Frequently Asked Questions
Hadith & Sunnah
Ref. No. 2974/45-4711
Answer
In the name of Allah the most Gracious the most Merciful
The answer to your question is as follows:
It is not permissible for a woman to go on a long journey without a mahram, so it is better to leave the girl behind with a mahram. However, if the mahram is not available and you fear fitnah, you can take her with you in this case only. Your statement that the brother-in-law is a temporary mahram is wrong and it has no root in Sharia.
And Allah knows best
Darul Ifta Darul Uloom Waqf Deoband
Death / Inheritance & Will
Ref. No. 2973/45-4710
Answer
In the name of Allah the most Gracious the most Merciful
The answer to your question is as follows:
The total inheritance of the deceased will be distributed equally among his three sons only; the children of the deceased's daughter have no share in it. However, if they are in need, the sons should take care of their sister’s children. By helping them out, they will be rewarded double In-sha Allah.
And Allah knows best
Darul Ifta Darul Uloom Waqf Deoband
احکام میت / وراثت و وصیت
Ref. No. 3302/46-9056
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ بشرط صحت سوال صورت مسئولہ میں زید کا کل ترکہ پندرہ (15) حصوں میں تقسیم کریں گے، جن میں سے دو ثلث یعنی دس حصے دونوں بیٹیوں میں برابر برابر تقسیم کریں گے، پھر مابقیہ میں سے ہر بھتیجے کو ایک ایک حصہ ملے گا۔ اور بھتیجیوں کا اس ترکہ میں شرعا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔
و من لا فرض لھا من الاناث و اخوھا عصبۃ لاتصیر عصبۃ باخیھا کالعم والعمۃ ، المال کلہ للعم دون العمۃ (سراجی ص 23 مکتبہ بلال دیوبند)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
طلاق و تفریق
Ref. No. 2942/45-4611
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔
احناف کے یہاں شہوت کے ساتھ چھونے سے بھی حرمت مصاہرت ثابت ہو جاتی ہے خواہ مس بالشہوت جان بوجھ کر ہو یا انجانے اور غلطی سے۔
‘‘ولا فرق فيما ذكر بين اللمس والنظر بشهوة بين عمد ونسيان’’ (در مختار مع رد المحتار مع تحقيق دكتور فرفور: ج 8، ص: 119)
ہاں انفرادی واقعہ میں اگر مس بالشہوت سے ثبوت حرمت میں غیر معمولی دشواری ہو اور ثبوت شہوت خطاً ہو عمداً نہ ہو تو مفتی حالات اور قرائن کا جائزہ لے کر مذہب غیر پر عمل کرتے ہوئے عدم وقوع حرمت کا فتویٰ دے سکتا ہے۔
(١)مس بالشہوت سے ثبوت حرمت مصاہرت کی صورت میں ضروری ہے جس کو مس کیا ہے شہوت اور میلان ِجماع بھی اسی سے ہو اگر شہوت کسی دوسری عورت سے اور مس کسی اور کو کیا ہے تو حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوگی۔
‘‘والعبرۃ للشہوۃ عند المس والنظر لا بعدھما قلت: ویشترط وقوع الشہوۃ علیہا لا علی غیرہا لما في الفیض لو نظر إلي فرج ابنته بلا شهوة فتمنی جارية مثلها فوقعت له الشهوة علي البنت ثبتت الحرمت وإن وقعت علی من تمناها فلا’’ (رد المحتار: ج 8، ص: 112)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
ربوٰ وسود/انشورنس
Ref. No. 2960/45-4693
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ اس طرح کا کھیل طلبہ میں بطور ترغیب درست ہے، تاہم پارٹی دینے کی شرط لگانا جائز نہیں ہے۔ اس لئے یہ شرط ہٹادیں اور سوال و جواب کا سلسلہ جاری رکھیں۔
إن شرط لمال) في المسابقة (من جانب واحد وحرم لو شرط) فيها (من الجانبين) لانه يصير قمارا (إلا إذا أدخلا ثالثا) محللا (بينهما) بفرس كف ء لفرسيهما يتوهم أن يسبقهما وإلا لم يجز، ثم إذا سبقهما أخذ منهما، وإن سبقاه لم يعطهما، وفيما بينهما أيهما سبق أخذ من صاحبه (و) كذا الحكم (في المتفقهة) فإذا شرط لمن معه الصواب صح، وإن شرطاه لكل على صاحبه لا۔ (الدر المختار للحصفكي - (ج 5 / ص 723)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
احکام سفر
Ref. No. 2958/45-4694
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ آپ مسافت سفر پر نوکری کررہے ہیں، اس لئے جب پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت ہو تو قصر کریں اورجب پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت ہو تو اتمام یعنی پوری چار رکعتیں پڑھیں۔ اور اگر مقام ملازمت میں کتنے دن قیام کرنا ہے متعین نہ ہو تو قصر کرتے رہیں یہاں تک کہ پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت ہوجائے۔ اگر ایک ہفتہ ٹھہرنے کی نیت تھی پھر ایک ہفتہ کے بعد دس دن مزید ٹھہرنے کی ضرورت پڑگئی تو ان تمام دنوں میں قصر کرتارہے گا کیونکہ اس نے پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت ایک ساتھ نہیں کی ۔
و لايزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر، كذا في الهداية۔"
(الھندیۃ، كتاب الصلوة،الباب الخامس عشر:1/ 139،ط:دارالفكر)
من خرج من عمارة موضع إقامتہ قاصداً مسیرة ثلاثة أیام ولیالیھا ……صلی الفرض الرباعي رکعتین …حتی یدخل موضع مقامہ أو ینوي إقامہ نصف شھر بموضع صالح لھا فیقصر إن نوی في أقل منہ أو …بموضعین مستقلین (تنویر الأبصار مع الدر والرد، کتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، ۲: ۵۹۹- ۶۰۶) ۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
Islamic Creed (Aqaaid)
Ref. No. 2966/45-4704
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ بشرط صحت سوال ایسے شخص کا سماجی بائیکاٹ ضروری ہے ، اس قدر گھناؤنی حرکت کے باوجود اس کے گھر آناجانا بڑی ہی بے غیرتی کی بات ہے، ایمان کا تقاضہ ہے کہ اس سنگین گناہ کے مرتکب کے ساتھ کوئی تعلق نہ رکھاجائے ، یہاں تک کہ جولوگ تعلق رکھتے ہیں ان کو بھی منع کیاجائے، اور اس شخص کی بیوی کو بھی سمجھایاجائےکہ وہ اب حرام کا مرتکب ہورہی ہے، اس کے لئے اپنے شوہرکے ساتھ رہنا قطعا ناجائز اورشرعی طور پر حرام ہے۔ پنچایت میں اس کو پیش کرکے اس سے توبہ کرائی جائے، اگر وہ بیوی کو طلاق دے کر الگ کردے اور اپنے گناہ پر نادم ہوکر توبہ کرلے اور پھر اس کے بائیکاٹ کو ختم کردیاجائے تو اس کی گنجائش ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبندمتفرقات
Ref. No. 2965/45-4703
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ درج ذیل آیات کو اپنا معمول بنالیں، روزانہ صبح کو ایک مرتبہ پڑھ کر اپنے سینے پر دم کرلیا کریں، اور ایک لیٹر پانی پر بھی دم کرلیں، اورشام تک تھوڑا تھوڑا پیتے رہیں ، ان شاء اللہ بہت فائدہ ہوگا۔
فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ".
أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ * الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ * لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
-"إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ".
-"يَا بَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِي فَمَنِ اتَّقَى وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ".
الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُونَ مَا أَنْفَقُوا مَنًّا وَلَا أَذًى لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
-"بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ".
____
بارش اور بجلی کے وقت یہ آیات پڑھا کریں۔ بالخصوص آیت نمبر 13، کا ابتدائی حصہ بار بار دہرائیں۔
{ لَهُۥ مُعَقِّبَـٰت مِّنۢ بَیۡنِ یَدَیۡهِ وَمِنۡ خَلۡفِهِۦ یَحۡفَظُونَهُۥ مِنۡ أَمۡرِ ٱللَّهِۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوۡمٍ حَتَّىٰ یُغَیِّرُوا۟ مَا بِأَنفُسِهِمۡۗ وَإِذَاۤ أَرَادَ ٱللَّهُ بِقَوۡم سُوۤء فَلَا مَرَدَّ لَهُۥۚ وَمَا لَهُم مِّن دُونِهِۦ مِن وَالٍ * هُوَ ٱلَّذِی یُرِیكُمُ ٱلۡبَرۡقَ خَوۡفا وَطَمَعا وَیُنشِئُ ٱلسَّحَابَ ٱلثِّقَالَ * وَیُسَبِّحُ ٱلرَّعۡدُ بِحَمۡدِهِۦ وَٱلۡمَلَـٰۤىِٕكَةُ مِنۡ خِیفَتِهِۦ وَیُرۡسِلُ ٱلصَّوَ ٰاعِقَ فَیُصِیبُ بِهَا مَن یَشَاۤءُ وَهُمۡ یُجَـٰدِلُونَ فِی ٱللَّهِ وَهُوَ شَدِیدُ ٱلۡمِحَالِ * } [Surah Ar-Raʿd: 11-13]
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
بدعات و منکرات
Ref. No. 2940/45-4620
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ کسی کی زندگی اور موت سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ میں ہے، کسی عورت کے بچے اگر فوت ہوگئے تو بھی اللہ ہی کے حکم سے فوت ہوئے، اس عورت کا اس میں کوئی دخل نہیں، جولوگ اس عورت کو منحوس سمجھتے ہیں اور دور بھاگتے ہیں یا دوسری عورتوں کو اس سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہیں ، وہ بڑی غلطی پر ہیں، ان پر لازم ہے کہ اپنے عقیدہ کی اصلاح کریں، اور دیگر عورتوں کی طرح اس عورت سے بھی اظہار ہمدردی کریں اور میل جول رکھیں۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
طہارت / وضو و غسل
Ref. No. 2939/45-4619
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ مصنوعی ہاتھ کو ہر بار اتار کر اصل ہاتھ اور پاؤں کا جتنا حصہ وضو میں دھونا فرض ہے اس کو دھونا ضروری ہوگا، صرف مسح کرنے سے وضو درست نہیں ہوگا۔اس لئے امام صاحب جس طرح فجر میں مصنوعی ہاتھ کو اتار کر بقیہ ہاتھ دھوتے ہیں، اسی طرح باقی نمازوں میں بھی ان کو اتار کر ہی وضو کریں۔ اگر وضو نہیں ہوا تو نماز بھی نہیں ہوگی۔ ان کو صحیح مسئلہ سمجھادیاجائے۔
ولو قطعت يده أو رجله فلم يبق من المرفق والكعب شيء سقط الغسل ولو بقي وجب، كذا في البحر الرائق. وكذا غسل موضع القطع، هكذا في المحيط.وفي اليتيمة: سئل الخجندي عن رجل زمن رجله بحيث لو قطع لايعرف هل يجب عليه غسل الرجلين في الوضوء؟ قال: نعم. كذا في التتارخانية". (الھندیۃ، الفصل الاول فی فرائض الوضوء، کتاب الطہارۃ ، جلد 1 ص:5 ط: دار الفکر)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند