Frequently Asked Questions
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب و باللہ التوفیق: اگر امام صاحب کچھ نہیں بولے تھے بلکہ سن کر چپ چاپ چوتھی رکعت کے لئے کھڑے ہوئے اور ایسے ہی جو مقتدی نہیں بولے بلکہ چپ چاپ امام کے ساتھ کھڑے ہوکر چوتھی رکعت پوری کرلی تو ان سب کی نماز ہوگئی اور جو مقتدی بولے اور بات کی ان کی نماز نہیں ہوئی ان پر اعادہ لازم اور فرض ہے۔(۱)(۱) (سلم مصلي الظہر) مثلا (علی) رأس (الرکعتین توہما) إتمامہا (أتمہا) أربعا (وسجد للسہو) لأن السلام ساہیا لایبطل لأنہ دعاء في وجہ۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب سجود السہو‘‘: ج ۲، ص: ۵۵۹)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 259
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب و باللہ التوفیق: سجدہ سہو اس صورت میں بھی کرنا درست ہے۔(۲)(۲) وقیل: یأتی بالتسلیمتین، وہو اختیار شمس الأئمۃ وصدر الإسلام أخی فخر الإسلام، وصححہ في الہدایۃ والظہیریۃ والمفید والینابیع، کذا في شرح المنیۃ، قال في البحر: وعزاہ أي: الثاني في البدائع إلی عامتہم الخ۔ (ابن عابدین، رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب سجود السہو‘‘: ج ۲، ص: ۵۴۰) ویأتي بالصلاۃ علی النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم والدعاء في القعود الأخیر في المختار، وقیل: فیہما احتیاطاً۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب سجود السہو‘‘: ج ۲، ص: ۵۴۲)ولم یذکر حکم الصلاۃ علی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم في القعدتین …والأدعیۃ للاختلاف، فصحح في البدائع والہدایۃ أنہ یأتي بالصلاۃ والدعاء في قعدۃ السہو لأن الدعاء موضعہ آخر الصلاۃ، ونسبۃ الأول إلی عامۃ المشایخ بما وراء النہر وقال: فخر الإسلام: إن اختیار عامۃ أہل النظر من مشایخنا وہو المختار عندنا، واختار الطحاوي أنہ یأتي بہا فیہا، وذکر قاضي خان وظہیر الدین أنہ الأحوط وجزم بہ في منیۃ المصلي في الصلاۃ ونقل الاختلاف في الدعاء، وقیل: إنہ یأتي بہا في الأول فقط وصححہ الشارح معزیا إلی المفید؛ لأنہا للختم۔ (ابن نجیم، البحر الرائق، ’’کتاب الصلاۃ: باب سجود السہو‘‘: ج ۲، ص: ۱۶۵)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 258
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب و باللہ التوفیق: مذکورہ صورت میں اس مقتدی کو کھڑے ہونے کے بعد بھی لوٹ کر امام کے ساتھ شریک ہوجانا چاہئے تھا اس سے اس کی نماز درست ہوجاتی مگر وہ امام کے ساتھ سجدہ سہو میں شریک نہیں ہوا بلکہ کھڑے ہوکر اپنی نماز پوری کرلی اس امام کے ساتھ نمازکے ایک جز میں شرکت ختم ہوگئی جس کی وجہ سے اس کی نماز درست نہیں ہوئی اس نماز کا اعادہ اس پر ضروری ہوگا۔(۱)
(۱) (والمسبوق یسجد مع إمامہ مطلقاً) سواء کان السہو قبل الاقتداء أو بعدہ (ثم یقضي مافاتہ) ولو سہا فیہ سجد ثانیاً۔قولہ: (ولو سہا فیہ) أي فیہا: بقضیۃ بعد فراغ الإمام یسجد ثانیا لأنہ منفرد فیہ والمنفرد یسجد لسہوہ وإن کان لم یسجد مع الإمام لسہوہ ثم سہا ہو أیضا کفتہ سجدتان عن السہوین لأن السجود لایتکرر۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب سجود السہو‘‘: ج ۲، ص: ۵۴۶، ۵۴۷)(۲) وقیل: یأتی بالتسلیمتین، وہو اختیار شمس الأئمۃ وصدر الإسلام أخی فخر الإسلام، وصححہ في الہدایۃ والظہیریۃ والمفید والینابیع، کذا في شرح المنیۃ، قال في البحر: وعزاہ أي: الثاني في البدائع إلی عامتہم الخ۔ (ابن عابدین، رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب سجود السہو‘‘: ج ۲، ص: ۵۴۰)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 257
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب و باللہ التوفیق: تشہد ابن مسعود واجب نہیں؛ بلکہ اولیٰ ہے اور بعض تشہدات میں بسم اللہ بھی منقول ہے۔ لہٰذا سجدہ سہو کا وجوب صورت مسئولہ میںنہ ہوگا، البتہ ایسا کرنا اچھا نہیںہے۔(۲)(۲) تشہد ابن مسعود رضي اللّٰہ عنہ واجب نہیں بلکہ اولی ہے پس اگر تشہد دوسرے طریق مرویہ کے مطابق پڑھ لے تو یہ بھی جائز ہے اور بعض طرف میں بسم اللہ کی زیادتی بھی ہے لہٰذا سجدہ سہو تو نہ ہوگامگر ایسا کرنا اچھا نہیں اب اگر محض بسم اللہ زیادہ کیا تو جائز تکونہ وارداً اور اگر بسم اللہ الرحمن الرحیم زیادہ کیا تو اسمیں کراہت تنزیہی ہوگی لکونہ غیر وارد اور سجدہ سہو نہ ہوگا لکنہ زیادۃ في التشہد لا علی التشہد واللہ اعلم۔ وفی شرح معنی الآثار۔حدثا أبوبکرۃ قال ثنا ابو عاصم قال ثنا ابن جریج قال قلت لنافع کان ابن عمر رضي اللّٰہ عنہا بتشہد قال کان قول بسم اللّٰہ استحیان للہ والصلوات للّٰہ والزاکیات للّٰہ السلام علیک ایہا النبي ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ السلام علینا وعلی عباد اللّٰہ الصالحین ثم بتشہد فیقول شہدت ان لا الہ الا اللّٰہ شہدت ان محمد رسول اللّٰہ کتاب الصلاۃ باب التشہد في الصلاۃ کیف ہو، ج۱، ص: ۲۶۱، ط: عالم الکثیر۔وفي حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح۔ ذکرہا الجلال السیوطي في الدر المنثور بالفاظ مختلفۃ قولہ أن یقول اللہم الخ، ذکر السیوطي ان دعاء القنوت من جملۃ الذي انزلہ اللّٰہ علی النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم وکانا سورتین کل سورۃ ببسملۃ وفواصل إحداہما تسمی سورۃ الخلع وہي بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم اللہم إنا نستعینک إلی قولہ من بلفرک والاخری تسمی سورۃ الہذ وہي بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم اللہم إیاک بعبد إلی ملحق باب الوتر وأحکامہ۔ (أحمد بن إسماعیل، حاشیۃ الطحطاوي، ’’کتاب الصلاۃ: باب سجود السہو‘‘: ص: ۳۷۸)وفي بدائع الصنائع في ترتیب الشرائع ویکرہ أن یقرأ في غیر حال القیام لأنہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نہي عن القراء ۃ في الرکوع والسجود وقال إمام الرکوع یعظموا فیہ الرب وأما السجود فالشرو فیہ عن الدعا، فإنہ فمن أن یستجالکم فصل بیان ما تستحب في الصلاۃ وما یکرہ۔ (الکاساني، بدائع الصنائع في ترتیب الشرائع، ’’کتاب الصلاۃ: باب سجود السہو‘‘: ج ۱، ص: ۲۱۵)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 256
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب و باللہ التوفیق: در مختار میں ایک قول کی بنا پر یہ ہے کہ اگر دونوں طرف سلام پھیر دیا تو سجدہ سہو ساقط ہوگیا مگر یہ قول مفتی بہ نہیں ہے؛ بلکہ فتویٰ اس پر ہے کہ سجدہ سہو کے لیے اصل سلام تو ایک ہی طرف پھیرے لیکن اگر کسی وجہ سے دونوں طرف پھیر دیا تب بھی سجدہ سہو کرسکتا ہے اعادہ اس کا واجب نہیں ہے۔’’لکن الأحوط الاحتراز عن التسلیمتن خروجا من الخلاف فقط قال بعض من قال بتسلیمۃ واحدۃ فقط لسقوطہ بہما قال قلت وعلیہ فیجب ترک التسلیمۃ الثانیۃ‘‘(۱)(۱) ابن عابدین، الدر المختار مع رد المحتار، ’’‘‘: ج ۱، ص: ۷۷۳۔والصواب أن یسلم تسلیمۃ واحدۃ وعلیہ الجمہور وإلیہ إشار في الأصل، کذا في الکافي ویسلم عن یمینہ، کذا في الزاہدي وکیفیۃ أن یکبر بعد سلامہ الأوّل ویخر ساجداً ویسبح في سجودہ ثم یفعل ثانیا کذلک ثم یتشہد ثانیاً ثم یسلم، کذا في المحیط۔ (جماعۃ من علماء الہند،… الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب الثاني عشر: في سجود السہو‘‘: ج ۱، ص: ۱۸۵)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 255
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب و باللہ التوفیق: اس صورت میں سجدہ سہو لازم نہیں ہوتا۔(۱)
(۱) ولو قرأ الفاتحۃ إلا حرفاً أو قرأ أکثرہا ثم أعادہا ساہیاً، فہو بمنزلۃ ما لو قرأہا مرتین۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب الثاني عشر في سجود السہو‘‘: ج ۱، ص: ۱۸۶)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 255
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب و باللہ التوفیق: اصل مسئلہ یہ ہے کہ جمعہ وعیدین میں بھی اگر سجدہ سہو واجب ہو جائے تو سجدہ سہو کیا جائے لیکن کثرت ازدہام کی وجہ سے یہ خوف ہو کہ سجدہ سہو کرنے کی صورت میں کچھ نمازیوں کو سجدہ سہو کا علم نہ ہوسکے گا اور وہ امام کی اتباع سے الگ ہوجائیں گے اور ان کی نماز فاسد ہوجائے گی تو سجدہ سہو نہ کیا جائے نیز ایسی صورت میں بھی نماز ادا ہوجائے گی۔(۱)(۱) (والسہو في صلاۃ العید والجمعۃ والمکتوبۃ والتطوع سواء) والمختار عند المتأخرین عدمہ في الأولیین لدفع الفتنۃ کما في جمعۃ البحر، وأقرہ المصنف، وبہ جزم في الدرر۔ قولہ: (عدمہ في الأولیین) الظاہر أن الجمع الکثیر فیما سواہما کذلک کما بحثہ بعضہم ط وکذا بحثہ الرحمتی، وقال خصوصاً في زماننا۔ وفي جمعۃ حاشیۃ أبي السعود عن العزمیۃ: أنہ لیس المراد عدم جوازہ؛…بل الأولیٰ ترکہ لئلا۔ یقع الناس في فتنۃ۔ اہـ۔قولہ: (وبہ جزم في الدرر) لکنہ قیدہ محشیہا الوانی بما إذا حضر جمع کثیر، وإلا فلا داعي إلی الترک ط۔(الحصکفي، الدرالمختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب سجود السہو‘‘: ج ۲، ص: ۵۶۰)السہو في الجمعۃ والعیدین والمکتوبۃ والتطوع واحد إلا أن مشایخنا قالو:لا یسجد للسہو فيالعیدین والجمعۃ لئلا یقع الناس في فتنۃ، کذا في المضمرات۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب الثاني عشر: في سجود السہو‘‘: ج ۱، ص: ۱۸۷)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 254
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب و باللہ التوفیق: صورت مسئولہ میں سورہ فاتحہ کے بجائے تیسری رکعت میں سورہ اخلاص پڑھ دی تو نمازدرست ہوگئی سجدہ سہو کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ ایسا کرنا خلاف سنت ہے۔(۱)(۱) ولو قرأ في الأخریین الفاتحۃ و السورۃ لا یلزمہ السہو وہو الأصح۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب الثاني عشر: في سجود السہو‘‘: ج ۱، ص: ۱۸۶)(واکتفی) المفترض (فیما بعد الأولیین بالفاتحۃ) فإنہا سنۃ علی الظاہر ولو زاد لا بأس بہ (قولہ: (ولو زاد لا بأس) أي لو ضم إلیہا سورۃ لابأس بہ لأن القراء ۃ في الأخریین مشروعۃ من غیر تقدیر۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب صفۃ الصلاۃ، مطلب: مہم في عقد الأصابع أو التشہد‘‘: ج ۲، ص: ۲۲۱)وتجب قراء ۃ الفاتحۃ وضم السورۃ أو ما یقوم مقامہا من ثلاث آیات قصار أو آیۃ طویلۃ في الأولیین بعد الفاتحۃ کذا في النہر الفائق وفي جمیع رکعات النفل والوتر ہکذا في البحر الرائق۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب الرابع: في صفۃ الصلاۃ، الفصل الثاني: في واجبات الصلاۃ‘‘: ج ۱، ص: ۱۲۸)ولا یجب السجود إلا بترک واجب أو تاخیرہ أو تاخیرہ أو تاخیر رکن أوتقدیمہ أو تکرارہ أو تغیر واجب بأن یجہر فیما یخافت وفي الحقیقۃ وجوبہ بشيء واحد وہو ترک الواجب، کذا في الکافي۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب الثاني عشر: في سجود السہو‘‘: ج ۱، ص: ۱۸۵)وإن ترکہا في الأخریین لایجب إن کان في الفرض وإن کان في النفل أو الوتر وجب علیہ۔ (أیضاً: ج ۱، ص: ۱۸۵)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 253
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب و باللہ التوفیق: صورت مسئولہ میں نماز ادا ہوگئی نماز میں جو کمی آئی تھی وہ سجدہ سہو سے پوری ہوگئی۔(۲)(۲) کل صلاۃ أدیت مع کراہۃ التحریم تعاد أي وجوباً في الوقت وأما بعدہ فندب۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب قضاء الفوائت، مطلب: في تعریف الإعادۃ‘‘: ج ۲، ص: ۵۲۰)تنبیہ یؤخذ من لفظ الإعادۃ ومن تعریفہا بما مرأت ینوي بالثانیۃ الفرض لأن مافعل أولاً وہو الفرض فإعادتہ فعلہ ثانیاً؛ أما علی القول بأن الفرض یسقط بالثانیۃ فظاہر وأما علی القول الأخر فلان المقصود من تکریرہا ثانیاً جبر نقصان الأولیٰ فالأولیٰ فرض ناقص والثانیۃ فرض کامل مثل الأولیٰ ذاتاً مع زیادۃ وصف الکمال، ولو کانت الثانیاً لفظاً لزم أن تجب القراء ۃ في رکعاتہا الأربع وأن لاتشرع الجماعۃ فیہا ولم یذکروہ ولا یلزم من کونہا فرض کامل مثل الأولیٰ ذاتاً مع زیادۃ وصف الکمال، ولو کانت الثانیاً لفظاً لزم أن تجب القراء ۃ في رکعاتہا الأربع وأن لا تشرع الجماعۃ فیہا ولم یذکروہ ولا یلزم من کونہا فرض عدم سقوط الفرض بالأولیٰ؛ لأن المراد أنہا تکون فرضاً بعد الوقوع أما قبلہ فالفرض ہو الأولیٰ۔سہا عن الوقود الأول من الفرض ولو عملیاً أما النفل فیعود مالم یقید بالسجدۃ (ثم تذکرہ عاد إلیہ وتنہر، ولا سہو)، علیہ في الأصح (مالم یستقم قائماً) في ظاہر المذہب وہو الأصح فتح (وإلا) أي وإن استقام قائماً (لا) یعود لاشتفالہ لافرض القیام (وسجد السہو) لترک الواجب (فلو عاد إلی قعود) یعد ذلک (تفسد صلاتہ) لرفض الفرض لما لیس بفرض وصححہ الزیلغی (وقیل: لا) تفسد لکنا یکون مسیئاً ویسجد لتأخیر الواجب (وہو الأشبہ) کما حققہ الکمال وہو الحق بحر۔ (ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب سجود السہو‘‘: ج ۲، ص: ۵۴۸)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 252
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب و باللہ التوفیق: تکبیر انتقالیہ کے دوبارہ (مکرر) کہہ دینے سے سجدہ سہو لازم نہیں ہوتا؛ اس لیے نماز درست ہوگئی۔(۱)(۱) ولا یجب السجود إلا بترک واجب، أو تأخیرہ، أو تأخیر رکن، أو تقدیمہ، أو تکرارہ، أو تغییر واجب بأن یجہر فیما یخافت، وفي الحقیقۃ وجوبہ بشيء واحد وہو ترک الواجب۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب الثاني عشر: في سجود السہو‘‘: ج ۱، ص: ۱۸۵)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 251