متفرقات

Ref. No. 3237/46-8006

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ آپ نے جو واقعہ نقل کیا ہے وہ حدیث کی کتابوں میں موجود ہے۔ بخاری (5126۔ فتح) و مسلم (2766)

 خیال ہے کہ حقوق العباد میں بہت محتاط رہنا چاہئے، تاہم اگر کسی کی حق تلی ہوجائے تو اس سے معافی مانگنا چاہئے، اگر آپ نے معافی مانگنے کا ارادہ کیا مگر اس شخص کا انتقال ہوگیا تو اب اس سے معافی مانگنے کی کوئی شکل تو نہیں ہے، تاہم اس کے لئے دعائے مغفرت کرنے سے اور اس کی طرف سے صدقہ وغیرہ دینے  سے امید ہے کہ اللہ تعالی آپ سے اس بارے میں بازپُرس نہ فرمائیں گے۔  

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

زیب و زینت و حجاب

Ref. No. 3236/46-8012

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ عورت کا اپنے محرم کے سامنے نہ تو سر کا کھولنا واجب ہے اور نہ ہی چھپانا واجب ہے۔ عورت کا اپنے محارم کے سامنے اپنے سر کو چھپانا احترام و ادب کے طور پر ہوتاہے۔ اس کو شرعی واجب خیال رکھنا تو یقینا غلط ہے تاہم ادب و حترام کے طور پر اگر وکئی عورت اپنے والد اور بڑے بھائی وغیرہ کے سامنے سر کو ڈھانکتی ہے تو اس کو بدعت نہیں کہاجائے گا، کیونکہ ہمارے معاشرہ میں بڑوں کے سامنے سر ڈھانکنا ادب کا حصہ شمارکیاجاتاہے۔

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

متفرقات

Ref. No. 3235/46-8011

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ آپ کا اس لڑکی سے بات چیت کرنا شرعا حرام تھا اور غلط تھا۔ اب شریعت کی اتباع میں اگر آپ نے اس سے بات چیت بند کردی اور اس کی وجہ سے وہ ٹینشن میں آئی اور حادثہ ہوا تو آپ اس کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ اللہ کی رضا کے لئے کام کرتے ہوئے کسی کی ناراضگی کی پرواہ نہیں کی جائے گی۔ ایکسیڈنٹ مقدر تھا وہ ہوگیا۔ اب آپ  اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں ، اللہ تعالی ہی گناہوں کو معاف کرنے والے ہیں۔

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Innovations

Ref. No. 3234/46-8058

الجواب

الجواب وباللہ التوفیق:قرآن پاک کی تلاوت چاہے انفرادی طورسے ہو یا کسی جگہ اکھٹے ہوکر دونوں طرح صحیح اور مستحسن ہے، قرآن کریم کی تلاوت کا اصل مقصد تو رضائے الٰہی ہے، لیکن دوسرے مقاصد خیرکے لئے بھی قرآن کریم کا پڑھنا احادیث وآثار سے ثابت ہے، چناں چہ ایصال ثواب کے لئے جو ایک شرعی مقصد ہے قرآن کریم کا پڑھنا ثابت ہے۔ میت کے عزیز واقارب کے لیے نفس قرآن کریم کی تلاوت کرنا اور میت کے لیے دعاء وغیرہ کرنا درست ہے بلا کسی بلاوے اور دن کی تعیین کے تعزیت کے طور پر میت کے گھر جانے پر کچھ دیر تلاوت کردینا درست ہے۔

لیکن مروجہ طریقہ جس میں اجتماعی طور پر تعزیت کے لیے جمع ہونا، اور اجتماعی قرآن خوانی کرنا، لوگوں کو دعوت دے کر بلانا اور نہ آنے پر ناراضگی کا اظہار کرنا، دسویں اور بیسویں اس طرح چالیسویں تاریخ طے کرنا اور اس کو دین کا حصہ سمجھنا وغیرہ شامل ہے یہ بدعت ہے اور ناجائز ہے۔اس وجہ سے علماء نے ایصال ثواب کے لیے اتفاقاً جمع ہو کر تلاوت کو بھی ناپسند کیا ہے اور انفرادی تلاوت کو ترجیح دی ہے۔

