طہارت / وضو و غسل

الجواب وباللّٰہ التوفیق:شاور، ٹونٹی، نل اور ٹب وغیرہ کے ذریعے غسل کرنے کے لیے اگر اچھی طرح کلی کرلی گئی اور ناک میں نرم ہڈی تک پانی پہونچایا گیا اور پھر پورے بدن پر کم از کم ایک مرتبہ اس طرح پانی بہا لیا گیا کہ بدن کا کوئی حصہ بال برابر بھی خشک نہ رہا، تو غسل کے واجبات ادا ہو جائیں گے، صاحب نور الایضاح نے بیان کیا ہے: ’’وغسل نجاسۃ لو کانت بانفراد ہا‘‘ اگر بدن پر نجاست حقیقیہ لگی ہو، تو اولا نجاست کو دور کرے دونوں ہاتھوں کو اچھی طرح دھوئے پھر وضو کرے اور اگر روزہ کی حالت نہ ہو تو کلی کے ساتھ غرغرہ بھی کرے اور اگر کسی ایسے مقام پر غسل کر رہا ہے جہاں غسل کا پانی جمع ہوتا ہے، تو ایسی صورت میں غسل سے فارغ ہونے کے بعد دوسری جگہ ہٹ کر پیر دھوئے۔
’’وعن عائشۃ زوج النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم أن النبي صلی اللّٰہ علیہوسلم: کان إذا اغتسل من الجنابۃ بدأ فغسل یدیہ ثم یتوضأ کما یتوضأ للصلاۃ ثم یدخل أصابعہ في الماء فیخلل بہا أصول شعرہ ثم یصب علی رأسہ ثلاث غرف بیدیہ ثم یفیض الماء علی جلدہ کلہ‘‘ (۱)
نیز جسم پر پانی کسی بھی چیز سے ڈالا جائے خواہ شاور سے ہو یاکسی اور چیز سے اس میں کوئی حرج نہیں؛ البتہ کھڑے ہوکر غسل کرنے کے بجائے بیٹھ کر غسل کرنا زیادہ پسندیدہ ہے؛ کیوں کہ اس میں پردہ زیادہ ہے۔
’’(ویجب) أي یفرض (غسل) کل ما یمکن من البدن بلا حرج مرۃ کأذن و (سرۃ وشارب وحاجب و) أثناء (لحیۃ) وشعر رأس ولو متلبداً لما في {فاطہروا} (سورۃ المائدۃ: ۶) من المبالغۃ (وفرج خارج) لأنہ کالفم لا داخل؛ لأنہ باطن، ولا تدخل
أصبعہا في قبلہا بہ یفتی۔ (لا) یجب (غسل ما فیہ حرج کعین) وإن اکتحل بکحل نجس (وثقب انضم و) لا (داخل قلفۃ)‘‘(۲)

 

(۱) أخرجہ البخاري، في صحیحہ، ’’کتاب الغسل: باب الوضوء قبل الغسل‘‘: ج ۱، ص: ۵۹، رقم: ۲۴۸۔
(۲) ابن عابدین، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الطہارۃ: مطلب في أبحاث الغسل‘‘: ج ۱، ص: ۲۸۵۔

 

 فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج3 ص348

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: اس شخص کا قول غلط ہے اور اہل سنت والجماعت اور اہل اسلام کے عقیدہ کے خلاف ہے، لہٰذا اس کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ اگر وہ شخص اپنے اس عقیدہ سے باز آ جائے اور توبہ کرلے تو آئندہ اس کی امامت درست ہوگی۔(۱)
’’عن عبد اللّٰہ ابن مسعود أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ‘‘(۲)
’’عن أبي ہریرہ رضي اللّٰہ عنہ، عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال لو أخطأتم حتی تبلغ خطایاکم السماء ثم تبتم لتاب علیکم‘‘(۳)

(۱) وإن أنکر بعض ما علم من الدین ضرورۃ کفر بہا کقولہ: إن اللّٰہ تعالیٰ جسم کالأجسام و في الشامیۃ قولہ کقولہ جسم کالأجسام وکذا لو لم یقل کالأجسام، وأما لو قال لا کالأجسام فلا یکفر لأنہ لیس فیہ إلا إطلاق لفظ الجسم الموہم للنقص فرفعہ بقولہ لا کالأجسام فلم یبق إلا مجرد الإطلاق وذلک معصیۃ۔ (ابن عابدین، رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الإمامۃ، مطلب: البدعۃ خمسۃ أقسام‘‘: ج۲، ص: ۳۰۱، ۳۰۰، مکتبۃ: زکریا دیوبند)
(۲) أخرجہ ابن ماجہ   في سننہ، ’’کتاب الزہد: باب ذکر التوبۃ‘‘: ص: ۳۱۳،  رقم: ۴۲۵۰، نعیمیہ۔
(۳) أیضًا:رقم: ۴۲۵۱۔

فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج5 ص131

 

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب و باللّٰہ التوفیق: جو شخص معذوری کی وجہ سے کھڑے ہونے پر قدرت نہ رکھتا ہو اور بیٹھ کر امامت کرائے تو اس کی امامت درست ہے۔ بشرطیکہ وہ سجدہ زمین پر کرتا ہو، اشارہ سے نہ کرتا ہو، لیکن بہتر یہ ہے کہ قادر علی القیام امامت کرنے والا موجود ہو تو اس کو امام بنایا جائے۔
’’لا یفسد اقتداء قائم بقاعد وبأحدب وأما الأول فہو قولہما، وحکم محمد بالفساد نظرا إلی أنہ بناء القوي علی الضعیف، ولہما اقتداء الناس بالنبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم في مرض موتہ وہو قاعد وہم قیام وہو آخر أحوالہ، فتعین العمل بہ بناء علی أنہ علیہ السلام کان إماما وأبو بکر مبلغاً للناس تکبیرہ‘‘(۱)
’’وصح اقتداء … قائم بقاعد یرکع ویسجد، لأنہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم صلی آخر صلاتہ قاعداً وہم قیام وأبو بکر یبلغہم تکبیرہ۔۔۔۔ وغیرہ أولی، وقال الشامي: وقید القاعد بکونہ یرکع ویسجد لأنہ لو کان مومیاً لم یجز اتفاقاً‘‘(۲)

(۱) ابن نجیم، البحر الرائق، ’’کتاب الصلاۃ: باب الإمامۃ‘‘: ج ۱، ص:۶۳۷، زکریا دیوبند۔ (۲) ابن عابدین، رد المحتار مع الدرالمختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الإمامۃ، مطلب الکافي للحاکم جمع کلام محمد في کتبہ‘‘: ج ۲، ص: ۳۳۶، ۳۳۸۔

 

فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج5 ص228

 

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق:سرکار کے محکمہ اوقاف کی طرف سے ائمہ و مؤذنین کو جو تنخواہ ملتی ہے اس کا لینا درست ہے؛ اس لیے کہ اوقاف یہ درحقیقت مسلمانوں کی جائدادیں ہیں جس کی آمدنی سرکار عام طور پر مسلمانوں کے نجی مسائل میں خرچ کرتی ہے، اگر یہ تنخواہ اوقاف سے نہ ملتی  بلکہ سرکار اپنے نجی خزانے سے دیتی تو بھی جائز ہوتی، تو یہاں بدرجہ اولی جائز ہے؛ البتہ اگر یہ اندیشہ ہو کہ آئندہ سرکار ائمہ و مؤذنین پر اس تنخواہ کی وجہ سے دباؤ بناسکتی ہے یا کسی قسم کی پریشانی میں ڈال سکتی ہے یا سرکار خود ہی امام ومؤذن کا تعین کرسکتی ہے کسی فاسق وفاجر کو امام بناسکتی ہے، تو پرہیز کرنا ہی بہتر ہوگا۔
’’اختلف الناس في اخذ الجائزۃ من السلطان قال بعضہم یجوز ما لم یعلم أنہ یعطیہ من حرام قال محمد: و بہ نأخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ و ہو قول أبي حنیفۃ و أصحابہ‘‘(۱)
’’في شرح الجیل للخصاف لشمس الأئمۃ السرخسي أن الشیخ أبا القاسم کان یأخذ جائزۃ السلطان وکان یستقرض جمیع حوائجہ وما یأخذ من الجائزۃ یقضی بہا دیونہ‘‘(۲)

(۱) جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الکراہیۃ، الباب الثاني عشر في الہدایا والضیافات‘‘: ج ۵، ص: ۳۹۶۔
(۲) عالم بن العلاء، تاتارخانیہ: ج ۱۸، ص: ۳۱۷۔

 

فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج4 ص237

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: ’’ارے اللہ‘‘ نماز میں کہہ دینا نماز کو فاسد کردے گا، البتہ صرف اللہ اگر منہ سے نکل جائے، تو نماز فاسد نہیں ہوگی۔(۲)

(۲) والدعاء بما یشبہ کلا منا أفردہ وإن دخل في التکلم لأن الشافعي لا یفسدہا بالدعاء وینبغي أن یتعلق قولہ ’’بما یشبہ کلامنا‘‘ بالتکلم والدعاء إلی قولہ بخلاف التکلم فإنہ یفسد وإن لم یشبہ کلامنا کالمہمل۔ (ابن نجیم، البحر الرائق، ’’کتاب الصلاۃ‘‘: ج ۲، ص: ۵)
 

فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج6 ص71

Prayer / Friday & Eidain prayers

Ref. No. 849 Alif

In the name of Allah the most Gracious the most Merciful

The answer to your question is as follows:

It is sunnah to raise one’s hand before reciting dua-e-Qunoot as it is mentioned in ‘Shami’.

And Allah knows best

 

Darul Ifta

Darul Uloom Waqf Deoband

عائلی مسائل

Ref. No. 38 / 1139

الجواب وباللہ التوفیق                                                                                                                                                        

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  بشر ط صحت سوال  صورت مسئولہ میں جبکہ بچہ کے اعضاء بن چکے ہیں اور جان پڑچکی ہے، اس کو ضائع کرنا حرام ہے۔ بچہ پیدا ہونے کے  بعد ضروری نہیں کہ ایسا ہی ہو جیساکہ رپورٹ میں ہے ۔  واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

اسلامی عقائد

Ref. No. 39/1021

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ کرلینا درست ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

نکاح و شادی

Ref. No. 40/863

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ زکوۃ کی رقم سے کوئی سامان خرید کر لڑکی کو جو زکوۃ کی مستحق ہو دینا درست ہے، البتہ زکوۃ کی رقم کھانے یا عام لوگوں کے استعمال کی چیزوں میں لگانا جائز نہیں اس سے زکوۃ دینے والوں کی زکوۃ ادا نہیں ہوگی۔  اور کھانا جائز نہیں ہوگا۔ اس میں ایسا کریں کہ کھانے کا نظم دیگر پیسوں سے کریں اور زکوۃ کے پیسوں کو لڑکی کے دینے کے لئے سامان خرید لئے جائیں۔  زکوۃ کی ادائیگی کے لئے مستحق کو مالک بنادینا ضروری ہے ۔

واللہ اعلم بالصواب 

نماز / جمعہ و عیدین

Ref. No. 982/41-131

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  نماز درست ہوگئی، اس سے معنی میں کوئی فساد نہیں پیدا ہوا بلکہ  حیرت و استعجاب  کا مفہوم ہوگا۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند