سیاست

Ref. No. 2299/45-4186

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ حضرت خنساء کے چار بیٹوں کی شہادت کا واقعہ مشہورہے اور مختلف کتب تاریخ میں مذکور ہے ،ابن الاثیر نے اسدالغابۃ میں،ابن حجر نے الاصابۃ میں اور زرکلی نے الاعلام میں اس کو بیان کیا ہے ، تاہم اس پر نقدو تبصرہ کرنے والوں نے نقد بھی کیا ہے بعض حضرات کا خیال ہے کہ خنساء کو ان کے دوسرے شوہر مرداس بن عمر سلمی سے چار بیٹے نہیں تھے بلکہ تین بیٹے اور ایک بیٹی تھی پھر چار بیٹوں کاشہید ہونا کس طرح صحیح ہوسکتاہے اس میں ان کے ایک بیٹےعباس بن مرداس سلمی مشہور صحابی ہیںانہوں نے غزوۃ حنین میں مال غنیمت کی تقسیم پر اعتراض کیا تھا اس پر آپ نے صحابہ سے فرمایا تھا کہ ان کو دو یہاں تک  کہ وہ راضی ہوجائیں،اس لیے اگر قادسیۃ میں ان کی شرکت ہوتی تومجاہدین قادسیہ میں مورخین ان کے مشہور ہونے کی وجہ سے ضرور ان کا تذکرہ کرتے اس لیے بعض حضرات نے اس  واقعہ پر شک کا اظہار کیاہے۔جب کہ بعض حضرات کہتے ہیں پہلے شوہر کے ایک بیٹا اور دوسرے شوہر کے تین بیٹے شریک تھے ۔تاہم یہ کوئی ایسا واقعہ نہیں ہے کہ اس پرکسی عقیدہ کی صحت کا مدار موقوف ہو اس لیے اس باب میں مورخین کی روایات کو قبول کرنے میں کوئی حرج بھی نہیں۔

وذكر الزبير بن بكار، عن محمد بن الحسين المخزومي، عن عبد الرحمن بن عبد الله، عن أبيه، عن أبي وجزة، عن أبيه، أن الخنساء شهدت القادسية ومعها أربعة بنين لها، فقالت لهم أول الليل: يا بني، إنكم أسلمتم وهاجرتم مختارين والله الذي لا إله غيره إنكم لبنو رجل واحد، كما أنكم بنو امرأة واحدة، ما خنت أباكم ولا فضحت خالكم، ولا هجنت حسبكم، ولا غيرت نسبكم.

وقد تعلمون ما أعد الله للمسلمين من الثواب الجزيل في حرب الكافرين.واعلموا أن الدار الباقية خير من الدار الفانية، يقول الله عَزَّ وَجَلَّ: {يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ} . فإذا أصبحتم غدا إن شاء الله سالمين فاغدوا إلى قتال عدوكم مستبصرين، وبالله على أعدائه مستنصرين.وإذا رأيتم الحرب قد شمرت عن ساقها، واضطرمت لظى على سياقها، وجللت نارا على أرواقها، فتيمموا وطيسها، وجالدوا رئيسها عند احتدام خميسها، تظفروا بالغنم والكرامة، في دار الخلد والمقامة.فخرج بنوها قابلين لنصحها، وتقدموا فقاتلوا وهم يرتجزون، وأبلوا بلاء حسنا، واستشهدوا رحمهم الله.فلما بلغها الخبر، قالت: الحمد لله الذي شرفني بقتلهم، وأرجو من ربي أن يجمعني بهم في مستقر رحمته.(اسد الغابۃ،7/89)وقد ذكروا خنساء في الصحابة، وأنها شهدت القادسية، ومعها أربع بنين لها، فاستشهدوا وورثتهم.(الاصابۃ،فی تمییز الصحابۃ،6/126)وكان لها أربعة بنين شهدوا حرب القادسية (6/126) ـ فجعلت تحرضهم على الثبات حتى قتلوا جميعا فقالت: الحمد للَّه الّذي شرفني بقتلهم! (الاعلام للزرکلی،2/86)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: بدعت اور شرک دونوں الگ ہیں، دونوں میں بڑا فرق ہے، شرک کرنے والے کے پیچھے نماز نہیںہوگی؛ لیکن اگر کوئی گنہگار ہے خواہ گناہ کبیرہ کا مرتکب کیوں نہ ہو اور وہ بدعتی ہے تو ایسے شخص کو امام بنانا مکروہ تحریمی ہے؛ لیکن اگر نماز ان کے پیچھے پڑھی گئی تو فریضہ ادا ہوجائے گا اعادہ کی ضرورت نہیں ۔ اگر وہ تفسیر کی ایسی کتاب پڑھتا ہے جس میں مصنف نے تفسیر بالرائے کی ہو تو ایسی کتاب پڑھنی نہیں چاہئے اور اگر وہ تفسیر بالرائے کو صحیح مانتا ہے یا خود تفسیر بالرائے کرتا ہے تو ایسے شخص کو امام بنانا مکروہ تحریمی ہے، انگوٹھے چومنا، مسجد میں بلند آواز سے سلام پڑھنا بدعت اور خلاف سنت ہے۔(۱)

(۱) ولذا کرہ إمامۃ الفاسق والمبتدع بارتکابہ ما أحدث علی خلاف الحق المتلقي۔ عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من علم أو عمل أو حال بنوع شبہۃ أو استحسان وروي محمد عن أبي حنیفۃ رحمہ اللّٰہ تعالیٰ وأبي یوسفؒ أن الصلاۃ خلف أہل الأہواء لاتجوز، والصحیح أنہا تصح مع الکراہۃ خلف من لا تکفرہ بدعتہ الخ۔ (أحمد بن محمد، حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح، ’’کتاب الصلاۃ:  فصل في بیان الأحق بالإمامۃ‘‘ص: ۳۰۳، ۳۰۲، مکتبہ شیخ الہند دیوبند)
ویکرہ إمامۃ عبد … ومبتدع أي صاحب بدعۃ وہي اعتقاد خلاف المعروف عن الرسول لابمعاندۃ بل بنوع شبہۃ۔ (الحصکفي،  رد المحتار مع الدرالمختار،  ’’کتاب الصلاۃ: باب الإمامۃ، مطلب في تکرار الجماعۃ في المسجد‘‘: ج۲، ص: ۲۹۹، ۲۹۸، زکریا دیوبند)

 

فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج5 ص128

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق:مذکورہ شخص کی امامت شرعاً درست ہے۔(۱)

(۱) ولذا قید الأبرص بالشیوع لیکون ظاہرا ولعدم إمکان إکمال الطہارۃ أیضاً…في المفلوج والأقطع والمجبوب۔ (ابن عابدین، در المحتار، ’’کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مطلب في إمامۃ الأمرد‘‘: ج ۲، ص: ۳۰۲)
 

فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج5 ص226

 

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق: ایسا کرنا جائز نہیں ہے، مکروہ تحریمی ہے؛ لیکن بیع ہوجائے گی البتہ عاقدین کو ایک ناجائز معاملہ کرنے کی وجہ سے توبہ واستغفار کرنے کے ساتھ مذکورہ معاملہ کو ختم کرنا چاہئے۔
{فَاسْعَوْا إِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ وَذَرُوا الْبَیْعَ ط}(۱)
’’ووجب یسعي إلیہا وترک البیع ولو مع السعي وفي المسجد أعظم وزرًا … قال الشامي أو علیٰ بابہ وحاصلہ أن السعي نفسہ فرض والواجب کونہ في وقت الأذان الأول‘‘(۲)
’’وکرہ تحریماً مع الصحۃ (البیع عندالأذان الأول)‘‘(۳)
’’إلا إذا تبایعا یمشیان فلا بأس بہ لتعلیل النہي بالإخلال بالسعي فإذا انتفی انتفی‘‘(۴)

(۱) سورۃ الجمعہ: ۹۔
(۲) ابن عابدین، ردالمحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ، مطلب في حکم المرقي بین یدیی الخطیب‘‘ ج ۳، ص: ۳۸۔
(۳) ابن عابدین، ردالمحتار، ’’کتاب البیوع: باب البیع الفاسد، مطلب أحکام نقصان المبیع فاسدًا‘‘: ج۷، ص: ۳۰۴۔    (۴) أیضًا۔

فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج4 ص235

 

Marriage (Nikah)

Ref. No. 2794/45-4360

In the name of Allah the most Gracious the most Merciful

The answer to your question is as follows: 

Before marriage the fiancée is a stranger, it is not permissible for you to talk to her. Meanwhile, you can also give your suggestion to her parents that the marriage should take place now and sending her as bride to the husband’s home will be after completing her studies. So in such a case it will be permissible for you to talk to her just after marriage.

And Allah knows best

Darul Ifta

Darul Uloom Waqf Deoband

 

Masajid & Madaris

Ref. No. 1265 Alif

In the name of Allah the most Gracious the most Merciful

The answer to your question is as it follows:

What are the reasons to demolish the Masjid? If it is due to the lack of space or the walls of the Masjid are so weak that they might fall at anytime, then the people of this mohalla should perform their daily prayers in another Masjid nearby if there is any. Else they can perform their daily prayers in a building near this Masjid; although the rules of Masjid are not applicable to the place there they perform namaz for the time being.
And Allah knows best

Darul Ifta

Darul Uloom Waqf Deoband

ذبیحہ / قربانی و عقیقہ

Ref. No. 37 / 1045

الجواب وباللہ التوفیق                                                                                                                                                        

بسم اللہ الرحمن الرحیم:عقیقہ کا گوشت غیرمسلم کو بھی دے سکتے ہیں۔ بڑے جانور میں لڑکے کے عقیقہ کے لئے دو حصے اور لڑکی کے لئے ایک حصہ رکھنا کافی ہوگا۔ ایام قربانی میں ہونا ضروری نہیں بلکہ دوسرے ایام میں بھی کرسکتے ہیں۔ البتہ اس کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اس جانور میں سے سارے حصے صدقہ وغیرہ کے ہوں۔ چند حصے لے کر باقی گوشت بیچنا جائز نہیں  ہوگا۔ واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Games and Entertainment

Ref. No. 38 / 1145

In the name of Allah the most gracious the most Merciful

The answer to your question is as follows:

A Muslim is not allowed to greet or reply to a non-mahram girl’s greeting and also shaking hands with them is strictly prohibited in Islam. Haram is Haram. It will remain Haram even if you do it with good intention.  

And Allah knows best

Darul Ifta

Darul Uloom Waqf Deoband

طلاق و تفریق

Ref. No. 40/1068

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ نشے کی حالت میں زجراً وقوع طلاق  کا حکم ہوگا۔ 

واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Islamic Creed (Aqaaid)

Ref. No. 41/989

In the name of Allah the most gracious the most merciful

The answer to your question is as follows:

A Muslim should always keep on wearing the dress of pious persons. However, if one is wearing paint and shirt in which the contour of body parts is not exposed and the structure of hidden parts is not revealed then it may be allowable.

And Allah knows best

Darul Ifta 

Darul Uloom Waqf Deoband