتھ دوبارہ تکبیر تحریمہ کہنا ضروری ہے۔ صورت مذکور میں سنت ادا کرنے کی زید نے نیت کی تھی اور اس نے دو رکعت ادا بھی کر لی تھی، لیکن وہ سلام پھیرنے کے بجائے تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو گیا اور تیسری رکعت میں اس نے وتر کی نیت کرلی، تو صورت میں وتر ادا نہیں ہوئی کیوں کہ زید کا وتر کی طرف منتقل ہونا درست نہیں ہے۔ اس لیے وتر کا اعادہ کرنا ہوگا اور چوں کہ سنت کی نیت سے نماز شروع کی ہے، اس لیے دو رکعت سنت نماز درست ہوگئی اور ایک رکعت لغو ہو جائے گی۔
’’الرابع في صفۃ المنوی من الفریضۃ والنافلۃ والأداء والقضاء، أما الصلاۃ فقال في البزازیۃ: إنہ ینوی الفریضۃ في الفرض فقال معزیاً إلی المجتبیٰ ’’لابد من نیۃ الصلاۃ ونیۃ الفرض ونیۃ التعیین الخ‘‘(۱)
’’(قولہ ولا تبطل بنیۃ القطع) وکذا بنیۃ الانتقال إلی غیرہا (قولہ ما لم یکبر بنیۃ مغایرۃ) بأن یکبر ناویا النفل بعد شروع الفرض وعکسہ، أو الفائتۃ بعد الوقتیۃ وعکسہ، أو الاقتداء بعد الإنفراد وعکسہ۔ وأما إذا کبر بنیۃ موافقۃ کأن نوی الظہر بعد رکعۃ الظہر من غیر تلفظ بالنیۃ فإن النیۃ الأولی لا تبطل ویبنی علیہا۔ ولو بنی علی الثانیۃ فسدت الصلاۃ‘‘(۲)
’’قولہ (ولا عبرۃ بنیۃ متأخرۃ) لأن الجزء الخالي عن النیۃ لا یقع عبادۃ فلا یبنی الباقي علیہ، وفي الصوم جوزت للضرورۃ۔، حتی لو نوی عند قولہ اللّٰہ قبل أکبر لا یجوز لأن الشروع یصح بقولہ اللّٰہ فکأنہ نوی بعد التکبیر حلیۃ عن البدائع‘‘(۳)

(۱) ابن نجیم، الاشباہ والنظائر، القاعدۃ الثانیۃ: ص: ۱۵۔
(۲) ابن عابدین،رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب صفۃ الصلاۃ‘‘: ج ۲، ص: ۱۲۶۔
(۳) ابن عابدین، رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب شروط الصلاۃ، مطلب في حضور القلب والخشوع‘‘: ج۲، ص: ۹۴۔

 

فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج4 ص308

متفرقات

Ref. No. 2784/45-4343

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ فرض نماز میں اس طرح کسی آیت کو بار بار دوہرانا پسندیدہ نہیں ہے، تاہم اس کی وجہ سے سجدہ سہو واجب نہ ہوگا خاص طور پر جبکہ تصحیح تلفظ مقصود ہو۔ اسی طرح التحیات میں بھی صحیح پڑھنے کی غرض سے اعادہ کرنے میں حرج نہیں ہے تاہم اس سے سجدہ سہو واجب نہ ہوگا۔  

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: نماز میں قیام یا رکوع کی حالت میں گری ہوئی ٹوپی اٹھا کر سر پر رکھنا جائز نہیں ہے، کیوں کہ اس صورت میں عمل کثیر ہو جائے گا جس سے نماز ہی ٹوٹ جائے گی، البتہ حالت سجدہ میں سر سے گری ہوئی ٹوپی عمل قلیل کے ساتھ مثلاً ایک ہاتھ سے اٹھا کر پہنی جا سکتی ہے، بلکہ ایسا کرنا افضل ہے اس سے نماز میں خرابی نہیں ہوگی۔(۱)
’’ولو سقطت قلنسوۃ فإعادتہا أفضل، إلا إذا احتاجت لتکویر أو عمل کثیر‘‘(۲)

(۱) الأول أن ما یقام بالیدین عادۃ کثیرٌ، وإن فعلہ بید واحدۃ کالتعمم… ولبس القلنسوۃ ونزعہا۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ، و ما یکرہ فیھا‘ النوع الثاني: في الأفعال المفسدۃ للصلوٰۃ‘‘: ج ۱، ص: ۱۶۰، زکریا دیوبند)
(۲) الحصکفي، رد المحتارمع الدرالمختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا‘‘: ج ۲، ص: ۴۰۸، زکریا دیوبند۔

 

فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج6 ص127

بدعات و منکرات

Ref. No. 1102 Alif

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔  گیارہویں منانا کہیں ثابت نہیں، یہ محض ایک رسم ہے، نیز بہت سے اعتقادی ، عملی واخلاقی مفاسد پر مشتمل ہونے کی وجہ سے واجب الترک ہے۔ واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

خوردونوش

Ref. No. 862 Alif

الجواب وباللہ التوفیق                                                                                           

بسم اللہ الرحمن الرحیم: اگرمذکورہ شخص کا کاروبار صرف سود ہی کا ہے، تو اس کے یہاں دعوت میں شرکت جائز نہیں ہے، خواہ اسے تکلیف ہو یا نہ ہو، اللہ تعالی کو ناراض کرکے کسی کوراضی رکھنا عقلمندی نہیں ہے۔ اور اگر مال مخلوط ہو تو اس کی دعوت  میں شرکت کی گنجائش ہے۔ مذکورہ کاپی میں چندہ جمع کرکے نیت کرنے سے کوئی حاصل نہیں ہوگا۔ ردالمحتار لابن عابدین الشامی ، الاشباہ والنظائر لابن نجیم المصری  اور فتاوی محمودیہ للشیخ محمود گنگوہی میں یہ وضاحت موجود ہے حوالہ کے لئے دیکھ سکتے ہیں۔ واللہ تعالی اعلم

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

اسلامی عقائد

Ref. No. 38/ 931

الجواب وباللہ التوفیق                                                                                                                                                        

بسم اللہ الرحمن الرحیم: مذکورہ شخص خارج از ایمان نہیں ہے۔ واللہ تعالی ا علم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

حدیث و سنت

Ref. No. 39 / 872

الجواب وباللہ التوفیق                                                                                                                                                        

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ ایسی کوئی روایت ہماری نظر سے نہیں گزری، ہوسکتا ہے کسی بزرگ کا قول ہو اور انھوں نے کسی خاص پس منظر میں کہا ہو؛  البتہ کار ثواب ہے ، دین کی فکر میں لگے رہنا محبوب عمل ہے ان شاء اللہ اس پر ثواب مرتب ہوگا۔   واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

ربوٰ وسود/انشورنس

Ref. no. 40/967

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ یہ رقم کمپنی کی طرف سے بطور انعام دی جاتی ہے اس لئے  یہ درست ہے، اس طرح  کے آفر اپنی کمپنی کے تعارف کو عام کرنے کے لئے دئے جاتے ہیں ، اس کو سود نہیں  کہا جاسکتا ۔ واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

اسلامی عقائد

Ref. No. 1047/41-212

الجواب وباللہ التوفیق     

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ بڑے جانور میں سات حصے ہوتے ہیں۔ پہلے دن کی قربانی میں ایک شخص چار حصے اور دوسرا تین حصے لے لے، اور تیسرے دن کی قربانی میں پہلا تین حصے اور دوسرا چار حصے لے لے یہ زیادہ بہتر ہے۔ اور اگردونوں نے ایک  جانور میں  نصف نصف  کی  شرکت پر قربانی کی تو یہ بھی جائز ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

ذبیحہ / قربانی و عقیقہ

Ref. No. 1494/42-996

وباللہ التوفیق:۔ مسئلہ صحیح ہے اگر ایام قربانی میں غریب قربانی کی نیت سے جانور  خریدے گا تو اس مخصوص جانور کی قربانی اس پر واجب ہوگی۔ غریب کے حق میں قربانی کی نیت سے جانور خریدنا نذر کے درجہ میں ہے جس کا پورا کرنا واجب ہے۔ ایام قربانی سے پہلے خریدنے کا یہ حکم نہیں ہے، اور نہ ہی اس  کی قربانی اس پر واجب ہوگی۔

وإن كان معسرا أجزأته إذ لا أضحية في ذمته، فإن اشتراها للأضحية فقد تعينت الشاة للأضحية (الھندیۃ الباب الخامس بی بیان محل اقامۃ الواجب 5/299) وتجب على الفقير بالشراء بنية التضحية عندنا، فإذا فات الوقت وجب عليه التصدق إخراجا له عن العهدة (فتح القدیرللکمال، کتاب الاضحیۃ 9/514)۔ وأما الذي يجب على الفقير دون الغني فالمشتري للأضحية إذا كان المشتري فقيرا بأن اشترى فقير شاة ينوي أن يضحي بها --- (ولنا) أن الشراء للأضحية ممن لا أضحية عليه يجري مجرى الإيجاب وهو النذر بالتضحية عرفا؛ لأنه إذا اشترى للأضحية مع فقره فالظاهر أنه يضحي فيصير كأنه قال: جعلت هذه الشاة أضحية ۔۔۔ ولو كان في ملك إنسان شاة فنوى أن يضحي بها أو اشترى شاة ولم ينو الأضحية وقت الشراء ثم نوى بعد ذلك أن يضحي بها لا يجب عليه سواء كان غنيا أو فقيرا؛ لأن النية لم تقارن الشراء فلا تعتبر (بدائع الصنائع، صفۃ التضحیۃ 5/62)۔

وفي الاختيار: لا تجب الأضحية على الفقير، لكنها تجب بالشراء، ويتعين ما اشتراه للأضحية. فإن مضت أيام الأضحية ولم يذبح، تصدق بها حية؛ لأنها غير واجبة على الفقير، فإذا اشتراها بنية الأضحية تعينت للوجوب، والإراقة إنما عرفت قربة في وقت معلوم، وقد فات فيتصدق بعينها (الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ، الالتزام او التعیین بالنیۃ او القول 12/167).

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند