نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: تکبیر زوائد کی ہر تکبیر کے بعد ہاتھ چھوڑے، باندھے نہیں۔(۱)(۱) ویرفع یدیہ في الزوائد، ویسکت بین کل تکبیرتین مقدار ثلاث تسبیحات، کذا في التبین، وبہ أفتی مشایخنا، کذا في الغیاثۃ، ویرسل الیدین بین التکبیرتین، ولا یضع۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب السابع عشر: في صلاۃ العیدین‘‘: ج ۱، ص: ۲۱۱)قولہ: (ویرفع یدیہ في الزوائد) … وأشار المصنف إلی أنہ یسکت بین کل تکبیرتین؛ لأنہ لیس بینہما ذکر مسنون عندنا، ولہذا یرسل یدیہ عندنا وقدرہ مقدار ثلاث تسبیحات لزوال الاشتباہ۔ (ابن نجیم، البحر الرائق، ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ العیدین‘‘: ج ۲، ص: ۲۸۲، ۲۸۳)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 245

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق: نماز کے لئے نیت شرط ہے جس نیت سے نماز پڑھی جائے گی وہی نماز ادا ہوگی، اس لئے عید کی نماز عید کی نیت سے شخص مذکور نے ایک جگہ پڑھ لی تو اس کے ذمہ سے وجوب ساقط ہو گیا البتہ دوسری جگہ عید کی نماز میں شرکت درست ہے یہ دوسری نماز اس کی نفل ہوگی، اور اس طرح عید کی نماز میں نفل کی نیت سے شریک ہونا کوئی گناہ کی بات نہیں ہے، بلکہ اس کے دوست کا مشورہ ہی مناسب تھا، البتہ ایسا شخص عید کی نماز کی امامت نہیں کر سکتا ہے، امامت کے لئے ذمہ میں نماز کا واجب ہونا شرط ہے اور شخص مذکور سے نماز عید کا وجوب ساقط ہو گیا ہے اس  لئے امامت کی صورت میں صلوٰۃ المفترض خلف المتنفل لازم آئے گا جو جائز نہیں ہے۔’’ففي الفتاوی الہندیۃ: النیۃ إرادۃ الدخول في الصلاۃ، و الشرط أن یعلم بقلبہ أي صلاۃ یصلي و أدناہا ما لو سئل لأمکنہ أن یجیب علی البدیہۃ، وإن لم یقدر علی أن یجیب إلا بتأمل لم تجز صلاتہ، ولا عبرۃ للذکر باللسان، فإن فعلہ لتجتمع عزیمۃ قلبہ فہو حسن، کذا في الکافي‘‘(۱)’’وفیہا أیضاً: ویکفیہ مطلق النیۃ للنفل والسنۃ والتراویح، ہو الصحیح، کذا في التبیین (إلی قولہ) الواجبات والفرائض لا تتأدی بمطلق النیۃ إجماعا‘‘(۲)’’ویصلي المتنفل خلف المفترض لأن الحاجۃ في حقہ إلی أصل الصلاۃ وھو موجود في حق الإمام فیتحقق البناء‘‘(۳)(۱) جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب الثالث: في شروط الصلاۃ، الفصل الرابع: في النیۃ‘‘: ج ۱، ص: ۱۲۳۔(۲) أیضا: ج ۱، ص: ۱۲۳۔(۳) المرغیناني، الھدایۃ، ’’کتاب الصلاۃ: باب الإمامۃ‘‘: ج ۱، ص: ۱۲۷۔

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 244

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق: ایسی مسجد میں ایک نماز کی دو جماعتیں مکروہ ہیں جس میں امام ومؤذن مقرر ہوں اور اس کے مخصوص نمازی بھی ہوں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا معمول یہ تھا کہ اگر مسجد جانے کے بعد معلوم ہوتا کہ جماعت ہوچکی ہے تو بعض حضرات دوسری مسجد کی جماعت میں شامل ہونے کے لئے اس کا رخ کرتے اور بعض حضرات انفرادی نماز ادا کرتے تھے اس مسجد میں دوسری جماعت قائم نہیں کرتے تھے، اگر دوسری جماعت بلا کراہت درست ہوتی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اس مسجد میں دوسری جماعت ضرور قائم کرتے، نیز جماعت ثانیہ قائم کرنے سے جماعت اولی کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے، اصل تو جماعت اولیٰ ہی ہے، اسی کا ثواب ہے، متعدد جماعت کا نقصان یہ ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر پہلی جماعت مل گئی تو ٹھیک ہے ورنہ دوسری جماعت کریں گے، اس طرح پہلی جماعت کی اہمیت ختم کرنا انتہائی غلط ہے، شریعت کے خلاف ہے کمیٹی کا مشورہ قابل اعتناء نہیں ہے، بہتر یہ ہے کہ کمیٹی میں پڑھے لکھے اور باشعور لوگوں کے ساتھ کسی عالم ومفتی کو بھی شامل کیا جائے۔’’عن الحسن قال: کان أصحاب محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم إذا دخلوا المسجد، وقد صلي فیہ، صلوافرادیٰ‘‘(۱)’’ولنا أنہ علیہ الصلاۃ والسلام کان خرج لیصلح بین قوم، فعاد إلی المسجد وقد صلی أہل المسجد، فرجع إلی منزلہ فجمع أہلہ وصلی‘‘(۲)’’قال: (وإذا دخل القوم مسجداً قد صلی فیہ أہلہ کرہت لہم أن یصلوا جماعۃً بأذان وإقامۃ، ولکنہم یصلون وحداناً بغیر أذان وإقامۃ)؛ لحدیث الحسن: قال: کانت الصحابۃ إذا فاتتہم الجماعۃ فمنہم من اتبع الجماعات، ومنہم من صلی في مسجدہ بغیر أذان ولا إقامۃ‘‘(۱)(۱) أخرجہ ابن أبي شیبۃ في مصنفہ، ’’کتاب الصلاۃ: باب من قال: یصلون فرادی، ولایجمعون‘‘: ج ۲، ص: ۱۱۴، رقم: ۷۱۱۰۔(۲) ابن عابدین، ردالمحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الإمامۃ، مطلب: في تکرار الجماعۃ في المسجد‘‘: ج ۲، ص: ۲۸۸۔(۱) السرخسي، المبسوط، ’’کتاب الصلاۃ: باب الأذان‘‘: ج ۱، ص: ۲۸۰۔

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 241

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق: ایک مسجد یا عیدگاہ میں ایک مرتبہ عید کی نماز کے قیام کے بعد دوسری مرتبہ اس مسجد میں عید کی نماز قائم کرنا مکروہ ہوگا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا معمول یہی تھا کہ اگرمسجد کی جماعت فوت ہو جائے تو اس مسجد میں دوسری جماعت نہیں کرتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو فریقوں میں صلح کے لئے تشریف لے گئے تھے واپس آئے تو جماعت ہو چکی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں جماعت ثانیہ نہیں کی؛ بلکہ گھر تشریف لائے اور گھر والوں کو جمع کر کے جماعت سے نماز ادا فرمائی، تاہم اگر متعدد جماعت کی وجہ نمازیوں کی کثرت ہے تو ایسی صورت میں بہتر یہ ہے کہ مسجد یا عیدگاہ کے علاوہ کسی بڑے اور کھلے میدان میں عید کی نماز ادا کر لی جائے، کیوں کہ عید کی نماز کے لئے سنت بھی یہی ہے کہ میدان میں عید کی نماز ادا کی جائے۔اور اگر عیدگاہ تنگ ہے اور کھلے میدان میں بھی سارے نمازیوں کی گنجائش نہیں ہے تو سوال میں مذکور طریقہ پر عیدگاہ کی نماز کے بعد دوسری جماعت عیدگاہ کے باہر کرنی درست ہے۔’’عن الحسن قال: کان أصحاب محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم إذا دخلوا المسجد، وقد صلي فیہ، صلوا فرادیٰ‘‘(۱)’’ولنا أنہ علیہ الصلاۃ والسلام کان خرج لیصلح بین قوم، فعاد إلی المسجد وقد صلی أہل المسجد، فرجع إلی منزلہ فجمع أہلہ وصلی‘‘(۲)’’قال: (وإذا دخل القوم مسجداً قد صلی فیہ أہلہ کرہت لہم أن یصلوا جماعۃً بأذان وإقامۃ، ولکنہم یصلون وحداناً بغیر أذان وإقامۃ)؛ لحدیث الحسن: قال: کانت الصحابۃ إذا فاتتہم الجماعۃ فمنہم من اتبع الجماعات، ومنہم من صلی في مسجدہ بغیر أذان ولا إقامۃ‘‘(۳)(۱)أخرجہ ابن شیبۃ في مصنفہ، ’’کتاب الصلاۃ: باب من قال: یصلون فرادی، ولایجمعون‘‘: ج ۲، ص: ۱۱۴، رقم: ۷۱۱۰۔(۲) ابن عابدین، ردالمحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الإمامۃ، مطلب: في تکرار الجماعۃ في المسجد‘‘: ج ۲، ص: ۲۸۸۔(۳) السرخسي، في المبسوط، ’’کتاب الصلاۃ: باب الأذان‘‘: ج ۱، ص: ۲۸۰۔

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 240

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر مذکورہ بستیوں میں سے کسی بستی میں جمعہ و عیدین درست ہو تو اس بستی میں عیدگاہ بنا کر تمام کا شریک ہوجانا درست ہے اور اگر کسی بستی میں بھی جمعہ وعیدین درست نہ ہوں تو کسی بھی بستی میں عیدگاہ بناکر عید کی نماز ادا کرنا درست نہیں(۲) اس لیے بہتر  یہ ہے کہ تجربہ کار مفتیوں کو بلاکر معائنہ کرالیں اور ان کے شرعی فیصلہ کے مطابق عمل کریں۔(۲) قولہ: (وفي القہستاني الخ … وتقع فرضاً في القصبات والقری الکبیرۃ التي فیہا أسواق … وفیما ذکرنا إشارۃ إلی أنہ لا تجوز في الصغیرۃ۔ (ابن عابدین، ردالمحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘: ج ۳، ص: ۶، ۷)لا تجوز في الصغیرۃ التي لیس فیہا قاض ومنبر وخطیب، کذا في المضمرات۔ تجب صلاۃ العید علی کل من تجب علیہ صلاۃ الجمعۃ، کذا في الہدایۃ، ویشترط للعید ما یشترط للجمعۃ إلا الخطبۃ، کذا في الخلاصۃ، فإنہا سنۃ بعد الصلاۃ۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب السابع عشر في صلاۃ العیدین‘‘: ج ۱، ص: ۲۱۱)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 239

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق:  جس جگہ عید کی نماز درست ہے وہاں پر متعدد جگہوں پر بھی عید کی نماز درست ہے اس لیے صورت مسئولہ میں دونوں عیدگاہوں میں نماز عید ادا ہوجائے گی لیکن آپسی اختلاف سے اجتناب لازم ہے۔(۱)(۱) إن صلاۃ العیدین في موضعین جائزۃ بالاتفاق۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب العیدین: مطلب: یطلق المستحب علی السنۃ وبالعکس‘‘: ج ۳، ص: ۴۹)وتجوز إقامۃ صلاۃ العیدین في موضعین، وأما إقامتہا في ثلاثۃ مواضع، فعند محمد رحمہ اللّٰہ تجوز۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب السابع عشر في صلاۃ العیدین‘‘: ج ۱، ص: ۲۱۱)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 238

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: جب کہ پہلے سے عید کی نماز کے وقت کا اعلان کردیا گیا اور اسی وقت پر نماز ادا کی گئی جس وقت کا اعلان تھا تو یہ شرعاً درست ہوا لوگوں کو وقت پر عیدگاہ حاضر ہوکر جماعت میں شریک ہونا چاہئے تھا۔ اور جب نماز عید باجماعت کچھ لوگوں کی چھوٹ گئی تھی تو عیدگاہ سے الگ کسی میدان یا مسجد میں جماعت کی جانی چاہئے تھی؛ اس لیے کہ عیدگاہ میں جماعت ثانیہ مکروہ ہے تا ہم اگر عیدگاہ میں دوبارہ نماز باجماعت اداء کرلی گئی، تو نماز درست ہوگئی؛ لیکن ایسا کرنا مکروہ ہے؛ اس لیے ان لوگوں کو استغفار کرنا چاہئے۔(۱)(۱) قولہ: (ولم تقض إن فاتت مع الإمام)؛ لأن الصلاۃ بہذہ الصفۃ لم تعرف قربۃ إلا بشرائط لا تتم بالمنفرد فمرادہ نفي صلاتہا وحدہ، وإلا فإذا فاتت مع إمام، وأمکنہ أن یذہب إلی إمام آخر فإنہ یذہب إلیہ؛ لأنہ یجوز تعدادہا في مصر واحد في موضعین وأکثر اتفاقا۔ (ابن نجیم، البحر الرائق، ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ العیدین‘‘: ج ۲، ص: ۲۸۳)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 237

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: اتفاق پیدا کرنے کی کوشش کریں، تاہم فتنے سے بچنے کے لیے صورت یہ ہی ہے کہ دونوں فریق ایک ہی جگہ نماز پڑھیں خواہ اختلاف کی وجہ سے الگ الگ پڑھنی پڑے لیکن جس جگہ پر پہلی جماعت ہو اس جگہ سے ایک دو صف چھوڑ کر دوسری جماعت کریں تاکہ ہیئت بدل جائے۔(۱)(۱) قولہ: (ولم تقض إن فاتت مع الإمام)؛ لأن الصلاۃ بہذہ الصفۃ لم تعرف قربۃ إلا بشرائط لا تتم بالمنفرد فمرادہ نفي صلاتہا وحدہ، وإلا فإذا فاتت مع إمام وأمکنہ أن یذہب إلی إمام آخر فإنہ یذہب إلیہ؛ لأنہ یجوز تعدادہا في مصر واحد في موضعین وأکثر اتفاقا۔ (ابن نجیم، البحر الرائق، ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ العیدین‘‘: ج ۲، ص: ۲۸۳)        ……(ولا یصلیہا وحدہ إن فاتت مع الإمام) … أي رجل أفسد صلاۃ واجبۃ علیہ ولا قضاء (و) لو أمکنہ الذہاب إلی إمام آخر فعل؛ لأنہا (تؤدي بمصر) واحد (بمواضع) کثیرۃ (اتفاقاً)۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب العیدین، مطلب: أمر الخلیفۃ لا یبقی بعد موتہ‘‘: ج ۳، ص: ۵۸، ۵۹)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 237

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: جس کی نماز عید چھوٹ جائے اگر دوسری جگہ جماعت عید ملنا ممکن ہو اور وہاں تک جانا بھی ممکن ہو، تو وہاں جانا چاہئے اور وہاں جاکر نماز عید ادا کرنی چاہئے؛ چوں کہ نماز عید ایک شہر میں متعدد جگہ بالاتفاق ادا کی جاسکتی ہے۔ اور اگر وہ وہاں جانے سے قاصر ہو، تو اس کو چاہئے کہ چار رکعت نماز چاشت کی طرح ادا کرے یہ نماز عیدین کی نماز نہ ہوگی؛ بلکہ چاشت کی نماز ہوگی، تو اس سے ثواب میں جو کمی واقع ہوگئی تھی اس کی کچھ تلافی ہوجائے گی۔(۱)(۱) قولہ: (ولم تقض إن فاتت مع الإمام)؛ لأن الصلاۃ بہذہ الصفۃ لم تعرف قربۃ إلا بشرائط لا تتم بالمنفرد فمرادہ نفي صلاتہا وحدہ، وإلا فإذا فاتت مع إمام وأمکنہ أن یذہب إلی إمام آخر، فإنہ یذہب إلیہ؛ لأنہ یجوز تعدادہا في مصر واحد في موضعین وأکثر اتفاقا۔ (ابن نجیم، البحر الرائق، ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ العیدین‘‘: ج ۲، ص: ۲۸۳)(ولا یصلیہا وحدہ إن فاتت مع الإمام) … أي رجل أفسد صلاۃ واجبۃ علیہ، ولا قضاء (و) لو أمکنہ الذہاب إلی إمام آخر فعل؛ لأنہا (تؤدي بمصر) واحد (بمواضع) کثیرۃ (اتفاقاً) (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب العیدین، مطلب: أمر الخلیفۃ لا یبقی بعد موتہ‘‘: ج ۳، ص: ۵۸، ۵۹)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 236

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر تنہا نماز عید پڑھی ہے، تو اس کا اعتبار نہیں(۱) اور اگر جماعت سے پڑھی ہے، تو اس پر ضروری ہے کہ وہ صاف کہے کہ میں اپنی نماز پڑھ چکا ہوں اور امام نہ بنے، جماعت کے ساتھ شریک ہو سکتا ہے، اس کی نماز نفل ہو جائے گی۔(۲)(۱) قولہ: (ویصلي الإمام بہم الخ) ویکفي في جماعتہا واحد کما في النہر۔ (ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب العیدین، مطلب: یطلق المستحب علی السنۃ وبالعکس‘‘: ج ۳، ص: ۵۳)(۲) (و)لا (مفترض بمتنفل وبمفترض فرضا آخر)۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الإمامۃ، مطلب: الواجب کفایۃ ہل یسقط بفعل الصبي وحدہ؟‘‘: ج ۲، ص: ۳۲۴)قولہ: (ومفترض بمتنفل وبمفترض آخر) أي وفسد اقتداء المفترض بإمام متنفل أو بإمام یصلي فرضا غیر فرض المقتدي۔ (ابن نجیم، البحر الرائق، ’’کتاب الصلاۃ: باب الإمامۃ‘‘: ج ۱، ص: ۶۳۱)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 235