Frequently Asked Questions
Masajid & Madaris
Ref. No. 3208/46-7064
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ غیرمحرم عورتوں سے پردہ کے حکم قرآن و حدیث میں صراحت کے ساتھ ہے، غیرمحرم اگر استاذ ہے تو اس سے بھی پردہ لازم و ضروری ہے، بلکہ یہاں تعلیم کی وجہ سے روزانہ کا معاملہ ہے اس لئے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ مرد استاذ کا جوان طالبہ سے خلوت میں بیٹھنا حرام اور ناجائز ہے۔ استاذ کو اس عمل سے لازمی طور پر پرہیز کرنا چاہئے۔ اگر کسی جگہ ایسی حرکت ہورہی ہو تو امر منکر کو روکنے کی ہر ممکن کوشش ہونی چاہئے، اور امر منکر کی روک تھام ہر شخص کا فرض ہے، خواہ ہاتھ سے روکے یا زبان سے یا کم از کم دل سے اس عمل کو برا جانے، البتہ امرمنکر کی روک تھام میں کوئی ایسا طریقہ اختیار کرنا جو فتنہ کا باعث ہو اس سے بچنا چاہئے۔
من رای منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ وذلک اضعف الایمان (صحیح مسلم 1/69 رقم الحدیث 49)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
متفرقات
Ref. No. 3028/46-4868
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ ۔ اکثر مؤرخین اور سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو انصار کی چھوٹی چھوٹی لڑکیاں اور پردہ نشین عورتیں جمال نبوی کو دیکھنے کے لئے اپنی چھتوں پر چڑھی ہوئی تھیں اور مذکورہ اشعار گا رہی تھیں، مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی نے اس واقعہ کو قبا میں داخل ہوتے وقت لکھا ہے کہ جب آپ قبا میں داخل ہوئے تو انصار کی چھوٹی لڑکیاں جوش مسرت میں یہ اشعار پڑھی تھیں۔ (تاریخ الاسلام: ج 1، ص: 129)
لیکن زیادہ حضرات مؤرخین مثلا علامہ شبلی نعمانی سید سلیمان ندوی، مولانا ادریس کاندھلوی علامہ عینی وغیرہ نے اس کو مدینہ میں دخول کے وقت ذکر کیا ہے۔ (عمدۃ القاری: ج 17، ص: 80؛ سیرت مصطفیٰ: ج 1، ص: 344)
حافظ ابن حجر نے اس واقعہ و غزوہ تبوک سے واپسی کے وقت مانا ہے اور مدینہ میں دخول کے وقت کو ضعیف قرار دیا ہے۔ (فتح الباری: ج 7، ص: 315)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
اسلامی عقائد
Ref. No. 2990/46-4759
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ اللہ کی ذات یا صفات میں کسی دوسرے کو شریک کرنا شرک کہلاتاہے، اسی طرح نجومیوں سے غیب کی خبریں معلوم کرنا، ہاتھ دکھانا، نذرونیاز گزارنا، اللہ کے سوا کسی کے نام کی قسم کھانا ، کسی پیر یا ولی کو حاجت روا و مشکل کشا کہنا وغیرہ امور بھی شرک کی فہرست میں آتے ہیں۔ زیادہ پیسے کمانا شرک نہیں ہے، البتہ یہ بات قابل غور ہے کہ زیادہ پیسے کیوں کمانا چاہتے ہیں، ان پیسوں کے مصارف کیا ہوں گے اور کہاں خرچ کریں گے۔ شریعت حلال طریقہ پر زیادہ پیسے کمانے سے نہ تو منع کرتی ہے اور نہ ہی اس کو ناپسند کرتی ہے، بلکہ شرعی حدود میں رہ کر شرعی حقوق کی ادائیگی کی تلقین کرتی ہے۔ اس لئے زیادہ پیسے کمانے کے لئے حلال ذرائع اختیار کریں اور لوگوں کے حقوق کی ادائیگی کے ساتھ زکوۃ و صدقات میں بھی کوتاہی سے بچیں۔ عقیدہ کے بارے میں مزید تفصیل کے لئے مطالعہ کریں: بہشتی زیور از حضرت تھانوی ؒ ۔ تعلیم الاسلام از حضرت مولانا اسماعیل میرٹھیؒ۔ آسان اسلامی عقائد از مفتی امانت علی قاسمی۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
حدیث و سنت
Ref. No. 2986/46-4762
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ صورت مسئولہ کاحاصل یہ ہے کہ جن نمازوں کے بعد سنن مؤکدہ نہیں ہیں ان کے بعد اذکارواورادووظائف پڑھنا مطلقا جائز بلکہ مستحب ہے۔اور بلندآواز سے پڑھنا اور مقتدیوں کا اس میں شامل ہونا جائز ہے۔
شامی میں ہے: وفی حاشیۃ الحموی عن الامام الشعرابی اجمع العلماء سلفا وخلفا علی استحباب ذکر الجماعۃ فی المساجد وغیرھا الا ان یشوش جھرھم علی نائم او مصل او قارئ الخ (شامی، 1ص449)
لیکن کسی خاص دعا یا درود کا اہتمام کرنا اور دوسروں کو اس کا پابند کرنا درست نہیں ہے، جہاں تک مذکورہ درود کا تعلق ہے، اس میں نبی پاک ﷺ سے رحم کی دعا درخواست ہے جو جائز نہیں ہے، مذکورہ درود پڑھنا اور تلقین کرنا بدعت ہے کیونکہ اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا ہے۔ (روح المعانی ج 6ص128)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
نماز / جمعہ و عیدین
Ref. No. 3205/46-7052
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ حدیث شریف میں آیاہے کہ جس نے شراب پی، اس کی چالیس روز کی نماز قبول نہیں ہوگی۔ نماز کے قبول نہ ہونے کا مطلب سچی توبہ کرنے سے پہلے اس کی نماز کا کوئی ثواب نہیں ملے گا، اور اللہ کی رضا حاصل نہ ہوگی۔ البتہ نماز کا فریضہ ذمہ سے ساقط ہوجائے گا، اور اگر سچی توبہ کرکے نماز پڑھے گا تو اجر بھی ملے گا اور نماز بھی مقبول ہوگی اور اللہ کی رضا بھی حاصل ہوگی ان شاء اللہ۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو شخص (پہلی مرتبہ ) شراب پیتا ہے (اور توبہ نہیں کرتا ) تو اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں کرتا، پھر اگر وہ (خلوص دل سے ) توبہ کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے، پھر اگر وہ (دوسری مرتبہ ) شراب پیتا ہے تو اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں کرتا اور پھر اگر وہ توبہ کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے، پھر اگر وہ (تیسری مرتبہ ) شراب پیتا ہے تو اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں کرتا اور پھر اگر وہ توبہ کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ چوتھی مرتبہ شراب پیتا ہے تو اللہ تعالیٰ (نہ صرف یہ کہ) چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں کرتا (بلکہ) اگر وہ توبہ کرتا ہے تو اس کی توبہ (بھی) قبول نہیں کرتا اور (آخرت میں) اس کو دوزخیوں کی پیپ اور لہو کی نہر سے پلائے گا۔ (ترمذی 2/8)
" عبد الله بن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: "من شرب الخمر لم يقبل الله له صلاة أربعين صباحًا، فإن تاب تاب الله عليه. فإن عاد لم يقبل الله له صلاة أربعين صباحًا، فإن تاب تاب الله عليه، فإن عاد لم يقبل الله له صلاة أربعين صباحًا، فإن تاب تاب الله عليه، فإن عاد في الرابعة لم يقبل الله له صلاة أربعين صباحًا، فإن تاب لم يتب الله عليه وسقاه من نهر الخبال." (رواه الترمذي، (2/8) قدیمی)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
متفرقات
Ref. No. 3204/46-7069
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ ظالم شخص کے ظلم سے بچنے کے لئے دعا اور وظیفہ کا اہتمام کیاجاسکتاہے، اور قرآن و حدیث سے ثابت بھی ہے، ونجنا من القوم الظالمین۔ لیکن ظالم کے ظلم سے بچنے کے لئے ایسا عمل کرنا جو خود ناجائز اور حرام ہو یا سفلی عمل کرنا یہ درست نہیں ہے۔ عملیات میں سے وہ عمل جو قرآن و حدیث کی آیات و ادعیہ پر مشتمل ہو وہ کرنا جائز ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
عائلی مسائل
Ref. No. 2984/46-4735
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ جب ایک ساتھ رہنے میں اس طرح کی باتیں شروع ہوجائیں تو جلد الگ ہوجانا چاہئے تاکہ دلوں میں نفرت پیدا نہ ہو۔ اس لئے اگر شروع ہی میں الگ ہونے کی بات کہہ دیں تاکہ آئندہ بھائیوں کاآپسی پیار برقرار رہے تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔ تاہم ایک ساتھ رہنا اور ایک دوسرے کو برداشت کرنا زیادہ اجروثواب کا باعث ہوگا۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
فقہ
Ref. No. 3202/46-7055
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ اگر سوال مذکورہ عورت کے سابق شوہر کی میراث کے تعلق سے ہے، تو مذکورہ عورت کو سابق شوہر کے متروکہ مال میں سے آٹھواں حصہ ملے گا۔ نکاح ثانی کرنے سے وہ وراثت سے محروم نہ ہوگی، ۔ فان کان لکم ولد فلھن الثمن مماترکتم (سورۃ النساء 12)۔
بقیہ ورثاء کی تفصیل لکھ کر مرحوم کے تمام ترکہ کی تقسیم کے لئے رجوع کیاجاسکتاہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
Prayer / Friday & Eidain prayers
Ref. No. 3200/46-7054
In the name of Allah the most Gracious the most Merciful
The answer to your question is as follows:
According to the Hanafi school of thought, it is preferred to place the hands below the navel while praying. One should strive to perform the prayer in the most optimal manner, as this enhances the reward and spiritual benefits. It is not advisable to adopt practices that deviate from the recommended way just for the sake of convenience or comfort. However the Namaz is valid and it is not an innovation.
عن علی رضٰی اللہ عنہ قال ثلاث من اخلاق الانبیاء صلوات اللہ وسلامہ علیہم – تعجیل الافطار وتاخیرالسحور ووضع الکف علی الکف تحت السرۃ (مسند زید بن علی ، باب الافطار ص219 رقم الحدیث 300)
عن علقمة بن وائل بن حجر عن أبیہ قال رأیت النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم وضع یمینہ علی شمالہ في الصلاة تحت السرة (مصنف ابن ابی شیبۃ ج3ص321، 322 رقم الحدیث 3959)
عن ابی جحیفۃ:ان علیا رضی اللہ عنہ قال من السنۃ وضع الکف علی الکف فی الصلوۃ تحت السرۃ (سنن ابی داؤد ج1ص200، رقم الحدیث 756)
And Allah knows best
Darul Ifta
Darul Uloom Waqf Deoband
Divorce & Separation
Ref. No. 3198/46-7042
In the name of Allah the most Gracious the most Merciful
The answer to your question is as follows:
If a husband fails to fulfill his wife’s marital rights, or he is physically abusive, and makes unjust demands, the wife may seek khula by relinquishing her mahr or offering additional amount to the husband. If the husband refuses to grant talaq (divorce) or khula, the woman should seek recourse through the court (Dar-ul-Qaza) for resolution.
In such cases, if a Muslim judge (Qazi), after carefully considering all the facts and evidences, annuls the marriage under the Muslim Marriages Act, 1939, based on the principles of Faskh (annulment of marriage), this annulment will be legally valid. Once the woman has completed her iddah (waiting period) she will be free to remarry at her discretion.
And Allah knows best
Darul Ifta
Darul Uloom Waqf Deoband