اسلامی عقائد

Ref. No. 886/41-1130

الجواب وباللہ التوفیق      

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ ایک مسلمان کے انتقال پر جس طرح غم اور افسوس کا اظہار ہوتا ہے، اسی طرح کاکسی مسلمان فلمی اداکار کے انتقال پربحیثیت مسلمان  اظہارافسوس کرنا درست  ہے،

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

فقہ

Ref. No. 1086/41-253

الجواب وباللہ التوفیق     

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  اگر کسی عورت کے پاس مال  ہو اور نصاب کے بقدر ہو تو اس کو زکوۃ دینا جائز نہیں ہے، اس سے   زکوۃ ادانہیں ہوگی۔  لیکن اگر نصاب کی مقدار کو نہیں پہونچا ہے تو اس کو زکوۃ دے سکتے ہیں۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

اسلامی عقائد

الجواب وباللّٰہ التوفیق:مروجہ فاتحہ تو وہ ہے جو آپ نے سوال میں تحریر کی ہے، جس کا التزام بدعت ہے اور بدعت گمراہی ہے؛ کیونکہ ایسا مروجہ طریقہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت نہیں ہے۔(۱)
شرعی طریقہ یہ ہے کہ کھانا وغیرہ کچھ بھی سامنے نہ رکھا جائے؛ بلکہ سورۂ فاتحہ پڑھ کر میت کو ایصال ثواب کردیا جائے اور اگر کھانے کا بھی ثواب پہونچانا ہے، تو الگ سے کھانا کھلا کر یا کسی غریب کو دے کر اس کا ثواب الگ سے میت کو پہونچادیا جائے۔(۲)

(۱) من أصر علی أمر مندوب وجعلہ عزماً ولم یعمل بالرخصۃ فقد أصاب منہ الشیطان من الإضلال۔ (ملا علي قاري، مرقاۃ المفاتیح، ’’کتاب الصلاۃ: باب الدعاء في التشہد‘‘: ج ۳، ص: ۲۶، رقم: ۹۴۶)
(۲) إن القرآن بالأجرۃ لا یستحق الثواب لا للمیت ولا للقاري۔ (ابن عابدین، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الإجارۃ: باب الإجارۃ الفاسدۃ، مطلب: تحریر مہم في عدم جواز الاستئجار علی التلاوۃ‘‘: ج ۹، ص: ۷۷)
والحاصل أن اتخاذ الطعام عند قراء ۃ القرآن لأجل الأکل یکرہ۔ …(ابن عابدین، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب: في کراہۃ الضیافۃ من أہل المیت‘‘: ج ۳، ص: ۱۴۸)
فللإنسان أن یجعل ثواب عملہ لغیرہ عند أہل السنۃ والجماعۃ صلوٰۃ کان أو صوماً أو حجاً أو صدقۃ أو قراء ۃ للقرآن أو الأذکار أو غیر ذلک من أنواع البر ویصل ذلک إلی المیت وینفعہ۔(ابن نجیم، البحر الرائق، ’’کتاب الحج: باب الحج عن الغیر‘‘: ج ۳، ص: ۱۰۵؛ وابن الہمام، فتح القدیر، ’’کتاب الحج: باب الحج عن الغیر‘‘: ج ۳، ص: ۱۳۱)

 

فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج1ص303

اسلامی عقائد

الجواب وباللّٰہ التوفیق:کسی کے انتقال پر سوگ منانے کا مطلب یہ ہے کہ اظہار افسوس و غم کا کیا جائے اور تعزیت کرنے والوں کے لیے گھر پر بیٹھا جائے، میت بچہ ہو یا بڑا، عورت ہو یا مرد بس تین دن تک اجازت ہے، اس سے زیادہ سوگ کرنے کی اجازت نہیں، اس سوگ میں بھی رونا، پیٹنا، شور مچانا وغیرہ نہ ہونا چاہئے؛ البتہ شوہر کے انتقال پر بیوی چار ماہ دس دن (ایام عدت) تک سوگ مناتی ہے جو اس کے لیے ضروری ہے۔ (۲)

(۲) وأحسن ذلک: تعزیۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم إن اللّٰہ ما أخذ ولہ ما أعطی وکل شيء عندہ بأجل مسمیٰ، حدیث أسامۃ بن زید۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلوۃ: الباب الحادی والعشرون، في الجنائز، الفصل الخامس: في الصلاۃ علی المیت‘‘: ج ۱، ص: ۲۲۸)…والجلوس للمصیبۃ ثلاثۃ أیام رخصۃ، وترکہ أحسن کذا في معراج الدرایۃ، وأما النوح العالي فلا یجوز، والبکاء مع رقۃ القلب لا بأس بہ۔ (’’أیضاً‘‘)
 

فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج1ص409

طہارت / وضو و غسل

Ref. No. 2406/44-3625

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  جاری پانی، اور ماء کثیر پاک ہے جب تک کہ اس میں نجاست کا اثر ظاہر نہ ہو، اس لئے اگر نجاست کا اثر ظاہر نہ ہو اور جاری پانی میں سے تھوڑ اپانی کہیں جمع ہوجائے یا کسی برتن میں جمع کرلیا جائے تو وہ پانی پاک ہی رہے گا، قلیل ہونے کی وجہ سے ناپاک نہیں ہوگا۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

حج و عمرہ

Ref. No. 2458/45-3725

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  مکہ شہر سے مدینہ جانے والے راستہ پر تنعیم کے مقام پر حرم مکہ کی حدود ختم ہوجاتی  ہے، یہاں ایک مسجد ہے جو حضرت عائشہ ؓ سے موسوم ہے۔ اہل مکہ یا جو لوگ مکہ مکرمہ میں قیام پذیر ہوں اور وہ عمرہ کرنا چاہیں تو حدود حرم سے باہر نکل کر حل میں سے کہیں سے بھی احرام باندھ سکتے ہیں، البتہ مسجد عائشہ سے افضل ہے۔ تاہم مسجد عائشہ میقات نہیں ہے، بلکہ تنعیم میقات ہے، اور مکہ مکرمہ کی توسیع سے حدود حرم کا دائرہ وسیع نہیں ہوگا، ۔

"ولایکره الإکثار منها أي من العمرة في جمیع السنة، بل یستحب أي الإکثار منها، وأفضل مواقیتها لمن بمکة التنعیم والجعرانة، والأول أفضل عندنا". (مناسك ملا علي القاري ۴۶۷)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 479):
"(و) الميقات (لمن بمكة) يعني من بداخل الحرم (للحج الحرم وللعمرة الحل)؛ ليتحقق نوع سفر، والتنعيم أفضل".

حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 479):
"(قوله: والتنعيم أفضل) هو موضع قريب من مكة عند مسجد عائشة، وهو أقرب موضع من الحل، ط أي الإحرام منه للعمرة أفضل من الإحرام لها من الجعرانة وغيرها من الحل عندنا، وإن كان صلى الله عليه وسلم أحرم منها؛ لأمره عليه الصلاة والسلام عبد الرحمن بأن يذهب بأخته عائشة إلى التنعيم؛ لتحرم منه، والدليل القولي مقدم عندنا على الفعلي".

"المغني“  لابن قدامة  (3/111 ):

قال ابن قدامة رحمه الله:"إن ميقات العمرة لمن كان بمكة سواء من أهلها أو ممن قدموا عليها هو الحل، وقال: لانعلم في هذا خلافاً". ("المغني" لابن قدامة 3/111).

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

نماز / جمعہ و عیدین

Ref. No. 2509/45-3829

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ مسجد شرعی میں ایک سے زائد جماعت کرنا شرعا مکروہ ہے۔ اور جو سلسلہ کسی مجبوری میں شروع کیاگیاہو تو جب مجبوری باقی نہ رہے تو وہ سلسلہ بھی بند کردینا چاہئے، اس لئے جس مسجد میں لاک ڈاؤن کے دوران ایک مجبوری کے تحت دو جماعتیں شروع کی گئی تھیں، اب ان کو بند کردینا چاہئے، البتہ اب تک جو دو جماعتیں ہوتی رہیں ان سب کی نماز درست ہوگئی۔ شرعی مسئلہ معلوم ہوجانے کے بعد بھی کچھ لوگوں کا اپنی بات پر ضد کرنا درست نہیں ہے، جس طرح پہلے ایک ہی جمعہ ہوتاتھا اسی پرانے سلسلہ کو بحال کیاجائے اور ایک ہی جماعت سے جمعہ کی نماز ادا کی جائے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

حدیث و سنت

الجواب وباللّٰہ التوفیق:حضرت زکریا علیہ السلام کی اہلیہ کا نام ایشاع بنت فاقوذ ہے۔(۱)

(۱) قولہ تعالیٰ: {وکانت امرأتي عاقراً} امرأتہ ہي إیشاع بنت فاقوذ ابن قبیل، وہي أخت حنہ بنت فاقوذا قالہ الطبري، وحنۃ ہي أمّ مریم۔
وقال القرطبي: امرأۃ زکریا ہي إیشاع بنت عمران فعلی ہذا القول: یکون یحییٰ ابن خالۃ عیسیٰ علیہما السلام علی الحقیقۃ، وعلی القول الأخر یکون ابن خالۃ أمہ۔ (أبو عبد اللّٰہ محمد، تفسیر القرطبي، ’’سورۃ مریم: ۱۵‘‘: ج ۱۱، ص: ۷۹)


فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج2ص228

خوردونوش

Ref. No. 2625/45-3983

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔   کھانے یا پینے کی چیزوں کو ضائع کرنے سے منع کیاگیا ہے، اس لئے کولڈڈرنک جو ایک مشروب ہے اور  پینے کی چیز ہے، اس سے کلی کرنا مناسب  نہیں ہے۔ سادہ پانی سے کلی کرنا چاہئے پھر کولڈڈرنک یا شربت نوش کرنا چاہئے۔  اگر کوئی مجبوری ہو جیسے نماز پڑھنی ہے اور کلی کرنے کے لئے پانی نہیں ہے تو پھر گنجائش ہوگی۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

طہارت / وضو و غسل

الجواب وباللہ التوفیق:مذکورہ برتن کا پانی پاک ہے اس کو ناپاک نہیں سمجھنا چاہیے۔(۱)

(ا)فسؤر الآدمي مطلقاً ولو جنباً أو کافراً أو امرأۃ۔ قولہ: أو کافراً؛ لأنہ علیہ الصلاۃ والسلام أنزل بعض المشرکین في المسجد علی ما في الصحیحین، فالمراد بقولہ تعالیٰ ’’إنما المشرکون نجس‘‘ النجاسۃ في اعتقادھم۔ (ابن عابدین، الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الطہارۃ، مطلب في أحکام السؤر، ج ۱، ص:۳۸۱)؛ و سؤر الآدمي طاھر، و یدخل في ھذا، الجنب والحائض والنفساء والکافر۔(جماعۃ من علماء  الہند، الفتاویٰ کتاب الطہارۃ، فصل فیما لا یجوز بہ التوضؤ ،ج۱، ص:۷۶)؛ و سؤر الحائض والنفساء والجنب والکافر طاھر۔ (سراج الدین محمد، الفتاویٰ السراجیۃ، باب الآسار، ج۱،ص:۴۹)
 

 فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج2ص433