نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق: اقامت جمعہ کے لیے بنیادی شرط بڑی آبادی کا ہونا ہے ایک ایسی آبادی جہاں ضروریات کی تمام چیزیں ملتی ہوں مثلاً: ڈاکخانہ، میڈیکل وغیرہ، حضرات اہل علم نے تین ہزار یا اس کے آس پاس کی آبادی کو بڑی آبادی شمار کیا ہے، اتنی بڑی آبادی میں جمعہ کی نماز قائم کی جاسکتی ہے۔ سوال میںجو صورت حال مذکور ہے، اس میں جمعہ قائم کرنا درست نہیں ہے۔ لوگوں میں نماز کی ترغیب کے لیے دوسرے طریقے استعمال کئے جائیں۔’’(یشترط لصحتہا) سبعۃ أشیاء: الأول (المصر)، الثاني: (السلطان)، والثالث: (وقت الظہر)، والرابع: (الخطبۃ فیہ)، الخامس: (کونہا قبلہا)، السادس: (الجماعۃ)، السابع: (الإذن العام)‘‘(۱)’’عن علي رضي اللّٰہ عنہ قال: لا جمعۃ ولا تشریق إلافي مصر جامع و کان یعد الأمصار: البصرۃ و الکوفۃ والمدینۃ و البحرین‘‘(۲)’’وفي التاتارخانیۃ: ثم ظاہر روایۃ أصحابنا لا تجب إلا علی من یسکن المصر أو ما یتصل بہ، فلا تجب علی أہل السواد ولو قریباً و ہذا أصح ما قیل فیہ و بہ جزم في التجنیس‘‘(۳)

(۱) ابن عابدین، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘: ج ۳، ص: ۵ تا ۲۵۔(۲) أخرجہ عبد الرزاق، في مصنفہ، ’’کتاب الصلاۃ، کتاب الجمعۃ: باب القری الصغار‘‘: ج ۳، ص: ۱۶۸، رقم: ۵۱۷۷۔(۳) ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ، مطلب: في شروط وجوب الجمعۃ‘‘: ج ۳، ص: ۲۷۔

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 71

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق: کمپنی چوں کہ شہر کی مانندجگہ پر واقع ہے جیسا کہ سوال میں صراحت ہے، اس لیے اس جگہ جمعہ کی نماز قائم کی جاسکتی ہے اور چار پانچ لوگ مل کر جمعہ کی نماز پڑھ سکتے ہیں، بہتر ہے کہ ایسی جگہ جمعہ کا اہتمام کیا جائے کہ اگر کمپنی کے ملازمین کے علاوہ بھی کوئی آنا چاہے، تو آسکے تاکہ اذن عام کی شرط پر بھی اچھی طرح عمل ہوجائے۔’’السلطان إذا أراد أن یجمع بحشمہ في دارہ فإن فتح باب الدار وأذن إذنا عاما جازت صلاتہ شہدہا العامۃ أو لم یشہدوہا، کذا في المحیط‘‘(۱)(۱) جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب السادس عشر: في صلاۃ الجمعۃ‘‘: ج ۱، ص: ۲۰۹۔(وفاقدہا) أي ہذہ الشروط أو بعضہا (إن) اختار العزیمۃ و(صلاہا وہو مکلف)   بالغ عاقل (وقعت) فرضا عن الوقت لئلا یعود علی موضوعہ بالنقض وفي البحر: ہي أفضل إلا للمرأۃ۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ، مطلب: في شروط الجمعۃ‘‘: ج ۳، ص: ۲۹)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 70

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق: جمعہ کے لیے اذن عام کی شرط ائمہ اربعہ میں سے صرف احناف کے یہاں ہے اور احناف کے یہاں بھی ظاہر الروایت نہیں ہے، اسی وجہ سے صاحب ہدایہ نے اس شرط کو ذکر نہیں کیا ہے، ہاں نوادر کی روایت کے مطابق اذن عام کو شرط قرار دیا گیا ہے۔دوسری بات یہ کہ موجودہ حالات میں حکومت کی طرف سے جو پانچ چھ سے زائد لوگوں کو منع کیا جارہا ہے یہ قانونی اور حکومتی پابندی کی بنا پر ہے اور ایسی ممانعت اذن عام کے منافی نہیں ہے کیوں کہ مقصد لوگوں کو نماز جمعہ سے روکنا نہیں ہے؛ بلکہ قانون شکنی کی صورت میں ہونے والی بڑی پریشانی سے بچنا ہے مساجد تو خدا کا گھر ہیں جہاں ہر حال میں اذن عام پایا جاتا ہے اس وقت اگر ناگزیر حالات کی بنا پر عام لوگوں کو مسجد میں نماز پڑھنے سے منع کیا جارہاہے تو یہ درحقیقت نماز سے روکنا نہیں ہے بلکہ مضر صحت ہونے کی وجہ سے بھیڑ سے روکنا ہے اس سے مسجد کی نماز جمعہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے، اس لیے مسجد میں جمعہ کی نماز بلاکراہت درست ہے۔جہاں تک مسئلہ ہے گھر میں اذن عام کا ہونا یا نہ ہونا، یہاں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ اگر کسی علاقے میں جمعہ کے شرائط پائے جاتے ہوں تو وہاں پر اذن عام کی اس درجہ شرط ضروری نہیں بلکہ اگر کسی وجہ سے عام لوگوں کو منع بھی کیا جائے تو بھی جمعہ کی نماز ہوجاتی ہے حضرات اکابر نے اس فیکٹری اور کمپنی میں نماز جمعہ کی اجازت دی ہے جس میں سیکیورٹی اورسامان کی حفاظت کی خاطر عام لوگوں کو آنے کی اجازت نہیں ہے۔چناں چہ امداد الفتاوی میں لکھا ہے کہ: اگر چھاؤنی میں جمعہ ادا کیا جائے تو جائز ہے گو چھاؤنی اور قلعے میں دوسرے لوگ نہ آسکتے ہوں؛ کیوں کہ مقصود نماز سے روکنا نہیں ہے بلکہ انتظام مقصود ہے۔(۱)(۱) مولانا أشرف علي تھانوي رحمۃ اللّٰہ علیہ، إمداد الفتاوی،   ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ الجمعۃ والعیدین‘‘: ج ۱، ص: ۶۱۰، زکریا، دیوبند۔وشرط أدائہا أیضاً الإذن العام من الإمام حتی لو غلق بابہ وصلی باتباعہ لا تجوز۔ (النہر الفائق، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘:  زکریا، دیوبند،ج ۱، ص: ۳۶۰)ومنہا: الإذن العام وہو أن تفتح أبواب الجامع فیؤذن للناس کافۃ حتی أن جماعۃ لو اجتمعوا في الجامع وأغلقوا أبواب المسجد علی أنفسہم وجمعوا لم یجز۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب السادس عشر: في صلاۃ الجمعۃ‘‘: ج ۱، ص: ۲۰۹)قال وإذا دخل القوم مسجداً قد صلی فیہ أہلہ کرہت لہم أن یصلوا جماعۃ بأذان وإقامۃ ولکنہم یصلون وحداً بغیر أذان وإقامۃ لحدیث الحسن قال: کانت الصحابۃ إذا فاتتہم الجماعۃ فمنہم من اتبع الجماعات ومنہم من صلی في مسجدہ بغیر أذان والإقامۃ۔ (سرخسي، المبسوط، ’’کتاب الصلاۃ: باب الأذان‘‘: ج ۱، ص: ۲۸۰؛ وابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الإمامۃ، مطلب: في تکرار الجماعۃ في المسجد‘‘: ج ۲، ص: ۲۸۹)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 68

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق: جمعہ کی سات شرطیں فقہ کی کتابوں میں مذکور ہیں (۱)مصر یعنی شہر یا بڑی آبادی کا ہونا (۲) سلطان (۳) ظہر کا وقت ہونا (۴) خطبہ کا ہونا (۵)خطبہ کاجمعہ سے پہلے ہونا (۶) جماعت (۷)اذن عام کا ہونا ۔عیدین میں بھی وہی شرطیں ہیں جو جمعہ میں ہیں سوائے  سلطان اور خطبہ کے ۔لیکن یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اقامت جمعہ کے لیے بنیادی شرط بڑی آبادی کا ہونا ہے ایک ایسی آبادی جہاں ضروریات کی تمام چیزیں ملتی ہوںمثلا ڈاکخانہ ، میڈیکل وغیرہ۔ حضرات اہل علم نے تین ہزار یا اس کے آس پاس کی آبادی کو بڑی آبادی میں شمار کیا ہے ، اتنی بڑی آبادی میں جمعہ قائم کیا جاسکتی ہے۔’’(یشترط لصحتہا) سبعۃ أشیاء: الأول: (المصر)، الثاني: (السلطان)، والثالث: (وقت الظہر)، والرابع: (الخطبۃ فیہ)، الخامس: (کونہا قبلہا)، السادس: (الجماعۃ)، السابع: (الإذن العام)‘‘(۱)’’عن علي رضي اللّٰہ عنہ قال: لا جمعۃ ولا تشریق إلا في مصر جامع وکان یعد الأمصار: البصرۃ و الکوفۃ والمدینۃ والبحرین‘‘(۲)’’وفي التاتارخانیۃ: ثم ظاہر روایۃ أصحابنا لا تجب إلا علی من یسکن المصر أو ما یتصل بہ، فلا تجب علی أہل السواد ولو قریباً و ہذا أصح ما قیل فیہ و بہ جزم في التجنیس‘‘(۳)(۱) الحصکفي، الدرالمختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘: ج  ۳، ص: ۵ تا ۲۵۔(۲) أخرجہ عبد الرزاق في مصنفہ، ’’کتاب الصلاۃ، کتاب الجمعۃ: باب القری الصغار‘‘: ج ۳، ص: ۱۶۸، رقم : ۵۱۷۷۔(۳) ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ، مطلب: في شروط وجوب الجمعۃ‘‘: ج ۳، ص: ۲۷۔

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 67

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق: جن جگہوں پر جمعہ کے شرائط نہیں پائے جاتے ہیں وہاں ظہر کی نماز پڑھنی چاہیے، جمعہ کی نماز درست نہیں ہے اگر کسی نے جمعہ کی نماز پڑھ لی تو اس کی نماز نہیں ہوئی اس کو ظہر کی نماز لوٹانی ہوگی۔(۱)(۱) (لا تصح الجمعۃ إلا في مصر جامع، أو في مصلی المصر، ولا تجوز في القری) لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام: لا جمعۃ ولا تشریق ولا فطر ولا أضحیٰ إلا في مصر جامع۔ (ابن الہمام، فتح القدیر، ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ الجمعۃ‘‘: ج ۲، ص: ۴۷، ۴۸)ولأدائہا شرائط في غیر المصلی: منہا: المصر، ہکذا في الکافي … ومنہا: السلطان عادلا کان أو جائراً، ہکذا في التتارخانیۃ … ومنہا: وقت الظہر حتی لو خرج وقت الظہر في خلال الصلاۃ تفسد الجمعۃ … ومنہا: الخطبۃ قبلہا حتی لو صلوا بلا خطبۃ أو خطب قبل الوقت لم یجز، کذا في الکافي … ومنہا: الجماعۃ وأقلہا ثلاثۃ سوی الإمام، کذا في التبیین … ومنہا: الإذن العام وہو أن تفتح أبواب الجامع فیؤذن للناس کافۃ۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب السادس عشر: في صلاۃ الجمعۃ‘‘: ج ۱، ص: ۲۰۵، ۲۰۹)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 66

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق: بشرط صحت سوال، مذکورہ گاؤں ایک بڑا گاؤں ہے اور بڑے گاؤں میں جمعہ کی نماز جائز ہے۔(۱)(۱) (لا تصح الجمعۃ إلا في مصر جامع، أو في مصلی المصر، ولا تجوز في القری) لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام: لا جمعۃ ولا تشریق ولا فطر ولا أضحیٰ إلا في مصر جامع۔ (ابن الہمام، فتح القدیر، ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ الجمعۃ‘‘: ج ۲، ص: ۴۷، ۴۸)ولأدائہا شرائط في غیر المصلی منہا: المصر ہکذا في الکافي … ومنہا: السلطان عادلا کان أو جائراً، ہکذا في التتارخانیۃ … ومنہا: وقت الظہر حتی لو خرج وقت الظہرفي خلال الصلاۃ تفسد الجمعۃ … ومنہا: الخطبۃ قبلہا حتی لو صلوا بلا خطبۃ أو خطب قبل الوقت لم یجز، کذا في الکافي … ومنہا: الجماعۃ وأقلہا ثلاثۃ سوی الإمام، کذا في التبیین … ومنہا: الإذن العام وہو أن تفتح أبواب الجامع فیؤذن للناس کافۃ۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب السادس عشر: في صلاۃ الجمعۃ‘‘: ج ۱ص: ۲۰۵ تا ۲۰۹)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 65

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق: اتنی بڑی آبادی والا گائوں قریہ کبیرہ ہے اور اس میں جمعہ کی نماز قائم کرنا درست ہے۔(۱)(۱) تقع فرضاً في القصبات والقری الکبیرۃ التي فیہا أسواق۔ (ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘: ج ۳، ص: ۶)قولہ: (شرط ادائہا المصر) أي شرط صحتہا أن تودي في مصر حتی لا تصح في قریۃ ولا مفازۃ۔ (ابن نجیم، البحر الرائق شرح کنز الدقائق، ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ الجمعۃ‘‘: ج ۲، : ۲۴۵)وروي عن أبي حنیفۃ أنہ بلدۃ کبیرۃ فیہا سکک وأسواق ولہا رساتیق وفیہا والٍ یقدر علی إنصاف المظلوم من الظالم بحکمہ وعلمہ أو علم غیرہ، والناس یرجعون إلیہ في الحوادث وہو الأصح۔ (الکاساني، بدائع الصنائع في ترتیب الشرائع، ’’کتاب الصلاۃ: فصل: في بیان شرائط الجمعۃ‘‘: ج ۱، ص: ۵۸۵)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 65

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق: ایسے مسافرین جن پر قصر واجب ہے، اگر وہ کسی ایسی آبادی سے (جس میں جمعہ واجب ہے) گزریں اور اس آبادی کی کسی مسجد میں نماز جمعہ دوسروں کے ساتھ مل کر یا خود پڑھیں تو جائز ہے اوراگر کسی علیحدہ جگہ (بشرطیکہ اس آبادی میں ہو کہ جس میں نماز جمعہ واجب ہو) پر نماز جمعہ ادا کریں، تو بھی جائز ہے۔(۱)(۱) قولہ: (وفي البحر الخ) … إن الظہر لہم رخصۃ فدل علی أن الجمعۃ عزیمۃ وہي أفضل الخ۔ (ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘: ج ۳، ص: ۳۰)و (کرہ) تحریماً (لمعذور ومسجون) ومسافر (أداء ظہر بجماعۃ في مصر) قبل الجمعۃ وبعدہا، کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ، مطلب: في شروط وجوب الجمعۃ‘‘: ج ۳، ص: ۳۲)

ویجوز للمسافر والعبد والمریض أن یؤموا في الجمعۃ، کذا في القدوري۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب السادس عشر: في صلاۃ الجمعۃ‘‘: ج ۱، ص: ۲۰۹)(ویجوز للمسافر والعبد والمریض ونحوہم) خلا امرأ ۃ (أن یؤم في الجمعۃ)؛ لأن عدم وجوبہا علیہم رخصۃ لہم دفعاً للحرج؛ فإذا حضروا تقع قرضاً۔ (اللباب في شرح الکتاب، ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ الجمعۃ‘‘: ج ۱، ص: ۱۲۰)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 64

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق: جس جگہ شرائط جمعہ نہ پائی جائیں اس جگہ کے رہنے والوں پر نماز جمعہ نہ واجب ہے اور نہ ان کے لیے جائز ہے بلکہ ان پر نماز ظہر فرض ہے وہ اپنا فریضہ ظہر پورا کریں اور جہاں پر ایک عرصہ دراز سے نماز جمعہ ہو رہی ہے اور بند کرنے میں اختلافات اور جھگڑوں کا قوی اندیشہ ہے تو وہ اس کو بند نہ کریں کہ اس میں گنجائش ہے۔ اور جس جگہ چند گھروں نے مل کر نماز جمعہ ابھی قائم کر لی ہے ان حضرات کو چاہئے کہ فوراً اس کو ترک کردیں اور اپنی نماز ظہر ادا کریں کہ وہ ان پر فرض ہے؛ اس لیے بغیر ظہر پڑھے فرض ذمہ سے ساقط نہ ہو گا۔ اور جس جگہ شرعاً نماز جمعہ جائز نہ ہو وہاں پر دوسرے باہر کے آنے والے نماز جمعہ میں شریک نہ ہوں بلکہ اپنی نماز ظہر ہی ادا کریں۔(۱)(۱) (لا تصح الجمعۃ إلا في مصر جامع، أو في مصلی المصر، ولا تجوز في القری) لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام: لا جمعۃ ولا تشریق ولا فطر ولا أضحیٰ إلا في مصر جامع۔ (ابن الہمام، فتح القدیر، ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ الجمعۃ‘‘: ج ۲، ص: ۴۷، ۴۸)ولأدائہا شرائط في غیر المصلي منہا: المصر ہکذا في الکافي … ومنہا: السلطان عادلا کان أو جائراً، ہکذا في التتارخانیۃ … ومنہا: وقت الظہر حتی لو خرج وقت الظہر في خلال الصلاۃ تفسد الجمعۃ … ومنہا: الخطبۃ قبلہا حتی لو صلوا بلا خطبۃ، أو خطب قبل الوقت لم یجز، کذا في الکافي … ومنہا: الجماعۃ، وأقلہا ثلاثۃ سوی الإمام، کذا في التبیین … ومنہا: الإذن العام وہو أن تفتح أبواب الجامع فیؤذن للناس کافۃ۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب السادس عشر: في صلاۃ الجمعۃ‘‘: ج ۱، ص: ۲۰۵ تا ۲۰۹)(ویشترط لصحتہا) سبعۃ أشیاء: الأول: (المصر وہو ما لا یسع أکبر مساجدہ أہلہ المکلفین بہا) وعلیہ فتویٰ أکثر الفقہاء، مجتبی؛ لظہور التواني في الأحکام، وظاہر المذہب أنہ کل موضع لہ أمیر وقاض یقدر علی إقامۃ الحدود کما حررناہ فیما علقناہ علی الملتقی۔ وفي القہستاني: إذن الحاکم ببناء الجامع في الرستاق إذن بالجمعۃ اتفاقاً علی ما قالہ السرخسي، وإذا اتصل بہ الحکم صار مجمعاً علیہ فلیحفظ۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘: ج ۳، ص: ۵ تا ۷)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 62

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق: آبادی جو تحریر میں لکھی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چھوٹا گاؤں ہے؛ لیکن سوال میں بعض با تیں اس گاؤں کی ترقی کی بھی درج ہیں؛ اس لیے صورت مشکوک بن گئی ہے؛ بہر حال چھوٹے گاؤں میں جمعہ وعیدین جائز نہیں ہے؛ اس لیے بہتر یہ ہے کہ معائنہ کرا لیا جائے اور کسی معتمد عالم اور مفتی کو بلا کر گاؤں کا گشت کرا لیں اور نشیب وفراز سمجھا دیں، اس کے بعد وہ حضرات شریعت کی روشنی میں جو بھی فیصلہ کریں اس پر عمل کیا جائے۔(۱)(۱) قولہ: (وفي القہستاني الخ) تائید للمتن، وعبارۃ القہستاني تقع فرضاً في القصبات والقریٰ الکبیرۃ فیہا أسواق … وفیما ذکرنا إشارۃ إلی أنہ لا تجوز في الصغیرۃ التي لیس فیہا قاض ومنبر وخطیب کما في المضمرات۔ (ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘: ج ۳، ص: ۶و ۷)منہا: المصر ہکذا في الکافي، والمصر في ظاہر الروایۃ الموضع التي یکون فیہ مفت وقاض یقیم الحدود، وینفد الأحکام، وبلغت أبنیتہ أبنیۃ منی، ہکذا في الظہیریۃ۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب السادس عشر: في صلاۃ الجمعۃ‘‘: ج ۱، ص: ۲۰۵)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 61