نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر ظن غالب ہے کہ سورہ فاتحہ پڑھ لی ہے، تو دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں، پھر بھی پڑھ لی تو فاتحہ مکرر ہوگئی اور سجدۂ سہو واجب ہوا؛ البتہ اگر سورہ فاتحہ کے بعد بقدر واجب قرأت کرنے کے بعد سورہ فاتحہ کو دوبارہ پڑھ لیا، تو سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا۔

’’ولا یجب السجود إلا بترک واجب أو تاخیرہ أو تاخیر رکن أو تقدیمہ أو تکرارہ أو تغییر واجب بأن یجہر فیما یخافت وفي الحقیقۃ وجوبہ بشيء واحد وہو ترک الواجب، کذا في الکافي … ولو کررہا في الأولیین یجب علیہ سجود السہو بخلاف ما لو أعادہا بعد السورۃ أو کررہا في الأخریین کذا في التبیین‘‘(۱)

(۱) جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب الثاني عشر: في سجود السہو‘‘: ج ۱، ص: ۱۸۵۔ولو قرأ الفاتحۃ مرتین یجب علیہ السجود لتأخیر السورۃ، کذا في الذخیرۃ وغیرہا، وذکر قاضیخان وجماعۃ أنہا إن قرأہا مرتین علی الولاء وجب السجود وإن فصل بینہما بالسورۃ لا یجب۔ (ابن نجیم، البحر الرائق، ’’کتاب الصلاۃ: باب سجود السہو‘‘: ج ۲، ص: ۱۶۶)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 231

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: شامی میں ہے کہ ایسی صورت پیش آجائے تو مسبوق اپنی نماز کے اخیر میں سجدہ سہو کرے تاکہ نماز مکمل طور پر صحیح ہوجائے؛ البتہ جان کر اس نے اگر ایسا کیا یا مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے ایسا کیا، تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی اسے از سر نو نماز پڑھنی ہوگی۔

’’فإن سلم فإن کان عامداً فسدت وإلا لا‘‘(۱)

(۱) الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب سجود السہو‘‘: ج ۲، ص: ۵۴۶۔قولہ: (والمسبوق یسجد مع إمامہ) قید بالسجود لأنہ لا یتابعہ في السلام، بل یسجد معہ ویتشہد، فإذا سلم الإمام قام إلی القضاء، فإن سلم، فإن کان عامدا فسدت، وإلا لا، ولا سجود علیہ إن سلم سہوا قبل الإمام أو معہ؛ وإن سلم بعدہ لزمہ لکونہ منفردا حینئذ بحر، وأراد بالمعیۃ المقارنۃ وہو نادر الوقوع کما في شرح المنیۃ۔ وفیہ: ولو سلم علی ظن أن علیہ أن یسلم فہو سلام عمد یمنع البناء۔ (ابن عابدین، رد المحتار علی المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب سجود السہو‘‘: ج ۲، ص: ۵۴۶، ۵۴۷)(قولہ ولو سلم ساہیا) قید بہ لأنہ لو سلم مع الإمام علی ظن أنہ علیہ السلام معہ فہو سلام عمد فتفسد کما في البحر عن الظہیریۃ، قولہ: (لزمہ السہو) لأنہ منفرد في ہذہ الحالۃ ح۔ قولہ: (وإلا لا) أي وإن سلم معہ أو قبلہ لا یلزمہ لأنہ مقتد في ہاتین الحالتین۔ (ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الإمامۃ، مطلب فیما أتی بالرکوع والسجود الخ‘‘: ج ۲، ص: ۳۵۰)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 230

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: مسبوق مقتدی سجدہ سہو کے سلام میں امام کی اقتدا نہ کرے کہ اس کی نماز کا وسط ہے اور امام و مدرک مقتدیوں کی نماز کا آخر ہے، رہا مخالفت کا شبہ وہ اس لیے نہیں ہے کہ شریعت کا ایسا ہی حکم ہے تاہم اگر مسبوق نے امام کے سلام سہو میں بھولے سے شرکت کرلی تب بھی مسبوق کی نماز درست ہوگی اعادہ کی ضرورت نہیں ہے ۔

’’والمسبوق یسجد مع إمامہ قید بالسجود لأنہ لا یتابعہ في السلام؛ بل یسجد معہ ویتشہد فإذا سلم الإمام قام إلی القضاء‘‘(۱)

(۱) الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب سجود السہو‘‘: ج ۲، ص: ۵۴۶۔

والمسبوق یتابع الإمام في سجود السہو ثم یقوم إلی قضاء ما سبق بہ، ولا یعید في آخر صلاتہ۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب الثاني عشر: في سجود السہو‘‘: ج ۱، ص: ۱۸۸)

(ویسجد المسبوق مع إمامہ) لالتزام متابعتہ (ثم یقوم لقضاء ما سبق بہ)۔ (أحمد بن إسماعیل، حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح، ’’کتاب الصلاۃ: باب سجود السہو‘‘: ص: ۴۶۴)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 230

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: صورت مسئول عنہا میں بوجہ شبہ سجدہ سہو کیا گیا ہے پس نماز درست ہوگئی۔ سجدہ سہو واجب نہ تھا اس کی باوجود شبہ کے بناء پر سجدہ سہو کرلیا جائے تو نماز بلاشبہ صحیح ہوجاتی ہے۔(۱)

(۱) (وضم) أقصر (سورۃ) کالکوثر أو ما قام مقامہا، ہو ثلاث آیات قصار، نحو {ثم نظر المدثر: ۲۱ ثم عبس وبسر المدثر: ۲۲ ثم أدبر واستکبر المدثر: ۲۳} وکذا لو کانت الآیۃ أو الآیتان تعدل ثلاثا قصارا ذکرہ الحلبی (فيالاولیین عن الفرض) وہل یکرہ في الآخریین؟ المختار لا (و) في (جمیع) رکعات (النفل) لأن کل شفع منہ صلاۃ (و) کل (الوتر) احتیاطاً۔(قولہ تعدل ثلاثا قصارا) أي مثل ثم نظر (المدثر: ۲۱) إلخ وہی ثلاثون حرفا، فلو قرأ آیۃ طویلۃ قدر ثلاثین حرفا یکون قد أتی بقدر ثلاث آیات، لکن سیأتي في فصل یجہر الإمام أن فرض القراء ۃ آیۃ وأن الآیۃ عرفا طائفۃ من القرآن مترجمۃ أقلہا ستۃ أحرف ولو تقدیرا کلم یلد إلا إذا کانت کلمۃ فالأصح عدم الصحۃ اہـ ومقتضاہ أنہ لو قرأ آیۃ طویلۃ قدر ثمانیۃ عشر حرفا یکون قد أتی بقدر ثلاث آیات۔وقد یقال: إن المشروع ثلاث آیات متوالیۃ علی النظم القرآنی مثل ثم نظر المدثر: ۲۱ إلخ ولا یوجد ثلاث متوالیۃ أقصر منہا، فالواجب إما ہي أو ما یعدلہا من غیرہا لا ما یعدل ثلاثۃ أمثال أقصر آیۃ وجدت في القرآن، ولذا قال تعدل ثلاثا قصارا ولم یقل تعدل ثلاثۃ أمثال أقصر آیۃ۔ علی أن في بعض العبارات تعدل أقصر سورۃ فلیتأمل وسنذکر في فصل الجہر زیادۃ في ہذا البحث (قولہ ذکرہ الحلبي) أي في شرحہ الکبیر عن المنیۃ۔ وعبارتہ: وإن قرأ ثلاث آیات قصارا أو کانت الآیۃ أو الآیتان تعدل ثلاث آیات قصار خرج عن حد الکراہۃ المذکورۃ یعني کراہۃ التحریم۔ قال الشارح في شرحہ عن الملتقی: ولم أرہ لغیرہ وہو مہم فیہ یسر عظیم لدفع کراہۃ التحریم۔ اہـ۔قلت: قد صرح بہ في الدرر أیضا حیث قال: وثلاث آیات قصار تقوم مقام الصورۃ وکذا الآیۃ الطویلۃ۔ اہـ ومثلہ في الفیض وغیرہ۔ وفي التتارخانیۃ: لو قرأ آیۃ طویلۃ کآیۃ الکرسي أو المداینۃ البعض في رکعۃ والبعض في رکعۃ اختلفوا فیہ علی قول أبي حنیفۃ، قیل لا یجوز لأنہ ما قرأ آیۃ تامۃ في کل رکعۃ، وعامتہم علی أنہ یجوز لأن بعض ہذہ الآیات یزید عن ثلاث قصار أو یعدلہا فلا تکون قراء تہ أقل من ثلاث آیات۔ اہـ۔ وہذا یفید أن بعض الآیۃ کالآیۃ في أنہ إذا بلغ قدر ثلاث آیات قصار یکفی۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب صفۃ الصلاۃ، مطلب: کل صلاۃ أدیت مع کراہۃ التحریم تجب إعادتہا‘‘: ج ۲، ص: ۱۴۹)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 228

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: صورت مسئولہ عنہا میں قعدۂ اولیٰ چھوڑ کر کھڑے ہوجانے کی صورت میں مقتدی کے لقمہ دینے کے بعد لوٹ کر بیٹھنا نہیں چاہئے تھا کہ فرض (قیام تیسری رکعت کا) چھوڑ کر واجب (قعدۂ اولیٰ) کی طرف لوٹنا اچھا نہیں ہے تاہم سجدہ سہو کر لینے سے نماز درست اور صحیح ہوگئی۔(۱)

(۱) وإلا أي وان استقام قائماً (لا) یعود لاستغالہ بفرض القیام (وسجد للسہو) لترک الواجب (فلو عاد إلی القعود) بعد ذلک (تفسد صلاتہ) لرفض الفرض مما لیس بفرض، وصححہ الزیلعي وقیل: لا تفسد، لکنہ یکون مسیئا ویسجد لتاخیر الواجب (وھو الأشبہ) کما حققہ الکمال وہو الحق بحر۔ (ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب سجود السہو‘‘: ج ۲، ص: ۵۴۹، ۵۴۸، مکتبہ زکریا دیوبند)(سہا عن القعود الأول من الفرض ثم تذکرہ عاد إلیہ) وتشہد ولا سہو علیہ في الاصح (مالم یستقم قائماً) في ظاہر المذہب وہو الأصح فتح (وإلا) أي وإن استقام قائماً (لا) یعود لاشتغالہ بفرض القیام (وسجد للسہو) لترک الواجب (فلو عاد إلی العقود) بعد ذلک (تفسد صلاتہ)… … لرفض الفرض مما لیس بفرض وصححہ الزیلعي (وقیل لا) تفسد لکنہ یکون مسیئا ویسجد لتاخیر الواجب (وہو الأشبہ) کما حققہ الکمال۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب سجود السہو‘‘: ج ۲، ص: ۵۴۷، ۵۴۸، ۵۴۹)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 227

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: صورت مسئول عنہا میں سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا بغیر سجدہ سہو کے نماز درست ہوگئی۔(۱)

(۱) فلو قرأ آیۃ طویلۃ قدر ثلاثین حرفاً یکون قد أتی بقدر ثلاث آیات۔ (الحصکفی، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب صفۃ الصلاۃ، مطلب: کل صلاۃ أدیت مع کراہۃ التحریم تجب إعادتہا‘‘: ج ۲، ص: ۱۴۹)ثم یضم إلی الفاتحۃ سورۃ أو ثلاث آیات ہکذا في شرح المنیۃ لابن أمیر الحاج، والآیۃ الطویلۃ تقوم مقامہا، کذا في التبیین۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاوی الہندیۃ، ’’کتاب الصلا: الباب الرابع: في صفۃ الصلاۃ،الفصل الثالث: في سنن الصلاۃ، وآدابہا، وکیفیتہا‘‘: ج ۱، ص: ۱۳۱)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 227

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: اس صورت میں سجدہ سہو لازم نہیں تھا بغیر سجدہ سہو کے بھی نماز مکمل ہوجاتی مگر جب کہ سجدہ سہو کرلیا تو بھی نماز صحیح ہوگئی ہے، مسئلہ معلوم نہ ہونے کی صورت میں سجدہ سہو کرلینے سے نماز میں کوئی نقص نہیں آتا۔(۱)

(۱) وفي أظہر الروایات لایجب لأن القراء ۃ فیہما مشروعۃ من غیر تقدیر والاقتصار علی الفاتحۃ مسنون لاواجب۔ (ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب صفۃ الصلاۃ، مطلب: کل صلاۃ أدیت مع کراہۃ التحریم تجب إعادتہا‘‘: ج ۲، ص: ۱۵۰)وإن قرأ الفاتحۃ في إحدی الأخر بین مرتین أو ضم فیہما سورۃ أو قرأ التشہد مرتین في القعدۃ الأخیرۃ أو تشہد قائماً أو راکعاً أو ساجداً ألا سہو علیہ۔ (إبراہیم، الحلبي الکبیري، ’’کتاب الصلاۃ: فصل: في سجود السہو‘‘: ص: ۳۹۷، دار الکتاب، دیوبند)وحدیث أبي قتادۃ أخرجہ ابن أبي شیبۃ في مصنفہ أن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم کان یقرأ في الرکعتین الأولیین بفاتحۃ الکتاب وسورۃ وفي الاخریین بفاتحۃ الکتاب۔ (المصنف لابن أبي شیبۃ، ج ۳، ص: ۲۶۱، رقم: ۳۷۴۱)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 226

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: صورت مذکورہ میں نماز درست ہوگئی، زید پر سجدہ سہو لازم نہیں تھا۔(۱)

(۱) ولو فرغ المؤتم قبل إمامہ سکت اتفاقاً وأما المسبوق فترسل یفرغ عند سلام إمامہ وقبل یتم وقیل یکرر کلمۃ الشہادۃ۔ (ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب صفۃ الصلاۃ، مطلب: مہم في عقد الأصابع عند التشہد‘‘: ج ۲، ص: ۲۲۰)قولہ: (وقیل: یکرر کلمۃ الشہادۃ) کذا في شرح المنیۃ والذي في البحر والحلیۃ والذخیرۃ یکرر التشہد تامل۔(أیضاً: ج ۲، ص: ۲۲۱)(ومنہا) أن المسبوق ببعض الرکعات یتابع الإمام في التشہد الأخیر وإذا أتم التشہد لا یشتغل مما بعدہ ومن الدعوات، ثم ماذا یفعل؟ تکلموا فیہ وعن ابن شجاع أنہ یکرر التشہد أي قولہ: أشہد أن لا إلہ إلا اللّٰہ وہو المختار، کذا في الغیاثیۃ والصحیح أن المسبوق یترسل في التشہد في بفرغ عند سلام الإمام، کذا في الوجیز للکردري، وفتاویٰ قاضي خان، وہکذا في الخلاصۃ… وفتح القدیر۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب الخامس: في الإمامۃ، الفصل السابع: في المسبوق واللاحق‘‘: ج ۱، ص: ۱۴۹)سہو المؤتم لا یوجب السجدۃ ولو ترک الإمام سجود السہو فلا سہو علی المأموم، کذا في المحیط۔ (أیضاً، ’’کتاب الصلاۃ: الباب الثاني عشر: في سجود السہو‘‘: ج ۱، ص: ۱۸۸)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 225

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: جس بھول پر فرائض میں سجدہ سہو لازم ہوتا ہے اس پر سنت و نوافل میں بھی سجدہ سہو لازم ہوگا نہ کرنے کی صورت میں اعادہ ضروری ہوگا۔(۱)

(۱) ضم سورۃ أو ثلاث آیات قصار أو آیۃ طویلۃ إلی الفاتحۃ، فإن لم یقرأ شیئا… أو قرأ آیۃ قصیرۃ وجب علیہ سجود السہو، أما إن قرأ آیتین قصیر تین فإنہ لا یسجد لأن للأکثر حکم الکل۔ (عبد الرحمن الجزیری، الفقہ علی مذاہب الأربعۃ، ’’کتاب الصلاۃ: مباحث سجود السہو‘‘: ج ۱، ص: ۴۲۱)ولا یجب السجود إلا بترک واجب أو تأخیرہ أو تأخیر رکن أو تقدیمہ أو تکرارہ أو تغییر واجب بأن یجہر فیما یخافت وفي الحقیقۃ وجوبہ بشيء واحد وہو ترک الواجب، کذا في الکافي … ولو کررہا في الأولیین یجب علیہ سجود السہو بخلاف مالو أعادہا بعد السورۃ او کررہا في الأخریین، کذا في التبیین۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’الباب الثاني: عشر في سجود السہود‘‘: ج ۱، ص: ۱۸۵)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 224

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: اس صورت میں سجدہ سہو لازم نہیں ہے، نماز درست ہوگئی۔(۲)

(۲) ویکرہ الفصل بسورۃ قصیرۃ وأن یقرأ منکوساً إلا إذا ختم فیقرأ من البقرہ، وفي القنیۃ قرأ في الأولی الکافرون وفي الثانیۃ ألم تر أو تبت ثم ذکریتم وقیل یقطع ویبدأ ولا یکرہ في النفل شيء من ذلک۔قولہ (وأن یقرا منکوساً) بأن یقرا في الثانیۃ سورۃ أعلیٰ مما قرأ في الأولیٰ،… لأن ترتیب السورۃ في القراء ۃ من واجبات التلاوۃ وإنما جوز للصغار تسہیلاً لضرورۃ التعلیم، ط: (قولہ إلا إذا ختم الخ) قال في شرح المنیہ: وفي الولواجبۃ: من یختم القرآن في الصلاۃ إذا فرغ من المعوذتین في الرکعۃ الأولیٰ یرکع ثم یقرأ في الثانیۃ بالفاتحۃ وشيء من سورۃ البقرۃ لأن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: خیر الناس الحال المرتحل أي الخاتم المفتتح۔ اہـ (قولہ وفي الثانیۃ) في بعض النسخ وبدأ في الثانیۃ، والمعنی علیہا (قولہ ألم تر أوتبت) أي نکس أو فصل بسورۃ قصیرۃ، ط: (قولہ ثم ذکر یتم أفاد أن التنکیس أو الفصل بالقصیرۃ إنما یکرہ إذا کان عن قصد، فلو سہواً فلا کما في شرح المنیۃ، وإذا انتفت الکراہۃ فإعراضہ عن اللتي شرع فیہا لا ینبغي وفي الخلاصۃ: افتتح سورۃ وقصدہ سورۃ أخری فلما قرأ آیۃ أو آیتین أراد أن یترک تلک السورۃ ویفتتح اللتي أرادہا یکرہ۔ اہـ۔ وفي الفتح: ولو کان أي المقر و أحرفاً واحداً (قولہ ولا یکرہ في النفل شيء من ذلک) عزاہ في الفتح إلی الخلاصۃ: ثم قال: وعندي في ہذہ الکلیۃ نظر، فإنہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نہي بلالاً رضي اللّٰہ عنہ عن الانتقال من سورۃ إلی سورۃ وقال لہ: إذا ابتدأت سورۃ فأتمہا علی نحوہا حین سمعہ ینتقل من سورۃ إلی سورۃ في التہجد۔ اھـ۔ واعترض ح أیضاً بانہم نصوا بأن القراء ۃ علی الترتیب عن واجبات القراء ۃ فلو عکسہ خارج الصلاۃ یکرہ فکیف لایکرہ في النفل؟ تأمل وأجاب ط: بأن النفل لاتساع بابہ نزلت کل رکعۃ منہ فعلاً مستقلاً فیکون کما لو قرأ إنسان سورۃ ثم سکت ثم قرأ ما فوقہا فلا کراہۃ فیہ۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب صفۃ الصلاۃ، مطلب: الإستماع للقرآن فرض کفایۃ‘‘: ج ۲، ص: ۲۶۹، ۲۷۰)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 223