Frequently Asked Questions
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: صورت مسئولہ میں لوگوں کا یہ کہنا کہ مسافر پر جمعہ کی نماز فرض نہیں ہے اس لیے اس کی امامت بھی درست نہیں ہے، یہ صحیح نہیں ہے چوں کہ جمعہ کی نماز اگرچہ دفع حرج کی وجہ سے مسافر پر لازم اور ضروری نہیںہے؛ تاہم اگر کوئی مسافر جمعہ کی نماز پڑھ لیتا ہے، تو اس نماز کا پڑھنا اس مسافر شخص کے لیے درست اور جائز ہے، جیسا کہ رمضان المبارک میں مسافر پر حالتِ سفر میں روزہ رکھنا فرض نہیں ہے؛ لیکن اگر کوئی شخص سفر میں روزہ رکھ لے تو روزہ رکھنا صحیح ہے؛ اسی طرح اگر مسافر جمعہ ادا کر لے تو جمعہ ادا ہو جاتا ہے؛ بلکہ عزیمت پر عمل ہو جاتا ہے، اور اگر کوئی مسافر جمعہ کی امامت کرتا ہے تو اس کی امامت درست ہے اور اس کی اقتداء میں جن لوگوں نے نمازِ جمعہ ادا کی ہے سب کی نماز بلا کراہت درست ہوگئی؛ اس لیے کہ امامتِ جمعہ کے لیے مقیم ہونا شرط نہیں ہے، جس طرح مقیم شخص کے لیے امامت کی شرائط موجود ہونے کی صورت میں نماز درست ہو جاتی ہے اسی طرح مسافر شخص کے لیے بھی درست ہے۔البحر الرائق میں ہے:’’قولہ: (ومن لا جمعۃ علیہ إن أداہا جاز عن فرض الوقت)؛ لأنہم تحملوہ فصاروا کالمسافر إذا صام‘‘(۱)أیضاً:’’قولہ: (وللمسافر والعبد والمریض أن یؤم فیہا) أي في الجمعۃ‘‘(۲)تبیین الحقائق میں مذکور ہے:’’قال رحمہ اللّٰہ: (ومن لا جمعۃ علیہ إن أداہا جاز عن فرض الوقت)؛ لأن السقوط لأجلہ تخفیفا فإذا تحملہ جاز عن فرض الوقت کالمسافر إذا صام‘‘(۳)فتاویٰ ہندیہ میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے:’’ویجوز للمسافر والعبد والمریض أن یؤموا في الجمعۃ، کذا في القدوري‘‘(۴)قدوری کی شرح اللباب میں ہے:’’(ویجوز للمسافر والعبد والمریض ونحوہم) خلا إمرأۃ (أن یؤم في الجمعۃ) لأن عدم وجوبہا علیہم رخصۃ لہم دفعاً للحرج؛ فإذا حضروا تقع فرضاً‘‘(۱)علامہ ابن عابدین نے لکھا ہے:’’(ویصلح للإمامۃ فیہا من صلح لغیرہا، فجازت لمسافر وعبد ومریض، وتنعقد) الجمعۃ (بہم) أي بحضورہم‘‘(۲)(۱) ابن نجیم، البحر الرائق شرح کنز الدقائق، ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ الجمعۃ‘‘: دار الکتاب، دیوبند،ج ۲، ص: ۲۶۶(۲) أیضاً: (۳) تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق وحاشیۃ الشلبي، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘:مکتبہ زکریا دیوبند، ج ۱، ص: ۵۳۳(۴) جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب السادس عشر: في صلاۃ الجمعۃ‘‘: ج ۱، ص: ۲۰۹۔(۱) عبدالغني الغنیمي، اللباب في شرح الکتاب، ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ الجمعۃ‘‘: ج ۱، ص: ۱۲۰، دار العلم، دیوبند۔(۲) الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘: ج ۳، ص: ۳۰۔
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 49
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: اقامت جمعہ کے لیے بنیادی شرط بڑی آبادی کا ہونا ہے، ایک ایسی آبادی جہاں ضروریات کی تمام چیزیں ملتی ہوں، مثلاً: ڈاکخانہ، میڈیکل وغیرہ۔ حضرات اہل علم نے تین ہزار یا اس کے آس پاس کی آبادی کو بڑی آبادی شمار کیا ہے، اتنی بڑی آبادی میں جمعہ قائم کیا جاسکتاہے۔ سوال میںجو صورت حال بیان کی گئی ہے اگر وہ واقع کے مطابق ہے تو اس میں جمعہ قائم کیے جانے کی گنجائش ہے۔’’ـ(ویشترط لصحتہا) سبعۃ أشیاء: الأول: المصر، الثاني: … (السلطان) والثالث: وقت الظہر، والرابع: الخطبۃ فیہ، والخامس: (کونہا قبلہا)، والسادس: (الجماعۃ)، والسابع: (الإذن العام)‘‘(۱)’’عن علي رضي اللّٰہ عنہ قال: لا جمعۃ ولا تشریق إلا في مصر جامع وکان یعد الأمصار: البصرۃ و الکوفۃ والمدینۃ والبحرین‘‘(۲)’’وفي التاتارخانیۃ: ثم ظاہر روایۃ أصحابنا لا تجب إلا علی من یسکن المصر أو ما یتصل بہ، فلا تجب علی أہل السواد ولو قریباً وہذا أصح ما قیل فیہ و بہ جزم في التجنیس‘‘(۱)(۱) الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘: ج۳، ص: ۵ تا ۲۵۔(۲) المصنف لعبدالرزاق، ’’کتاب الصلاۃ، کتاب الجمعۃ: باب القری الصغار‘‘: ج ۳، ص: ۱۶۸، رقم: ۵۱۷۷۔(۱) ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ، مطلب: في شروط وجوب الجمعۃ‘‘: ج ۳، ص: ۲۷۔
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 48
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللّٰہ التوفیق: دیوبند بڑا قصبہ ہے جمعہ وہاں پر درست ہے اس لیے مذکورہ فی السوال محلہ کی مسجد میں حسب ضرورت جمعہ کا قیام درست ہے۔(۲)(۲) وتصح إقامۃ الجمعۃ في مواضع کثیرۃ بالمصر وفناء ہ۔ (أحمد بن إسماعیل، حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘: ص: ۵۰۶)وتودّی في مصر واحد بمواضع کثیرۃ۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘: ج ۳، ص: ۱۵)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 47
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللّٰہ التوفیق: جس بستی میں شرعاً نماز جمعہ کی اجازت ہو اسی اجازت کے تحت نماز جمعہ مسجد میں پڑھی جارہی ہو پس ایسی بستی میں مسجد کو چھوڑ کر کسی عذر کی وجہ سے عیدگاہ میں نماز جمعہ قائم کرنا جائز ہے۔(۱)(۱) وفي الفتاویٰ الغیاثیۃ، وصلی الجمعۃ في قریۃ بغیر مسجد جامع والقری کبیرۃ لہا قری، وفیہا والٍ وحاکم جازت الجمعۃ بنوا المسجد، أو لم یبنوا: وہو قول أبي قاسم الصفار وہذا أقرب الأقاویل إلی الصواب انتہیٰ، وہو لیس ببعید مما قبلہ، والمسجد الجامع لیس بشرط، وہذا أجمعوا علی جواز ہا بالمصلی في فناء المصر وہو ما اتصل بالمصر معد المصالحۃ۔ (إبراہیم، الحلبي الکبیري، ’’کتاب الصلاۃ: فصل: في الجمعۃ‘‘: دارالکتاب دیوبند، ص: ۴۷۴)أو المحل الذي یصلي فیہ بأصحابہ لم یجز، وإن أذن للناس بالدخول فیہ صحت؛ ولکن لم یقض حق المسجد الجامع فیکرہ، ولم یذکر في الہدایۃ ہذا الشرط؛ لأنہ غیر مذکور في ظاہر الروایۃ۔ (أحمد بن إسماعیل، حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘: ص: ۵۱۰)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 46
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللّٰہ التوفیق: تحریر کردہ حالات سے اندازہ ہوتا ہے کہ مذکورہ گاؤں قریہ کبیرہ (بڑا گاؤں ) ہے نماز جمعہ و عیدین اس میں واجب ہیں اور جب کہ ایک عرصہ سے وہاں نماز جمعہ قائم ہے وہاں کے لوگوں پر ضروری ہے کہ جمعہ کی نماز میں شریک ہو ں اور اتفاق کے ساتھ نماز جمعہ ادا کریں کہ مسلمانوں میں اختلاف پیدا کرنے والا سخت گنہگار ہے، کیوں کہ اس کا یہ اقدام قرآن وسنت کے خلاف ہے۔ قرآن پاک میں ہے۔{وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْاص وَاذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآئً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖٓ اِخْوَانًاج وَکُنْتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَکُمْ مِّنْھَاط کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَہ۱۰۳}(۱) اس لیے نماز جمعہ وعیدین کو بدستور قائم رکھا جائے۔(۱) سورۃ آل عمران: ۱۰۳۔وفي القہستاني إذن الحاکم ببناء الجامع في الرستاق، (در مختار في حاشیتہ)، قولہ: (وفي القہستاني الخ) تائید للمتن، وعبارۃ القہستاني تقع فرضا في القصبات والقری الکبیرۃ التي فیہا أسواق انتہی۔ (ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘: ج ۳، ص: ۶)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 45
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللّٰہ التوفیق: نماز جمعہ کے صحیح ہونے کے لیے مسجد کا ہونا شرط نہیں ہے، لہٰذا مسجد کے علاوہ ضرورۃً اگر کسی جگہ جمعہ کی تمام شرائط کے ساتھ جمعہ پڑھا جائے، تو شرعاً جمعہ درست ہے۔ در مختار میں ہے: ’’(و تؤدي في مصر واحد بمواضع کثیرۃ) مطلقاً علی المذہب، وعلیہ الفتویٰ‘‘(۱) پس صورت مسئولہ میں اگر ضرورۃً ایسا کیا گیا ہے تو شرعاً نماز جمعہ کی ادائے گی ہوجاتی ہے۔(۲)(۱) الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘: ج ۳، ص: ۱۵، ۱۶۔(۲) قولہ: (علی المذہب)، فقد ذکر الإمام السرخسي أن الصحیح من مذہب أبي حنیفۃ جواز إقامتہا في مصر واحد في مسجدین و أکثر، وبہ نأخذ۔ (ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ، مطلب: في جواز استنابۃ الخطیب‘‘: ج ۳، ص: ۱۶)وکما یجوز أداء الجمعۃ في المصر، یجوز أداؤہا في فناء المصر، وہو الموضع المعدّ لمصالح المصر متصلاً بالمصر۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب السادس عشر: في صلاۃ الجمعۃ‘‘: ج ۱، ص: ۲۰۵)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 45
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مذکورہ بالا تحریر سے معلوم ہوا کہ گاؤں کی آبادی دس ہزار سے زائد ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ گاؤں بڑا گاؤں ہے، نیز صرف مسلم آبادی کا شمار نہیں ہوتا بلکہ ہندو مسلم آبادی کو ملاکر شمار کیا جاتا ہے اس لیے مذکورہ صورت میں اس گاؤں کے مسلمانوں پر جمعہ کی ادائیگی واجب ہے۔(۱)(۱) وأن تکون الإقامۃ (بمصر) خرج بہ المقیم بقریۃ لقولہ علیہ السلام: الجمعۃ حق واجب علی کل مسلم في جماعۃ؛ إلا أربعۃ مملوک أو امرأۃ أو صبي أو مریض، وفي البخاري: إلا علی صبي أو مملوک أو مسافر ولقولہ علیہ السلام: لا جمعۃ ولا تشریق ولا صلاۃ فطر ولا أضحی إلا في مصر جامع أو مدینۃ عظیمۃ۔ (أحمد بن إسماعیل، حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘: ص: ۵۰۴)(ویشترط لصحتہا) سبعۃ أشیاء؛ الأوّل: (المصر وہو مالا یسع أکبر مساجدہ أہلہ المکلفین بہا) وعلیہ فتویٰ أکثر الفقہاء، مجتبی لظہور التواني في الأحکام۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘: ج ۳، ص: ۵)قولہ: (وفي القہستاني الخ) … وعبارۃ القہستاني تقع فرضاً في القصبات والقری الکبیرۃ التي فیہا أسواق۔ (ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘: ج ۳، ص: ۶)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 44
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللّٰہ التوفیق: سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ جس دوسری جگہ پرجنگل کی آبادی میں جمعہ ہو رہا ہے وہ اسی گاؤں کا جنگل اور اسی گاؤں کے تابع آبادی ہے جو بڑا گاؤں ہے۔ اور اس میں جمعہ ہوتا ہے اور جس گاؤں میں جمعہ ہوتا ہے اس کے جنگل میں بھی جمعہ درست ہے۔ تاہم کسی معتمد مفتی کو بلاکر معائنہ کرادیں اور اس کے فتویٰ پر عمل کریں تو بہتر ہوگا اس سے اختلافات دور ہوجائیں گے۔(۱)(۱) وکما یجوز أداء الجمعۃ في المصر، یجوز أداؤہا في فناء المصر: وہو الموضع المعد لمصالح المصر متصلا بالمصر۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب السادس عشر: في صلاۃ الجمعۃ‘‘: ج ۱، ص: ۲۰۵)(أو) الإقامۃ (فیما) أي في محل (ہو داخل في حد الإقامۃ بہا) أي بالمصر وہو المکان الذي من فارقہ بنیۃ، والسفر یصیر مسافراً و من وصل إلیہ یصیر مقیماً (في الأصح) کربض المصر وفنائہ الذي لم ینفصل عنہ بغلوۃ۔ (أحمد بن إسماعیل، حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘: ص: ۵۰۴)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 43
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: جمعہ کی نماز مکہ مکرمہ میں فرض ہوچکی تھی، لیکن اس کی سب سے پہلے ادائیگی مدینہ منورہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے صحابی رسول اسعد بن زرارہ نے فرمائی اس موقع پر چالیس لوگ جمعہ میں شریک تھے پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو سب سے پہلا جمعہ محلہ بنو سالم بنی عوف میں ادا فرمایا۔’’وہي أول جمعۃ في الإسلام وأما أول جمعۃ جمعہا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فکانت في مسجد بني سالم بن عوف فخطب وصلی فیہ قولہ: ’’بالکتاب‘‘ ہو قولہ تعالی: {ٰٓیاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ} (سورۃ الجمعۃ: ۹)(۱)’’أن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم جمع في أول جمعۃ حین قدم المدینۃ في مسجد بني سالم في مسجد عاتکۃ‘‘(۲)’’کنت قائد أبي بعدما ذہب بصرہ، وکان لا یسمع الأذان بالجمعۃ إلا قال: رحمۃ اللہ علی أسعد بن زرارۃ، قال: قلت: یا أبت، إنہ لتعجبني صلاتک علی أبي أمامۃ کلما سمعت بالأذان بالجمعۃ، فقال: أي بني، کان أول من جمع الجمعۃ بالمدینۃ في حرۃ بني بیاضۃ، في نقیع یقال لہ: الخضمات، قلت: وکم أنتم یومئذ؟ قال: أربعون رجلا‘‘(۱)
(۱) أحمد بن اسماعیل،حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘: ج ۱، ص: ۵۰۲۔(۲) تاریخ المدینۃ، لابن شیبۃ، ’’ذکر المساجد والمواضع النبي صلی اللّٰہ فیہا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم‘‘: ج ۱، ص: ۶۸۔
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 41
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: ہر نماز کا حکم مستقل ہے، اس لیے اگر کوئی شخص صرف جمعہ کی نماز پڑھتا ہے اور ہفتہ بھر کوئی نماز نہیں پڑھتا تو اس کی جمعہ کی نماز درست ہوجائے گی لیکن ہفتہ بھر فرائض کو ترک کرنا کبیرہ گناہ اور سخت وبال کی چیز ہے ایک مسلمان کو نماز جیسے اہم فریضے سے اس درجہ غافل نہیں ہونا چاہیے اور حتی الامکان نماز ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے حدیث میں آتاہے کہ ایمان کی علامت نماز ہے اور مومن اور کفر کے درمیان ترک نماز کا فاصلہ ہے اور حدیث میں ہے جو شخص جان بوجھ کر نماز ترک کرتاہے وہ کافر ہو جاتا ہے یعنی کفر کے قریب پہونچ جاتا ہے۔’’إن بین الرجل وبین الشرک والکفر ترک الصلاۃ‘‘(۲)’’العہد الذي بیننا وبینہم الصلاۃ، فمن ترکہا فقد کفر‘‘(۳)(۲) أخرجہ مسلم، في صحیحہ، ’’کتاب الإیمان: باب بیان إطلاق اسم الکفر علی من ترک الصلاۃ‘‘: ج ۱، ص: ۶۱، رقم:۸۲۔(۳) أخرجہ ابن ماجہ، في سننہ، ’’کتاب الصلاۃ: باب ما جاء في من ترک الصلاۃ‘‘: ج ۱، ص: ۷۵، رقم: ۱۰۷۸۔
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 41