نماز / جمعہ و عیدین

الجواب و باللہ التوفیق: صورت مسئولہ میں سجدہ سہو تو لازم نہیں لیکن ایسا کرنا نہیں چاہئے۔(۱)(۱) وثانی عشر با التکبیرات التی یؤتی بہا في خلال الصلاۃ عند الرکوع والسجود والرفع من والنہوض من السجود أو القعود إلی (القیام وکذا التسمیع ونحوہ فہي مشتملا علی ست سان کا تری۔ (الکاساني، بدائع الصنائع في ترتیب الشرائع، ’’کتاب الصلاۃ: باب سجود السہو‘‘: ج ۱، ص: ۴۸۳)ولایجب السجود إلا بترک واجب إلی قولہ ولا یجب بترک التعوذ وتکبیرات الانتقال إلا في تکبیرۃ رکوع الرکعۃ الثانیۃ من صلاۃ العید۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب الثاني عشر: في سجود السہو‘‘: ج ۱، ص: ۱۲۶)ترک السنۃ لا یوجب فسادا ولا سہوا بل إساء ۃ لو عامدا غیر مستخف۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب صفۃ الصلاۃ، مطلب: سنن الصلاۃ‘‘: ج ۲، ص: ۱۷۰)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 251

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب و باللہ التوفیق: اگر پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ سے پہلے کوئی تشہد پڑھ لے تو اس پر سجدہ سہو نہیں ہے اور اگر دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ سے پہلے کوئی تشہد پڑھ لے تو اس صورت میں سجدہ سہو کے وجوب میں حضرات فقہاکا اختلاف ہے، اصولی طور پر سجدہ سہو واجب ہونا چاہیے اس لیے کہ واجب میں تاخیر کی بنا پر سجدہ سہو واجب ہوتا ہے پہلی رکعت میں تشہد یہ ثنا کی جگہ میں ہے اس لیے وہاں واجب میں تاخیر نہیں ہوئی لیکن دوسری رکعت میں واجب میں تاخیر ہوئی ہے اسی لیے بعض فقہاء نے اس صورت میں بھی سجدہ سہو کو واجب قرار دیا ہے چناں چہ طحطاوی میں ہے: ’’ولو قرأ التشہد مرتین في القعدۃ الأخیرۃ أو تشہد قائماً أو راکعاً أو ساجداً  الجواب و باللہ التوفیق: اگر پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ سے پہلے کوئی تشہد پڑھ لے تو اس پر سجدہ سہو نہیں ہے اور اگر دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ سے پہلے کوئی تشہد پڑھ لے تو اس صورت میں سجدہ سہو کے وجوب میں حضرات فقہاکا اختلاف ہے، اصولی طور پر سجدہ سہو واجب ہونا چاہیے اس لیے کہ واجب میں تاخیر کی بنا پر سجدہ سہو واجب ہوتا ہے پہلی رکعت میں تشہد یہ ثنا کی جگہ میں ہے اس لیے وہاں واجب میں تاخیر نہیں ہوئی لیکن دوسری رکعت میں واجب میں تاخیر ہوئی ہے اسی لیے بعض فقہاء نے اس صورت میں بھی سجدہ سہو کو واجب قرار دیا ہے چناں چہ طحطاوی میں ہے: ’’ولو قرأ التشہد مرتین في القعدۃ الأخیرۃ أو تشہد قائماً أو راکعاً أو ساجداً 

(۱) أحمد بن إسماعیل، حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح، ’’کتاب الصلاۃ: باب سجود السہو‘‘: ص: ۴۶۱۔(۲) النہر الفائق شرح کنز الدقائق، ’’کتاب الصلاۃ: باب سجود السہو‘‘: ج ۱، ص: ۳۲۴۔(۳) ابن نجیم، البحر الرائق شرح کنز الدقائق، ’’کتاب الصلاۃ: باب سجود السہو‘‘: ج ۲، ص: ۱۷۲۔