اس گفتگو کے بعد اب آپ کے مسئلہ کا جواب یہ ہے کہ جو عبارت آپ نے جواز کی پیش کی ہیںوہ تمام کی تمام نفس تلاوت اور نفس ایصال ثواب کے لیے ہیں، جیساکہ مفتی عبد الرحیم صاحب لاجپوری کے فتوی سے بھی واضح ہے کہ اجتماعی قرآن خوانی التزام کے بغیر درست ہے۔

اسی طرح مفتی محمود حسن گنگوہی صاحب فتاوی محمودیہ میں لکھتے ہیں: نہ میت کی قید ہے، نہ سورتوں اورآیتوں کی تخصیص ہے، یہ سب قید ختم کردیا جائے یہ شرعاً بے اصل ہے صحابہ نے بغیر ان قیدوں کے ثواب پہونچایا ہے۔ (محمودیہ: ج ۱، ص: ۲۰۶، قدیم(

اور جو عبارتیں بدعت ہونے کی پیش کی گئی ہیں اس سے مراد وہی ہیئت ہے جس میں اجتماع لازمی ہے جو آج اکثر جگہ رواج پاچکا ہے اور لوگ اسے ضروری سمجھنے لگے ہیں، جس میں تاریخ کی تعیین ہوتی ہے،اور چالیسواں بیسواں کے نام پر ایسا قاعدہ چل پڑا ہے کہ لگتا ہے یہ اسلام اور دین کا حصہ ہے، اس وجہ سے ہمارے سبھی اہل فتاوی اسے ممنوع قرار دیتے ہیں۔

اگر اخیر میں پیش کردہ عبارت کو اس پر محمول نہ کیا جائے تو تلاوت کے ذریعہ ایصال ثواب پر جو روایات ہیں ان کا انکار لازم آئے گا جو کہ درست نہیں ہے، اس وجہ سے تطبیق کی یہ صورت بہتر ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

مساجد و مدارس

Ref. No. 3233/46-8026

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ واقف نے زمین مسجد کے لئے وقف کردی اور اس جگہ مسجد  بھی بن گئی تو اب رجوع کرنا درست نہیں ہے۔ وقف تام ہونے کے بعد زمین واقف کی ملکیت سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں چلی جاتی ہے،  اب واقف اس کا مالک نہیں ہے۔ اگر زبردستی واپس لے گا تو سخت گنہگار ہوگا۔ لیکن اگر واقف زمین کو مسجد کے لئے وقف کرچکاہے اور اس کو واپس نہیں لے رہاہے بلکہ محض مسجد کے نام رجسٹری کرانے سے منع کررہاہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے تاہم اس  کوسمجھایاجائے کہ جب زمین وقف کردی ہے تو  بعد میں کوئی پریشانی نہ ہو اس لئے اس کی رجسٹری ضروری ہے، ورنہ بعد میں ورثہ لوگوں کو پریشان کریں گے اور مسجد جو آپ کے لئے صدقہ جاریہ ہے وہ محفوظ نہیں رہے گی۔البتہ اگر وہ رجسٹری کے لئے تیار نہ ہوں تو ایک کاغذ پر ان سے اقرارنامہ لکھوالیاجائے کہ انھوں نے فلاں فلاں گواہوں کی موجودگی میں اتنی زمین مسجد کے لئے وقف کردی ہے تاکہ مستقبل میں  ممکن ہے کہ اس کاغذ کی ضرورت پڑے ۔  (۱) پوری زمین خواہ اس پر عمارت ہو یا نہ ہو وقف شدہ ہے، اس کو واپس لینے کا اختیار کسی کو حاصل نہیں ہے۔مسجد میں  تواب کوئی تبدیلی  بھی نہیں ہوسکتی ہے ۔ (۳،۲) اب اس مسجد میں واقف کا کوئی اختیار باقی نہیں ہے بلکہ وہ مسجد اب اللہ کی ملکیت  ہے، اور عام مسلمانوں کو اس میں نماز پڑھنے کی اجازت ہے، جو نمازیں پڑھی گئیں سب  درست ہوگئیں اورآئندہ بھی اس میں نماز جاری رکھی جائے۔  واقف کو بالکل اختیار نہیں کہ کسی کو مسجد سے نماز اداکرنے سے روک ٹوک کرسکے۔

نوٹ:  اس مسئلہ کو سنجیدگی سے آپسی مشورہ اور بات چیت سے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔

"وعندهما حبس العين على حكم ملك الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولا يورث كذا في الهداية وفي العيون واليتيمة إن الفتوى على قولهما". (الھندیۃ، كتاب الوقف ، الفصل الأول في تعريف الوقف ،ج: 2،ص: 350، ط: دار الفكر)

"وإذا كان الملك يزول عندهما يزول بالقول عند أبي يوسف - رحمه الله تعالى - وهو قول الأئمة الثلاثة وهو قول أكثر أهل العلم وعلى هذا مشايخ بلخ وفي المنية وعليه الفتوى كذا في فتح القدير وعليه الفتوى كذا في السراج الوهاج،" (الھندیۃ، کتاب الوقف،الباب الاول فی تعریفه،وسببه وحكمه، ج:2، ص:351، ط:مکتبه رشیدیه)

"وعند الصاحبين وبرأيهما يفتى: إذا صح الوقف خرج عن ملك الواقف، وصار حبيساً على حكم ملك الله تعالى، ولم يدخل في ملك الموقوف عليه، بدليل انتقاله عنه بشرط الواقف (المالك الأول) كسائر أملاكه. وإذا صح الوقف لم يجز بيعه ولا تمليكه ولا قسمته،" (الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي، الباب الخامس:الوقف، الفصل الثالث حكم الوقف، ج:10، ص:7617، ط:دارالفكر)

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

متفرقات

Ref. No. 3231/46-8010

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ ۱۔ جب باپ الگ کمائی کرتاہے اور بیٹا الگ کمائی کرتاہے تو ہر ایک اپنی اپنی کمائی کا مالک ہے، کسی کو دوسرے سے حساب مانگنے کا حق نہیں ہے، البتہ اگر والدین محتاج و ضرورتمند ہیں وت ان کا نفقہ اولاد پر لازم ہے۔ ۲۔ والد کے ذریعہ لئے گئے قرض کی ادائیگی اگرچہ بیٹے پر لازم نہیں  ہے لیکن اسلام نے غیروں کے ساتھ بھی حسن سلوک وہمدردی کی تعلیم دی ہے۔ والدین اس کے زیادہ مستحق ہیں کہ اولاد ان کے ساتھ حسن سلوک کرے جیسے انسان سپنے بیوی بچوں کی ضروریات کا خیال رکھتاہے والدین کا بھی خیال رکھے۔ والدین نے یہ قرض اولادکی وجہ سے لیا ہے تو اس کی ادائیگی پر تعاون کرنا باعث اجروثواب بھی ہے اور والدین کی دعاوں کا ذریعہ بھی ۔ ۳۔ قرآن کریم و احادیث میں بدگمانی ، غیبت اور تجسس سے منع کیاگیا اور اس کو گناہ  قراردیا۔ نیز قطع تعلق سے منع کیاگیاہے بلکہ صلہ رحمی اور تعلق جوڑنے کا حکم دیاگیا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ (سورۃ الحجرات ۱۲)

وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِ (سورۃ الرعد ۲۱) وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ (سورۃ البقرۃ 27) وقال النبی ﷺ صل من قطعک واحسن الی من اسائ الیک و قل الحق ولو علی نفسک (صحیح الجامع 3769)

