Frequently Asked Questions
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مذکورہ صورت میں سجدہ سہو لازم اور واجب نہیں ہے، کیوں کہ اس صورت میں ترک واجب نہیں ہوا کہ سجدہ سہو لازم آئے، بلکہ بغیر سجدہ سہو کے نماز درست اور صحیح ہے۔
’’وفي أظہر الروایات لا یجب سجود السہو لأن القرأۃ فیہا مشروعۃ من غیر تقدیر والاقتصار علی الفاتحۃ مسنون لا واجب‘‘(۱)
(۱) ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب صفۃ الصلاۃ، مطلب: کل صلاۃ أدیت مع کراہۃ التحریم تجب إعادتہا‘‘: ج ۲، ص: ۱۵۰، مکتبہ زکریا، دیوبند)ولو قرأ في الأخریین الفاتحۃ والسورۃ لا یلزمہ السہو، وہو الأصح۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب الثاني عشر: في سجود السہو‘‘: ج ۱، ص: ۱۸۶، مکتبہ فیصل، دیوبند)واکتفی) المفترض (فیما بعد الأولیین بالفاتحۃ) فإنہا سنۃ علی الظاہر ولو زاد لا بأس بہ۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب صفۃ الصلاۃ، مطلب: مہم في عقد الأصابع عند التشہد‘‘: ج ۲، ص: ۲۲۱)قولہ: (ولو زاد لا بأس)، أي لو ضم إلیہا سورۃ لا بأس بہ لأن القراء ۃ في الأخریین مشروعۃ من غیر تقدیر۔ (أیضاً:)ولا یجب السجود إلا بترک واجب أو تأخیرہ أو تأخیر رکن أو تقدیمہ أو تکرارہ أو تغییر واجب بأن یجہر فیما یخافت وفي الحقیقۃ وجوبہ بشيء واحد وہو ترک الواجب کذا في الکافي۔ (وأیضاً)فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 203
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: مذکورہ صورت سے معلوم ہوتا ہے کہ زید کی زندگی کے آخری تین سال جنون کی کیفیت میں گذرے؛ اس لیے بشرط صحت سوال ان نمازوں کا کوئی کفارہ لازم نہیں جو اس حالت میں فوت ہوگئیں۔
’’رفع القلم عن ثلاثۃ عن المجنون حتی یفیق وعن النائم حتی یستیقظ وعن الصبي حتی یحتلم‘‘(۱)
(۱) أخرجہ أبو داود، في سننہ، ’’کتاب الحدود: باب في المجنون یسرق ویصیب حداً‘‘: ج ۲، ص: ۶۰۴، رقم: ۴۴۰۱۔فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 199
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللّٰہ التوفیق: چھوٹی ہوئی نماز کے فدیہ کے سلسلے میں اگر مرحوم نے وصیت کی ہے تو ان کے ترکہ کے ایک تہائی مال سے فدیہ ادا کیا جائے گا اور اگر وصیت نہیں کی ہے تو ترکہ سے یاورثا کا اپنی طرف سے فدیہ ادا کرنا واجب نہیں ہے ہاں اگر ورثہ اپنے طور پر ادا کرنا چاہیں تو ادا کرسکتے ہیں ’’إن شاء اللہ‘‘ اللہ تعالیٰ قبول فرمالیں گے، ایک نماز یا ایک روزہ کا فدیہ (kg1.633) ایک کلو چھ سو تینتیس گرام گیہوں یا اس کی قیمت ہے۔ جتنی نماز یں یا روزے ہیں اسی اعتبار سے اس کا حساب لگالیا جائے، پھر یکبارگی یا تھوڑا تھوڑا حسب سہولت نکالیں۔ جن کو زکاۃ دینا جائز ہے ان کو یہ رقم یا گیہوں دے سکتے ہیں۔
’’لومات وعلیہ صلوات فائتۃ و أوصی بالکفارۃ یعطی لکل صلاۃ نصف صاع من بر (قولہ یعطی) بالبناء للمجہول: أي یعطي عنہ ولیہ: أي من لہ ولایۃ التصرف في مالہ بوصایۃ أو وراثۃ فیلزمہ ذلک من الثلث إن أوصی، وإلا فلا یلزم الولي ذلک لأنہا عبادۃ فلا بد فیہا من الاختیار، فإذا لم یوص فات الشرط فیسقط في حق أحکام الدنیا للتعذر، بخلاف حق العباد فإن الواجب فیہ وصولہ إلی مستحقہ لا غیر، ولہذا لو ظفر بہ الغریم یأخذہ بلا قضاء ولا رضا، ویبرأ من علیہ الحق بذلک إمداد۔ ثم اعلم أنہ إذا أوصی بفدیۃ الصوم یحکم بالجواز قطعا لأنہ منصوص علیہ۔ وأما إذا لم یوص فتطوع بہا الوارث فقد قال محمد في الزیادات إنہ یجزیہ إن شاء اللّٰہ تعالٰی‘‘(۱)
(۱) الحصکفي، الدر المختار مع ردالمحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب قضاء الفوائت، مطلب: إسقاط الصلاۃ عن المیت‘‘: ج ۲، ص: ۵۳۲۔إذا مات الرجل وعلیہ صلوٰۃ فائتۃ فأوصی بأن تعطی کفارۃ صلواتہ یعطی… لکل صلاۃ نصف صاع من بر وللوتر نصف صاع … وإن لم یوصی لورثۃ وتبرع بعض الورثۃ یجوز۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب الحادي عشر: في قضاء الفوائت‘‘: ج ۱، ص: ۱۸۴)فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 198
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللّٰہ التوفیق: موجودہ اوزان کے اعتبار سے صدقہ کی مقدار ڈیڑھ کلو چوہتر گرام چھ سو چالیس ملی گرام ہے؛ لیکن احتیاط اس میں ہے کہ ایک کلو چھ سو تینتیس گرام کے اعتبار سے نکالے تو اس طرح نمازوں کے فدیہ میں بشمول وتر ایک دن کی چھ نمازوں کا فدیہ ۷۹۸- ۹ کلو ہوتا ہے، تو ایک سال کی نمازوں کا فدیہ ۲۹۰- ۷۸-۳۴؍ کونٹل گندم یا اس کی قیمت ہے ایک روزہ کا فدیہ بھی صدقۃ الفطر کے برابر ہے۔(۲)
(۲) لو مات وعلیہ صلوات فائتۃ وأوصی بالکفارۃ یعطی لکل صلاۃ نصب صاع من بر کالفطرۃ، وکذا حکم الوتر والصوم۔ (الحصکفي، رد المحتار علی الدرالمختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب قضاء الفوائت، مطلب إسقاط الصلاۃ عن المیت‘‘: ج ۲، ص: ۵۳۲)
والصحیح أن لکل صلاۃ فدیۃ ہي نصف صاع من بر أو دقیقہ أو سویقہ أو صاع تمر أو زبیب أو شعیر أو قیمتہ وہي أفضل لتنوع حاجات الفقیر وإن لم یوص وتبرع عنہ ولیہ أو أجنبي جاز إن شاء اللّٰہ تعالٰی۔ (أحمد بن إسماعیل الطحطاوي، حاشیۃ الطحطاوي علی المراقي، ’’کتاب الصلاۃ: فصل في إسقاط الصلاۃ والصوم‘‘: ج ۱، ص: ۴۳۸)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 197
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللّٰہ التوفیق: خود اس کو اپنی نمازوں کا فدیہ دینا درست نہیں ہے اور اس فدیہ سے نماز ذمہ سے ساقط نہ ہوگی، کیوں کہ نماز میں یہ وسعت ہے کہ اگر کھڑے ہوکر نہ پڑھ سکے، تو بیٹھ کر پڑھے اور اگر بیٹھ کر نہ پڑھ سکے، تو لیٹ کر پڑھے، اگر رکوع، سجود نہ کر سکے، تو اشارے سے نماز پڑھے اس کے باوجود اگر نہ پڑھ سکے، تو اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ وصیت کردے کہ میرے مرنے کے بعد میرے مال سے میری نماز کا فدیہ ادا کردینا اور مرنے کے بعد کچھ مال چھوڑا تو کل مال کے ایک ثلث میں سے نمازوں کا فدیہ ادا کیا جائے اور اگر ایک ثلث مال سے فدیہ بڑھ جائے، تو پھر وارثوں کو اختیار ہے کہ زائد مقدار ادا کریں یا نہ کریں۔(۱)
(۱) تتمۃ: في البحر من القنیۃ: ولا فدیۃ في الصلوات حالۃ الحیاۃ بخلاف الصوم۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ المریض‘‘: ج ۲، ص: ۵۷۰، زکریا دیوبند)من تعذر علیہ القیام أي کلہ لمرض حقیقي وحدہ أن یلحقہ بالقیام ضرر بہ یفتی (قبلہا أو فیہا) أي الفریضۃ أو حکمي بأن خاف زیادتہ أو بطئ برئہ بقیامہ أو دوران راسہ أو وجد لقیامہ…ألماً شدیداً أو کان لو صلی قائما سلس بول أو تعذر علیہ الصوم کما مر صلی قاعداً إلی قولہ وإن تعذر القعود ولو حکماً أو مأ مستلقیا علی ظہرہ۔ (أیضاً: ج ۲، ص: ۶۴ ۵ تا ۵۶۹)لو مات وعلیہ صلوات فائتۃ وأوصی بالکفارۃ یعطی لکل صلاۃ نصف صاع من بر۔ (الحصکفي، رد المحتار علی الدرالمختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب قضاء الفوائت، مطلب: إسقاط الصلاۃ عن المیت‘‘: ج ۲، ص: ۵۳۲)فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 196
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللّٰہ التوفیق: ایک دن کی چھ نمازوں کا کفارہ ادا کیا جائے گا،ایک نماز کا فدیہ ایک کلو ۶۳۳؍ گرام گندم ہے اور چھ نمازوں کا تقریباً دس کلو گندم ہوتا ہے یہ ہی ادا کیا جائے۔(۱)
(۱) ولا یصح أن یصلي أحد عنہ لقولہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لا یصوم أحد من أحد ولا یصلي أحد من أحد ولک یطعم عنہ۔ (أحمد بن إسماعیل الطحطاوي، حاشیۃ الطحطاوي علی المراقي، ’’کتاب الصلاۃ: فصل: في إسقاط الصلاۃ والصوم‘‘: ص: ۴۳۹)
لو مات وعلیہ صلوات فائتۃ وأوصی بالکفارۃ یعطی لکل صلاۃ نصف صاع من بر۔ (الحصکفي، رد المحتار علی الدرالمختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب قضاء الفوائت، مطلب: إسقاط الصلاۃ عن المیت‘‘: ج ۲، ص: ۵۳۲)
کے ایک ثلث میں سے نمازوں کا فدیہ ادا کیا جائے اور اگر ایک ثلث مال سے فدیہ بڑھ جائے، تو پھر وارثوں کو اختیار ہے کہ زائد مقدار ادا کریں یا نہ کریں۔(۱)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 195
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللّٰہ التوفیق: ایک نماز کا کفارہ صدقۃ الفطر کے بقدر ایک کلو ۶۳۳؍ گرام گندم ہے، ایک دن کی چھ نمازوں کا کفارہ ادا کیا جائے کیوں کہ وتر مستقل نماز شمار کی جائے گی، اس حساب سے گیارہ دن کی نمازوں کا کفارہ ادا کردیا جائے، اگر قیمت ادا کرنا ہو تو کل گندم کی قیمت ادا کی جائے گی بازاری بھاؤ کے اعتبار سے۔ یہ فدیہ فقراء وغرباء کو دیا جائے۔(۱)
(۱) لو مات وعلیہ صلوات فائتۃ وأوصی بالکفارۃ یعطی صلاۃ نصف صاع من بر کالفطر، وکذا حکم الوتر۔ (الحصکفي، رد المحتار علی الدرالمختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب قضاء الفوائت، مطلب: إسقاط الصلاۃ عن المیت‘‘: ج ۲، ص: ۵۳۲)والصحیح أن لکل صلاۃ فدیۃ ہي نصف صاع من بر أو دقیقہ أو سویقہ أو صاع تمر أو زبیب أو شعیر أو قیمتہ وہي أفضل لتنوع حاجات الفقیر وإن لم یوص وتبرع عنہ ولیہ أو…أجنبي جاز إن شاء اللّٰہ تعالٰی۔ (أحمد بن إسماعیل الطحطاوي، حاشیۃ الطحطاوي علی المراقي، ’’کتاب الصلاۃ: فصل في إسقاط الصلاۃ والصوم‘‘: ج ۱، ص: ۴۳۸)فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 195
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللّٰہ التوفیق: ایک نماز کا کفارہ انگریزی تول سے پونے دو سیر گندم ہے۔ دن رات کی نمازوں کا کفارہ ایک دن کا تقریباً دس کلوگندم ہوگا (چھ نمازیں ہیں وتر کے ساتھ)
’’ولو مات وعلیہ صلاۃ فائتۃ وأوصی بالکفارۃ یعطی لکل صلاۃ نصف صاع من بر کالفطرۃ وکذا حکم الوتر والصوم‘‘(۱)
پس ایک دن کی نماز کا کفارہ دس سیر گندم ہوئے، دینے والے کو اختیار ہے کہ اس کی قیمت دے یا گندم دے لیکن نقد روپیہ دینا بہتر ہے کیوں کہ اس میں غریبوں کی ضرورت پوری ہوجاتی ہے۔
ایک ماہ کا کفارہ تین کونٹل اور تین ماہ کی نمازوں کا کفارہ نو کونٹل ہوئے، گندم دے یا اس کی قیمت ادا کردے تب بھی کفارہ ادا ہوجائے گا۔ حاصل یہ ہے کہ ایک نماز یا ایک روزے کے بدلہ ایک صدقۃ الفطر کی مقدار دیا ہے۔
(۱) الحصکفي، رد المحتار علی الدرالمختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب قضاء الفوائت، مطلب: إسقاط الصلاۃ عن المیت‘‘: ج ۲، ص: ۵۳۲۔والصحیح أن لکل صلاۃ فدیۃ ہي نصف صاع من بر أو دقیقہ أو سویقہ أو صاع تمر أو زبیب أو شعیر أو قیمتہ وہي أفضل لتنوع حاجات الفقیر وإن لم یوص وتبرع عنہ ولیہ أو أجنبي جاز إن شاء اللّٰہ تعالٰی۔ (أحمد بن إسماعیل الطحطاوي، حاشیۃ الطحطاوي علی المراقي، ’’کتاب الصلاۃ: فصل: في إسقاط الصلاۃ والصوم‘‘: ج ۱، ص: ۴۳۸)والصحیح أن لکل صلاۃ فدیۃ ہي نصف صاع من بر أو دقیقہ أو سویقہ أو صاع تمر أو زبیب أو شعیر أو قیمتہ وہي أفضل لتنوع حاجات الفقیر وإن لم یوص وتبرع عنہ ولیہ أو أجنبي جاز إن شاء اللّٰہ تعالٰی۔ (أحمد بن إسماعیل الطحطاوي، حاشیۃ الطحطاوي علی المراقي، ’’کتاب الصلاۃ: فصل في إسقاط الصلاۃ والصوم‘‘: ج ۱، ص: ۴۳۸)فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 193
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مرحومہ نے چوں کہ اپنی نمازوں اور روزوں کے لیے کفارہ کی وصیت نہیں کی اس لیے اس کے وارثین پر مرحومہ کے ترکہ سے نماز، روزوں کا فدیہ ادا کرنا واجب نہیں، تاہم اگر بالغ وارثین اپنے حصہ کے پیسہ سے کفارہ ادا کرنا چاہیں تو ادا کر سکتے ہیں۔(۱)
(۱) وأشار بالتبرع إلی أن ذلک لیس بواجب علی الولي۔ (الحصکفي، رد المحتار علی الدرالمختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب قضاء الفوائت، مطلب: إسقاط الصلاۃ عن المیت‘‘: ج ۵۳۲، ۵۳۴)
وفي فتاوی الحجۃ: وإن لم یوص لورثتہ وتبرع بعض الورثۃ یجوز ویدفع عن کل صلاۃ نصف صاع حنطۃ منوین۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاوی الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب الحادي عشر: في قضاء الفوائت‘‘: ج ۱، ص: ۱۸۴)
والصحیح أن لکل صلاۃ فدیۃ ہي نصف صاع من بر أو دقیقہ أو سویقہ أو صاع تمر أو زبیب أو شعیر أو قیمتہ وہي أفضل لتنوع حاجات الفقیر وإن لم یوص وتبرع عنہ ولیہ أو أجنبي جاز إن شاء اللّٰہ تعالٰی۔ (أحمد بن إسماعیل الطحطاوي، حاشیۃ الطحطاوي علی المراقي، ’’کتاب الصلاۃ: فصل في إسقاط الصلاۃ والصوم‘‘: ج ۱، ص: ۴۳۸)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 193
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللّٰہ التوفیق: نماز وروزوں کے فدیہ کی اگر مرنے والے نے وصیت کی ہو اور مال نہ چھوڑا ہو پھر بھی ورثہ ادا کردیں تو یہ تبرع اور احسان عظیم ہے اور امید ہے کہ فدیہ ادا ہو جائے گا۔
’’ولو مات وعلیہ صلاۃ فائتۃ وأوصی بالکفارۃ یعطی لکل صلاۃ نصف صاع من برکالفطرۃ وکذا حکم الوتر والصوم وإنما یعطی من ثلث مالہ قولہ ولم لم یترک مالاً، زاد في الإمداد أولم یوص بشی وأراد الولی التبرع الخ وأشار بالتبرع إلی أن ذلک لیس بواجب علی الولی‘‘(۱)
(۱) الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب قضاء الفوائت، مطلب: في إسقاط الصلوٰۃ عن المیت‘‘: ج ۲، ص: ۵۳۲۔إذا مات الرجل وعلیہ صلوات فائتۃ فأوصی بأن تعطی کفارۃ صلواتہ یعطی لکل صلاۃ نصف صاع من بر۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاوی الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب الحادي عشر: في قضاء الفوائت‘‘: ج ۱، ص: ۱۸۴)والصحیح أن لکل صلاۃ فدیۃ ہي نصف صاع من بر أو دقیقہ أو سویقہ أو صاع تمر أو زبیب أو شعیر أو قیمتہ وہي أفضل لتنوع حاجات الفقیر وإن لم یوص وتبرع عنہ ولیہ أو أجنبي جاز إن شاء اللّٰہ تعالٰی۔ (أحمد بن إسماعیل الطحطاوي، حاشیۃ الطحطاوي علی المراقي، ’’کتاب الصلاۃ: فصل في إسقاط الصلاۃ والصوم‘‘: ج ۱، ص: ۴۳۸)فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 192