Frequently Asked Questions
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللّٰہ التوفیق: عیدین میں امت مسلمہ کے تہوار اور دینی جشن ہونے کا تقاضا اور اس کی شان یہ ہی ہے کہ نماز کا اجتماع کسی کھلے میدان میں ہو اس لیے عام معمول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ہی تھا کہ نمازِ عید عیدگاہ میں ہی ہوتی تھی؛ تاہم اگر بارش وغیرہ کوئی عذر ہو، تو مسجد میں ادا کرنا جائز اور درست ہوگا، جیسے حالات ہوں اور ضرورت ہو اس کے مطابق گنجائش اور درست ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کی وجہ سے مسجد میں عید کی نماز پڑھائی ہے۔(۱)
(۱) عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ أنہ أصابہ مطر في یوم عید فصلی بہم النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم صلاۃ العید في المسجد۔ (أخرجہ أبو داؤد، في سننہ، ’’کتاب الصلاۃ: باب یصلي بالناس في المسجد إذا کان یوم مطر‘‘: ج ۱، ص: ۱۶۴، رقم: ۱۱۶۰)عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ قال: أصاب الناس مطر في یوم عید علی عہد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فصلی بہم في المسجد۔ (أخرجہ ابن ماجہ، في سننہ، ’’کتاب الصلاۃ: باب ما جاء في صلاۃ العید في المسجد إذا کان مطر‘‘: ج ۱، ص: ۹۳، رقم: ۱۳۱۳)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 223
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللّٰہ التوفیق: عذر اور مجبوری کی وجہ سے ایسا کرنا جائز ہے۔(۱)(۱) عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ أنہ أصابہم مطر في یوم عید فصلی بہم النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم صلاۃ العید في المسجد۔ (أخرجہ أبوداؤد، في سننہ، ’’کتاب الصلاۃ: باب یصلي بالناس في المسجد إذا کان یوم مطر‘‘: ج ۱، ص: ۱۶۴، رقم: ۱۱۶۰)عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ قال: أصاب الناس مطر في یوم عید علی عہد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فصلی بہم في المسجد۔ (أخرجہ ابن ماجہ، في سننہ، ’’کتاب الصلاۃ: باب ما جاء في صلاۃ العید في المسجد إذا کان مطر‘‘، دار الاشاعت، دیوبند: ج ۱، ص: ۹۳، رقم: ۱۳۱۳)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 223
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: کسی عذر کی بناء پر اگر ایسا ہو جائے تو کوئی گناہ نہیں ہے البتہ استخفاف اور سستی کے طور پر اگر ترک کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے قلب پر مہر ثبت کر دیتے ہیں اور آدمی خیر کثیر سے محروم ہو جاتا ہے یہ بات حدیث میں ہے۔(۱)گناہ کبیرہ کے بارے میں ایک حدیث شریف میں موجود ہے کہ جب انسان ایک گناہ کرتا ہے، توایک سیاہ نقطہ اس کے دل پر لگ جاتا ہے، جب دوسرا کرتا ہے، تو دوسرا نقطہ لگ جاتا ہے حتی کی سیاہ نقطوں سے اس کا دل بھر جاتا ہے؛ تاہم جب گناہ سے توبہ کرلے تو ہر کبیرہ گناہ سچی اور پکی توبہ سے معاف ہو جاتا ہے۔’’قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ‘‘(۲)(۱) وروي عن ابن عمر عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أنہ قال: من ترک ثلاث جمع تہاونا، طبع اللّٰہ علی قلبہ، ومثل ہذا الوعید لا یلحق إلا بترک الفرض، وعلیہ إجماع الأمۃ۔ (الکاساني، بدائع الصنائع، ’’کتاب الصلاۃ: صلاۃ الجمعۃ‘‘: ج ۱، ص: ۲۵۶)(۲) المبسوط، السرخسي، ’’کتاب الصلاۃ: شروط الجمعۃ‘‘: دار الکتب العلمیہ، بیروت، ج ۲، ص: ۲۵۔
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 181
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: نماز جمعہ کے بعد دعائے ثانی کے لیے مصلیوں کو روکنا اور دعاء ثانی کرنا اور اس کے بعد سلام پڑھنا یہ عمل جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ کے صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین سے اور ائمہ محدثین و فقہاء سے ثابت نہیں ہے، جب کہ یہ حضرات سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور احکام خدا وندی پر عمل کرنے میں پوری امت میں پیش پیش رہے ہیں، یہ عمل خلاف سنت ہونے کے ساتھ بدعت اور گمراہی ہوگا جس سے مسلمان کو پرہیز کرنا ضروری ہے اور بدعت وگمراہی کا خاصہ ہے کہ اس سے ایمان والوں میں تفریق پیدا ہوتی ہے۔(۲)(۲) عن عائشۃ رضي اللّٰہ عنہا، قالت: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: من أحدث في أمرنا ہذا ما لیس منہ فہو رد، متفق علیہ۔ (الملا علي القاري، مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح، ’’کتاب الإیمان: باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، الفصل الأول‘‘: ج ۱، ص: ۱۳۰، رقم: ۱۴۰)ولم یکن لہ أصل من الشریعۃ الغراء۔ (علامہ أنور شاہ الکشمیري، العرف الشذي: ج ۱، ص: ۲۳۱)من تعبد اللّٰہ تعالیٰ بشيء من ہذہ العبادات الواقعۃ في غیر أزمانہا فقد تعبد ببدعۃ حقیقیۃ، لا إضافیہ فدجہۃ لہا إلی المشروع؛ بل غلبت علیہا جہۃ الإتبداع فلا ثواب فیہا۔ (أبو اسحاق الشاطبي، الاعتصام: ج ۲، ص: ۲۶)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 181
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: بلا ضرورت تعدد جمعہ کی اجازت نہیں؛ لیکن اگر دوکانداروں کو ان مساجد تک جانے میں جن میں جمعہ ہوتا ہے دشواری ہوتی ہو اور یہ فائدہ بھی پیش نظر ہو کہ دیہات سے خریداری کے لیے آنے والے لوگوں کو بھی جمعہ پڑھنے کی سہولت ہوجائے گی تو بازار کی مذکورہ مسجد میں جمعہ قائم کیا جاسکتا ہے۔’’(وتؤدی في مصر واحد بمواضع کثیرۃ) مطلقاً، قولہ: (مطلقاً) أي سواء کان المصر کبیراً أولا … و سواء کان التعدد في مسجدین أو أکثر‘‘(۱)(۱) الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘: ج ۳، ص: ۱۵۔
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 180
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: یہ اجتماع فناء شہر میں ہے، لہٰذا پنڈال میں نماز جمعہ صحیح ہے۔ صحت جمعہ کے لیے مسجد شرط نہیں ہے۔ شہر یا فناء شہر میں کہیں بھی جہاں پر نماز پڑھنے کی عام اجازت ہو نماز جمعہ ادا کی جاسکتی ہے مگر مسجد میں پڑھنے کا ثواب نہیں ملے گا۔’’(أو فناؤہ) … (وہو ما) حولہ (اتصل بہ) أو لا کما حررہ ابن الکمال وغیرہ (لأجل مصالحہ) کدفن الموتی، ورکض الخیل‘‘(۱)فنائے شہر یعنی شہر کے اردگرد کار آمد میدان، جو شہر کے مفاد اور مصالح کے لئے ہوتا ہے جیسے مردوں کی تدفین گھوڑ دوڑ اور فوجی اجتماع وغیرہ۔(۱) الحصکفی، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘: ج ۳، ص: ۷۔
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 179
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق:یہ بات صحیح نہیں ہے کہ دونوں میں سے ایک کا پڑھ لینا کافی ہے؛ بلکہ عید و جمعہ کے دونوں خطبے اور دونوں نمازیں پڑھنا ضروری اور واجب ہے۔’’وفي الجامع الصغیر عیدان اجتمعا في یوم واحد، فالأول سنۃ، والآخر فریضۃ، ولا یترک واحد منہما‘‘(۱)(۱) المرغیناني، الہدایۃ، ’’کتاب الصلاۃ: باب العیدین‘‘: ج ۱، ص: ۱۷۲۔
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 178
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: جب یہ دونوں دیہات سہارنپور سے علیحدہ اور مستقل ہیں اور سہارنپور کے محلے نہیں ہیں اگر ان گاؤں میں شرائط جمعہ نہیں پائی جاتی ہیں تو ان کے باشندوں پر نماز جمعہ واجب نہیں ہے۔ آواز کا آنا وجوب جمعہ کے لیے کافی نہیں ہے۔’’ولا یجب علی من کان خارجہ ولو سمع النداء من المصر سواء کان سوادہ قریباً من المصر أو بعیداً علی الأصح فلا یعمل بما قیل بخلافہ وإن صحح‘‘(۱)’’(فلا یعمل بما قیل) قال في الشرح: قد علمت بنص الحدیث والأثر والروایۃ عن ائمتنا أبي حنیفۃ وصاحبیہ واختیار المحققین من أہل الترجیح أنہ لا عبرۃ ببلوغ النداء، ولا بالغلوۃ والأمیال، وإنہ لیس بشيء فلا علیک من مخالفۃ غیرہ وإن ذکر تصحیحہ فمنہ ما في البدائع أنہ إن أمکن أن یحضر الجمعۃ وببیت بأہلہ من غیر تکلف یجب علیہ الخ‘‘(۲)
(۱) أحمد بن إسماعیل، حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘: ص: ۵۰۴۔(۲) أیضاً: ص: ۵۰۵۔
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 177
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: اس صورت میں جماعت کا نہ ہونا ایک اتفاقی امر ہے جس کے باعث حکم سابق منقوض نہیں ہوگا لہٰذا جمعہ کی نماز حسب سابق درست اور لازم ہے۔(۲)(۲) قولہ: (وفي القہستاني الخ) … تقع فرضا في القصبات والقری الکبیرۃ التي فیہا أسواق۔ (ابن عابدین، رد المحتار مع الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘: ج ۳، ص: ۶)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 177
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: جمعہ کے روز تمام کاروبار خرید و فروخت جمعہ کی اذان اول تک جائز ہے، اس کے بعد مکروہ تحریمی ہے۔ تنویر الابصار میں ہے۔ ’’وکرہ البیع عند أذان الأول‘‘ پس اذان کے ہوتے ہی جملہ کاروبار ترک کرکے جمعہ کے لئے خالی ہوجانا چاہئے۔(۱)(۱) وترک البیع … (بالأذان الأول) في الأصح، وإن لم یکن في زمن الرسول ﷺ؛ بل في زمن عثمان رضي اللّٰہ عنہ۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘: ج ۳، ص: ۳۸)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 176