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 249

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر وہ شخص مدرک تھا اور غلطی سے اس نے اپنے آپ کو مسبوق سمجھ کر امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑا ہوگیا تو جب تک اس نے رکعت پوری نہیں کی ہے اس کو چاہیے کہ واپس تشہد میں بیٹھ کر سجدہ سہو کرکے اپنی نماز پوری کرے اور اگر کھڑے ہونے کے بعد ایک رکعت پوری کر چکا ہے تو اسے چاہیے کہ دوسری رکعت بھی مکمل کرلے اور سجدہ سہو کرکے نماز کو پوری کرے؛ لیکن اگر ایک رکعت پر ہی بیٹھ کر سجدہ سہو کرکے نماز کو مکمل کرلیا تو بھی نماز ہوجائے گی۔’’(وإن قعد في الرابعۃ) مثلاً قدر التشھد (ثم قام عاد وسلم) (وإن سجد للخامسۃ سلموا) (وضم إلیھا سادسۃ) لو في العصر وخامسۃ في المغرب ورابعۃ في الفجر، بہ یفتی (لتصیر الرکعتان لہ نفلاً) والضم ھنا آکد، ولا عھدۃ لو قطع، ولو بأس بإتمامہ في وقت کراھۃ علی المعتمد (وسجد للسھو) في الصورتین لنقصان فرضہ بتأخیر السلام في الأولی وترکہ في الثانیۃ‘‘(۱)(۱) الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب سجود السھو‘‘: ج ۲، ص: ۵۵۳، ۵۵۴۔وإذا قعد المصلي في صلاتہ وتشہد ثم شک أنہ صلی ثلاثاً أو أربعاً حتی شغلہ ذلک عن التسلیم ثم استیقن أنہ صلی أربعا فأتم صلاتہ فعلیہ سجدتا السہو۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب الثاني عشر: في سجود السہو‘‘: ج ۱، ص: ۱۸۷)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 228

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر ایک رکن کی مقدار کے بعد یاد آئے تو از سرِ نو نماز پڑھے اور اگر ایک رکن کی مقدار سے پہلے یاد آئے تو کھڑے ہوکر نماز پوری کرے اور فرض کی ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے سجدہ سہو کرے۔(۲)(۲) ولو سلم علی رأس الرکعتین علی ظن أنہا رابعۃ فإنہ یمضی علی صلاتہ ویسجد للسہو۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب السابع: فیما یفسد الصلاۃ ما یکرہ فیہا‘‘: ج ۱، ص: ۱۵۷)(إلا السلام ساہیاً)، للتحلیل: أي للخروج من الصلاۃ (قبل إتمامہا علی ظن إکمالہا) فلا یفسد۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب مایفسد الصلاۃ…وما یکرہ فیہا، مطلب: في الفرق بین السہو والنسیان‘‘: ج ۲، ص: ۳۷۲)أما إن طال تفکرہ بأن کان مقدار مایمکنہ أن یؤدی فیہ رکناً من أرکان الصلاۃ… کالرکوع والسجود … وفي الاستحسان علیہ السہو … وجہ الاستحسان، أن الفکر الطویل في ہذہ الصلاۃ مما یؤخر الأرکان عن أوقاتہا فیوجب تمکن النقصان في الصلاۃ فلا بد من جبرہ بسجدتي السہو۔ (الکاساني، بدائع الصنائع في ترتیب الشرائع، ’’کتاب الصلاۃ: باب سجود السہو، وسببہ‘‘: ج ۱، ص: ۴۰۲)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 247

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: بھولے سے ایسا ہوا تو سجدۂ سہو لازم ہوگا ورنہ اعادہ لازم ہے۔(۱)

(۱) (وإن کثر) شکہ (عمل بغالب ظنہ إن کان) لہ ظن للخرج (وإلا أخذ بالأقل) لیتقنہ … قولہ: (وإلا) … ولو شک أنہا الثانیۃ أو الثالثۃ أتمہا وقعد ثم صلی أخری وقعد ثم الرابعۃ وقعد، وتمامہ في البحر، وسیذکرعن السراج أنہ یسجد للسہو۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب سجود السہو‘‘: ج ۲، ص: ۵۶۱)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 246

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: مسبوق مقتدیوں کی نماز بھی صحیح قول کے مطابق صحیح ہے۔(۱)(۱) قولہ: (کما صلی) أشار بالکمیۃ إلی أن الشک في العدد، فلو في الصفۃ کما لو شک في ثانیۃ الظہر أنہ في العصر، وفی الثالثۃ أنہ في التطوع وفي الرابعۃ أنہ في الظہر، قالوا: یکون في الظہر، ولا عبرۃ بالشک، وتمامہ في البحر۔ قولہ: (استأنف بعمل مناف إلخ) فلا یخرج بمجرد النیۃ، کذا قالوا۔ وظاہرہ أنہ لا بد من العمل، فلو لم) یأت بمناف وأکملہا علی غالب ظنہ لم تبطل إلا أنہا تکون نقلاً ویلزمہ أداء الفرض، ولو کانت نفلاً ینبغي أن یلزمہ قضاؤہ وإن أکملہا؛ لوجوب الاستئناف علیہ، بحر، وأقرہ في النہر والمقدسي۔قولہ: (وإن کثر شکہ) بأن عرض لہ مرتین في عمرہ علی ما علیہ أکثرہم، أو في صلاتہ علی ما اختارہ فخر الإسلام۔ وفي المجتبی: وقیل: مرتین في سنۃ، ولعلہ علی قول السرخسي، بحر ونہر۔قولہ: (للحرج) أي في تکلیفہ بالعمل بالیقین۔قولہ: (وإلا) أي وإن لم یغلب علی ظنہ شيء، فلو شک أنہا أولیٰ الظہر أو ثانیتہ یجعلہا الأولیٰ ثم یقعد لاحتمال أنہا الثانیۃ ثم یصلي رکعۃ ثم یقعد لما قلنا، ثم یصلي رکعۃ ویقعد لاحتمال أنہا الرابعۃ، ثم یصلي أخری ویقعد لما قلنا، فیأتي بأربع قعدات قعدتان مفروضتان وہما الثالثۃ والرابعۃ، وقعدتان واجبتان؛ ولو شک أنہا الثانیۃ أو الثالثۃ أتمہا وقعد ثم صلی أخری وقعد ثم الرابعۃ وقعد، وتمامہ في البحر وسیذکر عن السراج أنہ یسجد للسہو۔ (ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب سجود السہو‘‘: ج ۲، ص: ۵۶۱)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 245

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: اس صورت میں سجدہ سہو لازم نہیں ہوتا اس لیے بغیر سجدہ سہو کے نماز صحیح اور درست ہوگئی ہے۔’’وفي أظہر الروایات لا یجب سجود السہو لأن القراء فیہما مشروعۃ من غیر تقدیر والاقتصار علی الفاتحۃ مسنون لا واجب‘‘(۱)(۱) ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب صفۃ الصلاۃ‘‘: ج ۲، ص: ۱۵۰۔کان النبي صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم یقراء في الرکعتین الأولیین من صلاۃ الظہر بفاتحۃ الکتاب وسورتین یطول في الأولیٰ ویقصر في الثانیۃ ویسمع الآیۃ أحیانا وکان یقراء في العصر بفاتحۃ الکتاب وسورتین وکان یطول في الأولیٰ وکان یطول في الرکعۃ الأولیٰ من صلاۃ الصبح ویقصر في الثانیۃ۔ (أخرجہ البخاري، في صحیحہ، ’’کتاب الأذان: باب القراء ۃ في الظہر‘‘: ج ۱: ص: ۱۰۵، رقم: ۷۵۹)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 245

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: اس صورت میں امام کی نماز تو درست ہوگئی لیکن مقتدیوں کی نماز باطل ہو گئی؛ اس لیے کہ دو رکعت امام کی فرض ہوئی اور دو رکعت نفل ہوئی، تو آخر کی دو رکعتوں میں فرض نماز پڑھنے والوں نے نفل پڑھنے والے کی اتباع کی اور یہ جائز نہیں ہے امام کی نماز بھی اس صورت میں درست ہوئی جب کہ اس نے قعد ہ اولیٰ کر لیا ہو اور سجدہ سہو بھی کرلیا ہو اگر سجدہ سہو نہیں کیا، تو فرض تو ذمہ سے ساقط ہوگیا؛ البتہ نمازواجب الاعادہ رہی۔ مقتدیوں کو نماز کا دوہرانا لازم ہے ان کو اس کی اطلاع کی جائے۔(۱)

(۱) تنبیہ یؤخذ من ہذا أنہ لو اقتدی مقیمون بمسافر وأتم بہم بلا نیۃ إقامۃ وتابعوہ فسدت صلاتہم لکونہ متنفلا في الأخریین، نبہ علی ذلک العلامۃ الشرنبلالي في رسالتہ في المسائل الأثنی عشریۃ؛ وذکر أنہا وقعت لہ ولم یرہا، في کتاب۔ قلت: وقد نقلہا الرملي في باب المسافر عن الظہیریۃ، وسنذکرہا ہناک أیضاً۔ (ابن عابدین، رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الإمامۃ، مطلب: الواجب کفایۃ ہل یسقط بفعل الصبي وحدۃ؟‘‘: ج ۲، ص: ۳۲۷)فلو أتم مسافر إن قعد في) القعدۃ (الأولیٰ تم فرضہ و) لکنہ (أساء) لو عامدا لتأخیر السلام وترک واجب) القصر وواجب تکبیرۃ افتتاح النفل وخلط النفل بالفرض، وہذا لایحل کما حررہ القہستاني، بعد أن فسر أساء۔ بأثم واستحق النار (وما زاد نفل) کمصلی الفجر أربعا (وإن لم یقعد بطل فرضہ) وصار الکل نفلًا لترک القعدۃ المفروضہ۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ المسافر‘‘: ج ۲، ص: ۶۰۹، ۶۱۰)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 243

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: (۱) صورت مسئولہ میں نماز واجب الاعادہ ہے۔ دوبارہ نماز پڑھی جائے۔

(۲) سورہ فاتحہ کی مکمل آیت چھوٹ جائے اور سجدہ سہو بھی نہ کرے، تو نماز واجب الاعادہ ہے؛ اس لئے کہ پوری سورہ فاتحہ کا پڑھنا نماز میں واجب ہے۔(۱)

(۱) ثم واجبات الصلاۃ أنواع) (منہا) قراء ۃ الفاتحۃ والسورۃ إذا ترک الفاتحۃ في الأولیین أو إحداہما یلزمہ السہو، وإن قرأ أکثر الفاتحۃ ونسي الباقي لا سہو علیہ، وإن بقي الأکثر کان علیہ السہو إماما کان أو منفردا، کذا في فتاوی قاضي خان۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ:الباب الثاني عشر في سجود السہو‘‘: ج ۱، ص: ۱۸۵)(و ہي قراء ۃ فاتحۃ الکتاب) فیسجد للسہو بترک أکثرہا لا أقلہا؛ ولکن في المجتبی یسجد بترک آیۃ منہا وہو أولیٰ قولہ: (بترک أکثرہا) …… وفي القہستاني أنہا بتمامہا واجبۃ عندہ وأما عندہما فأکثر ہا۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب صفۃ الصلاۃ، مطلب: کل صلاۃ أدیت مع کراہۃ التحریم تجب إعادتہا‘‘: ج ۲، ص: ۱۴۸، ۱۴۹)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 242

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: نماز درست ہوگئی اس لیے کہ مطلقاً قرأت تو فرض ہے لیکن سورہ فاتحہ کو مقدم اور ضم سورۂ کو مؤخر کرنا واجب ہے اورترک واجب سے سجدۂ سہو لازم آتا ہے۔(۱)

(۱) ومن سہا عن فاتحۃ الکتاب في الأولی أو في الثانیۃ وتذکر بعد ما قرأ بعض السورۃ یعود فیقرأ بالفاتحۃ ثم بالسورۃ قال الفقیہ أبو اللیث: یلزمہ سجود السہو وإن کان قرأ حرفا من السورۃ، وکذلک إذا تذکر بعد الفراغ من السورۃ أو في الرکوع أو بعد ما رفع رأسہ من الرکوع، فإنہ یأتي بالفاتحۃ ثم یعید السورۃ ثم یسجد للسہو۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب الثاني عشر: في سجود السہو، واجبات الصلاۃ أنواع‘‘: ج ۱، ص: ۱۸۶)(وتقدیم الفاتحۃ علی کل السورۃ) وکذا ترک تکریرہا قبل سورۃ الأولیین۔ قولہ: (علی کل السورۃ) حتی قالوا لو قرأ حرفا من السورۃ ساہیا ثم تذکر یقراء الفاتحۃ ثم السورۃ، ویلزمہ سجود السہو بحر، وہل المراد بالحرف حقیقتہ أو الکلمۃ، یراجع ثم رأیت في سہو البحر قال۔ بعد ما مر: وقیدہ في فتح القدیر بأن یکون مقدار ما یتأدی بہ رکن۔ اہـ۔أي لأن الظاہر أن العلۃ ہي تأخیر الابتداء بالفاتحۃ والتأخیر الیسیر، وہو ما دون رکن معفو عنہ تأمل۔ ثم رأیت صاحب الحلیۃ أید ما بحثہ شیخہ في الفتح من القید المذکور بما ذکروہ من الزیادۃ علی التشہد في القعدۃ الأولیٰ الموجبۃ للسہو بسبب تأخیر القیام عن محلہ، … وأن غیر واحد من المشایخ قدرہا بمقدار أداء رکن۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب صفۃ الصلاۃ، مطلب: کل شفع من النفل صلاۃ‘‘: ج ۲، ص: ۱۵۱، ۱۵۲)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 241