اس لئے آپ کے والدین کا یہ عمل شرعا جائز نہیں ہے۔

۴۔ شادی کے بعد شوہر کو اپنی بیوی کو اپنے ساتھ  ہی رکھنا چاہئے، اس میں کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ علیحدہ رہنے کی صورت میں گناہ میں مبتلا ہونے یا دیگر مفاسد کا اندیشہ ہوتاہے، البتہ اگر والدین ضرورت مند ہیں تو ان کے نفقہ وضروریات کا خیال رکھنا یاجسمانی اعتبار سے کمزور ہیں تو ان کی خدمت کا خیال رکھنا بھی اولاد پر لازم ہے۔ اگرآپ باہر رہتے ہیں اور ازخود ان کی خدمت نہیں  کرسکتےتو ان کے لئے کسی خادم وغیرہ کا انتظام کردینا بھی کافی ہے۔

وعلی الرجل الموسر ان ینفق علی ابویہ واجدادہ وجداتھا اذا کانوا فقرا وان خالفوہ فی الدین (الھدایۃ ، باب النفقۃ 2/440)

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

طلاق و تفریق

Ref. No. 3229/46-8021

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  یہ عام بول چال کے الفاظ ہیں، اس سے کسی کے ذہن میں طلاق کے معنی کاخیال بھی نہیں آتاہے، اس لئے اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔ 

وركنه لفظ مخصوص».  (قوله: وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس و الإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتي.و به ظهر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق و لم يذكر لفظا لا صريحًا و لا كنايةً لايقع عليه كما أفتى به الخير الرملي وغيره، و كذا ما يفعله بعض سكان البوادي من أمرها بحلق شعرها لايقع به طلاق و إن نواه." (شامی، کتاب الطلاق ج:3، ص:230، ط :سعید)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Innovations

Ref. No. 3227/46-7095

Answer 

In the name of Allah the most Gracious the most Merciful

The answer to your question is as follows:

If the stock market involves investments in lawful (halal) business activities, and profits are distributed based on a fair percentage without the involvement of interest (riba) or gambling (qimar), engaging in such stock market trading is permissible (halal). However, investing in businesses that are considered unlawful (haram), setting a fixed return on investments, or engaging in any transactions that involve interest or gambling is prohibited (haram).

And Allah knows best

Darul Ifta

Darul Uloom Waqf deoband

ربوٰ وسود/انشورنس

Ref. No. 3230/46-8008

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ سونے اور چاندی کی جو ثمن کی حیثیت  ہے وہی حیثیت اگر کسی چیز کو حاصل ہوجائے تو اس میں کاروبار کرنے یا تبادلہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔  بٹ کوائن ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے کسی حکومت یا مرکزی ادارے کی حمایت حاصل نہیں ہے۔بٹ کوائن کو ابھی سونے اور چاندی جیسی ثمنیت کی حیثیت حاصل نہیں ہوئی ہے۔  اس لئے  اس کی  خریدوفروخت  سے علماء نے منع کیا ہے، کیونکہ بٹ کوائن کی قیمتوں میں بہت زیادہ اتار چڑھاؤ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اس میں سرمایہ کاری کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ تاہم اس کے علاوہ بنگلہ دیشی ٹکہ سے ڈالرخریدنا یا کسی ملک کی کرنسی سے دوسرے ملک کی کرنسی کی خریدوفروخت اس شرط کے ساتھ  جائز ہے کہ  معاملہ دونوں طرف نقد ہو یا کم از کم ایک طرف نقد ہو اور دوسری طرف کرنسی میں معاملہ طے ہوجائے۔ سونے چاندی کی خریدوفروخت کے احکام الگ ہیں اور کرنسی کی خریدوفروخت کے احکام الگ ہیں۔  

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

متفرقات

Ref. No. 3226/46-7096

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  شاید مرحوم کے ذمہ کچھ روزوں اور نمازوں کی قضا تھی، جن کاوہ خواب میں آکرکفارہ اداکرنے کا مطالبہ کررہے ہیں، اگر اس کے بارے میں کچھ معلوم ہو اور ٓپ اپنی طرف سے کفارہ اداکردیں تو مرحوم کے حق میں بہتر ہوگا ۔ اور اگرقضا روزوں اور نمازوں کی تعداد معلوم نہ ہو تو اپنی مرضی سے جو کچھ میسر ہو صدقہ کردیں یا کچھ مسکینوں کو کھانے کھلادیں، تو امید ہے کہ کچھ تلافی ہوجائے گی۔ 

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند