Frequently Asked Questions
متفرقات
Ref. No. 1761/43-1493
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔جنت کے معنی ٹھیک ہیں ، اس لئے نام رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، تاہم کسی صحابی اور کسی بزرگ نے اپنی بیٹی کا نام اس طرح نہیں رکھا، حدیث میں اس کی نظیر بھی نہیں ملتی ہے، اس لئے بہتر ہے کہ کسی صحابیہ کے نام پر بیٹیوں کا نام رکھاجائے۔ جنت کے معنی باغ کے ہیں اور آخرت میں ایمان والوں کا جو مسکن ہے اس کو جنت کہتے ہیں۔
الجنۃ: الحدیقۃ ذات النخل والشجر ، الجنۃ: البستان، الجنۃ: دارالنعیم فی الاخرۃ، والجمع جنان (معجم الوسیط)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
طہارت / وضو و غسل
Ref. No. 1971/44-1913
بسم اللہ الرحمن الرحیم: ابالنے کے لئے رکھا ہوا پانی قلیل ہے، اس لئے اس میں نجس انڈا ڈالنے سے پانی ناپاک ہوجائے گا، البتہ انڈا پاک رہے گا اور اس کا چھلکا اتارنے کے بعد اس کو کھایا جاسکتاہے۔ نجاست کے اثرات انڈے تک منتقل نہیں ہوتے ہیں۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 318):
"(و بول غير مأكول و لو من صغير لم يطعم) إلا بول الخفاش و خرأه ... (و خرء) كل طير لايذرق في الهواء كبط أهلي (و دجاج) أما ما يذرق فيه، فإن مأكولًا فطاهر و إلا فمخفف (و روث وخثي) أفاد بهما نجاسة خرء كل حيوان غير الطيور. و قالا: مخففة. و في الشرنبلالية قولهما أظهر.
(قوله: أفاد بهما نجاسة خرء كل حيوان) أراد بالنجاسة المغلظة؛ لأن الكلام فيها و لانصراف الإطلاق إليها كما يأتي، و لقوله و قالا: مخففة، وأراد بالحيوان ما له روث أو خثي: أي: سواء كان مأكولا كالفرس والبقر، أو لا كالحمام وإلا فخرء الآدمي وسباع البهائم متفق على تغليظه كما في الفتح والبحر وغيرهما فافهم. (قوله: وفي الشرنبلالية إلخ) عزاه فيها إلى [مواهب الرحمن] لكن في النكت للعلامة قاسم أن قول الإمام بالتغليظ رجحه في المبسوط وغيره اهـ ولذا جرى عليه أصحاب المتون".
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
تجارت و ملازمت
Ref. No. 2145/44-2204
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ کسی ناجائز کام میں براہِ راست استعمال کے لئے اپنا مکان یا زمین دینا گناہ کے کام میں تعاون کی وجہ سے جائز نہیں ہے۔ اس لئے فلم بنانے کے لئے اور شوٹنگ کے لئے کرایہ پر دینا جائز نہیں ہے، البتہ فلم والوں کی رہائش کے لئے یا کھانا بنانے کے لئے کرایہ پر دینے کی گنجائش ہے۔
تَعَاوَنُواْ عَلَى الْـبِـرِّ وَالتَّقْوَى وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ. الْمَآئِدَة، 5: 2
وَلَا بَأْسَ بِأَنْ يُؤَاجِرَ الْمُسْلِمُ دَارًا مِنْ الذِّمِّيِّ لِيَسْكُنَهَا فَإِنْ شَرِبَ فِيهَا الْخَمْرَ، أَوْ عَبَدَ فِيهَا الصَّلِيبَ، أَوْ أَدْخَلَ فِيهَا الْخَنَازِيرَ لَمْ يَلْحَقْ الْمُسْلِمَ إثْمٌ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ؛ لِأَنَّهُ لَمْ يُؤَاجِرْهَا لِذَلِكَ وَالْمَعْصِيَةُ فِي فِعْلِ الْمُسْتَأْجِرِ وَفِعْلُهُ دُونَ قَصْدِ رَبِّ الدَّارِ فَلَا إثْمَ عَلَى رَبِّ الدَّارِ فِي ذَلِكَ. (سرخسى، المبسوط، 16: 39، بيروت: دارالمعرفة) (الشيخ نظام و جماعة من علماء الهنديه، الفتاویٰ الهنديه، 4: 450، بيروت: دارالفکر)
وَمَنْ أَجَّرَ بَيْتًا لِيُتَّخَذَ فِيهِ بَيْتُ نَارٍ أَوْ كَنِيسَةٌ أَوْ بِيعَةٌ أَوْ يُبَاعُ فِيهِ الْخَمْرُ بِالسَّوَادِ فَلَا بَأْسَ بِهِ.(مرغيناني، الهداية، 4: 94، المکتبة الاسلاميه)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
طہارت / وضو و غسل
Ref. No. 2270/44-2430
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ اگر ختنہ ہوا ہو تو عضو تناسل کے ظاہری حصہ کا دھونا فرض ہے، اس کے اندرونی حصہ میں پانی پہنچانا فرض نہیں ہے۔ اور اگر ختنہ نہیں ہوا ہے تو چمڑے کو اوپر چڑھاکر سپاری کو دھونا ضروری ہے لیکن پیشاب کے راستہ میں پانی داخل کرنا ضروری نہیں ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
اسلامی عقائد
اسلامی عقائد
الجواب وباللّٰہ التوفیق:اوڑھنا اور لباس جوڑا وغیرہ کی یہ رسم ہندوانی رسم ہے، جو قابل ترک ہے۔(۱)
(۱) عن عائشۃ رضي اللّٰہ عنہا، قالت: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: من أحدث في أمرنا ہذا ما لیس فیہ فہو ردٌّ۔ (أخرجہ البخاري، في صحیحہ، ’’کتاب الصلح، باب إذا اصطلحوا علی صلح جور‘‘: ج ۱، ص: ۳۷۱، رقم: ۲۶۹۷)
فکم من مباح یصیر بالالتزام من غیر لزوم والتخصیص بغیر مخصص مکروہا۔ (سیاحۃ الفکر: ج ۳، ص: ۳۴)
فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج1ص454
اسلامی عقائد
الجواب وباللّٰہ التوفیق:اس رات قبرستان میں لائٹیں لگوانے اور کھانا تقسیم کرنے وغیرہ امور کی کوئی اصل شریعت میں نہیں ہے؛(۱) تاہم یہ رات فضائل والی رات ہے، اس وجہ سے اپنے گھر پر نفل عبادات میں مشغول رہنا مستحب ہے؛ جب تک بشاشت ہو گھر میں عبادت کریں(۲) ورنہ سوجائیں، خرافات میں وقت ضائع نہ کریں۔
(۱) وکل ہذہ بدع ومنکرات لا أصل لہا في الدین ولا مستد لہا في الکتاب والسنۃ … ویجب علی أہل العلم أن ینکروہا۔ (علامہ أنور شاہ الکشمیري، معارف السنن، ’’باب التشدید في البول‘‘: ج ۱، ص: ۲۶۶)
(۲) عن علي رضي اللّٰہ عنہ، قال النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم: إذا کانت لیلۃ النصف من شعبان فقوموا لیلہا وصوموا یومہا۔ (مشکوٰۃ المصابیح، ’’کتاب الصلاۃ: باب قیام شہر رمضان، الفصل الثالث‘‘: ص : ۱۱۵، رقم: ۱۳۰۸)
فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج1ص502
قرآن کریم اور تفسیر
الجواب وباللّٰہ التوفیق:مزمل اس شخص کو کہتے ہیں جو بڑے کپڑے کو اپنے اوپر لپیٹ لے اور مدثر اس شخص کو کہا جاتا ہے جو آدمی عام لباس کے اوپر سردی وغیرہ سے بچنے کے لئے لپیٹ لیتا ہے۔(۱) حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کے ترجمہ میں کیا خوب فرق ہے۔
{یآ أیہا المزمل} اے کپڑے میں لپٹنے والے، {یا أیہا المدثر} اے لحاف میں لپٹنے والے۔
(۱) {یا أَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ} یعني الذي ضم علیہ ثیابہ، یعني النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم وذلک أن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم خرج من البیت وقد لیس ثیابہ، فناداہ جبریل علیہ السلام: {یا أَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ} الذي قد تزمل بالثیاب وقد ضمہا علیہ۔ (أبو الحسن مقاتل بن سلمان، تفسیر مقاتل بن سلیمان، ’’سورۃ مزمل:۱‘‘ ج ۴، ص: ۴۷۵)
والتزمیل: اللف في الثوب، ومنہ حدیث قتلی أحد: زملوہم بثیابہم، أي لفوہم فیہا، وفي حدیث السقیفۃ: فإذا رجل مزمل بین ظہرانیہم، أي مغطي مدثر، یعني سعد بن عبادۃ، وقال إمرؤ القیس: کبیر أناس في بجاد مزمل وتزملأ: تلفف بالثوب، وتدثر بہ، کازمل، علی أفعل، ومنہ قولہ تعالی: یا أیہا المزمل، قال أبو إسحاق: أصلہ المتزمل، والتاء تدغم في الزای لقربہا منہا، یقال: تزمل فلان،… إذا تلفف بثیابہ۔ (محمد بن محمد، تاج العروس: ج ۲۹، ص: ۱۳۸)
وقال الفراء: في قولہ تعالی {یأیہا المدثر} یعني المتدثر بثیابہ إذا نام۔ وفي الحدیث: (کان إذا نزل علیہ الوحي یقول: دثروني دثرون) أي غطوني بما أدفأ بہ۔ وفي حدث الأنصار: (أنتم الشعار والناس الدثار) یعني أنتم الخاصۃ والناس العامۃ (ودثر الشجر) دثورا۔ (أورق) وتشعبت خطرتہ۔
(و) دثر (الرسم) وغیرہ۔ (درس) وعفا بہبوب الریاح علیہ، (کتداثر)، یقال: فلان جدہ عاثر، ورسمہ داثر۔
(و) عن ابن شمیل: دثر (الثوب) دثورا: (اتسخ۔ و) دثر (السیف)، إذا (صدیء، فہو داثر)، وہو البعید العہد بالصقال، وہو مجاز۔ (محمد بن محمد، تاج العروس: ج ۱، ص: ۲۸۱)
فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج2ص53
بدعات و منکرات
الجواب وباللّٰہ التوفیق:ایسی کوئی حدیث نظر سے نہیں گذری، ہاں جہاد فی سبیل اللہ سے متعلق اس طرح کی کچھ احادیث ملتی ہیں۔ بعض اہل جماعت ان روایات کو مروجہ تبلیغ کی جانب منسوب کر لیتے ہیں یہ مناسب نہیں ہے، مگر اللہ تعالیٰ سے ثواب میں اضافے کی امید رکھنی چاہئے، لیکن مذکورہ تقابل جہالت ہے اس سے پرہیز کرنا چاہئے۔(۱)
(۱) عن سہل بن معاذ عن أبیہ رضي اللّٰہ عنہما، قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: إن الصلاۃ والصیام والذکر یضاعف علی النفقۃ في سبیل اللّٰہ بسبع مائۃ ضعف۔ (أخرجہ أبو داود، في سننہ، ’’کتاب الجہاد: باب تضعیف الذکر في سبیل اللّٰہ‘‘: ج ۱، ص: ۳۳۸)
وعن علي وأبي الدرداء وأبي ہریرۃ وأبي أمامۃ وعبد اللّٰہ بن عمر وجابر بن عبد اللّٰہ وعمران بن حصین رضي اللّٰہ عنہم أجمعین کلہم یحدث عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أنہ قال: من أرسل نفقۃ في سبیل اللّٰہ وأقام في بیتہ، فلہ بکل درہم سبعمائۃ درہم ومن غزا بنفسہ في سبیل اللّٰہ وأنفق في وجہہ ذلک، فلہ بکل درہم سبعمائۃ ألف درہم۔ ثم تلا ہذہ الآیۃ: {واللَّہُ یُضاعفُ لمنْ یشائُ}۔ رواہ ابن ماجہ۔ (مشکوٰۃ المصابیح، ’’کتاب الجہاد: الفصل الثالث‘‘: ج ۲، ص: ۳۳۵)
فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج2ص297
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللّٰہ التوفیق:ان کے ذہن میں بھی آیت قرآنی کے خلاف کرنا ہرگز نہیں ہوتا۔ بلکہ دعاء میں سب شریک ہوجائیں اور جو الفاظ خلوص کے ساتھ زبان سے نکل رہے ہیں سب اس پر آمین کہیں یہی ان کا مقصد ہوتا ہے۔(۱)
(۱) {أُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃً ط إِنَّہٗ لَایُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ ہج ۵۵} (سورۃ الأعراف: ۵۵)
قلت ہذا الحدیث وإن کان دالاً علی أفضلیۃ الذکر الخفي لکن قولہ: ’’أربعوا علی أنفسکم‘‘ یدل علی أن النہي عن الجہر والأمر بالإخفاء إنما ہو شفقۃ لا لعدم جواز الجہر أصلاً وکذا حدیث ’’خیر الذکر الخفي‘‘ (ثناء اللّٰہ پاني پتي، تفسیر مظہري، ’’سورۃ الأعراف: ۵۵‘‘: ج ۳، ص: ۳۸۶)
وفصل آخرون فقالوا: الإخفاء أفضل عند خوف الریاء والإظہار أفضل عند عدم خوفہ الخ۔ (علامہ آلوسي، روح المعاني، ’’سورۃ الأعراف: ۵۵‘‘: ج ۵، ص: ۲۰۸)
فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج2ص390