نماز / جمعہ و عیدین

Ref. No. 1757/43-1479

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ تکبیر تحریمہ امام و مقتدی سب پر ہرحال میں فرض ہے، اس لئے مقتدی جس وقت جماعت میں شریک ہو، تکبیر تحریمہ کھڑے ہوکر کہے پھر امام جس رکن میں ہو اس میں شریک ہوجائے۔ جس کو تکبیر تحریمہ کے بعد رکوع مل گیا اس کو رکعت مل گئی اور جس کو تکبیر تحریمہ کہنے کے بعد رکوع میں امام کے ساتھ شرکت نہیں مل سکی اس کی وہ رکعت فوت ہوگئی۔ بہرحال تکبیر تحریمہ کہہ کر ہی رکوع وسجدہ میں جانا ضروری ہے ورنہ نماز نہیں ہوگی۔   

(من فرائضها) التي لا تصح بدونها (التحريمة) قائما (وهي شرط) قال الشامی: (قوله من فرائضها) جمع فريضة أعم من الركن الداخل الماهية والشرط الخارج عنها، فيصدق على التحريمة والقعدة الأخيرة والخروج بصنعه على ما سيأتي، وكثيرا ما يطلقون الفرض على ما يقابل الركن كالتحريمة والقعدة، وقدمنا في أوائل كتاب الطهارة عن شرح المنية أنه قد يطلق الفرض على ما ليس بركن ولا شرط كترتيب القيام والركوع والسجود والقعدة، وأشار بمن التبعيضية إلى أن لها فرائض أخر كما سيأتي في قول الشارح وبقي من الفروض إلخ أفاده ح (قوله التي لا تصح بدونها) صفة كاشفة إذ لا شيء من الفروض ما تصح الصلاة بدونه بلا عذر (شامی 1/442)

(الفصل الأول في فرائض الصلاة) وهي ست: (منها التحريمة) وهي شرط عندنا حتى أن من يحرم للفرائض كان له أن يؤدي التطوع هكذا في الهداية ولكنه يكره لترك التحلل عن الفرض بالوجه المشروع وأما بناء الفرض على تحريمة فرض آخر فلا يجوز إجماعا وكذا بناء الفرض على تحريمة النفل كذا في السراج الوهاج ۔ ۔ ۔  الی قولہ: ۔ ۔ ۔ ولا يصير شارعا بالتكبير إلا في حالة القيام أو فيما هو أقرب إليه من الركوع. هكذا في الزاهدي حتى لو كبر قاعدا ثم قام لا يصير شارعا في الصلاة ويجوز افتتاح التطوع قاعدا مع القدرة على القيام. كذا في محيط السرخسي. (الھندیۃ، الفصل الأول في فرائض الصلاة 1/68)

(قوله فوقف) وكذا لو لم يقف بل انحط فرفع الإمام قبل ركوعه لا يصير مدركا لهذه الركعة مع الإمام فتح. ويوجد في بعض النسخ: فوقف بلا عذر أي بأن أمكنه الركوع فوقف ولم يركع، وذلك لأن المسألة فيها خلاف زفر؛ فعنده إذا أمكنه الركوع فلم يركع أدرك الركعة لأنه أدرك الإمام فيما له حكم القيام. (قوله لأن المشاركة) أي أن الاقتداء متابعة على وجه المشاركة ولم يتحقق من هذا مشاركة لا في حقيقة القيام ولا في الركوع فلم يدرك معه الركعة إذ لم يتحقق منه مسمى الاقتداء بعد، (شامی، باب ادراک الفریضۃ 2/60)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

اسلامی عقائد

الجواب وباللّٰہ التوفیق:مذکورہ جملہ اگر عیاذ ا باللہ نماز کا مذاق اڑانے کے لئے کہا تو ایمان سے خارج ہے اور اگر مذاق اڑانے کے لئے نہیں کہا، تب بھی ایسا جملہ کہنا گناہ کبیرہ ہے توبہ و استغفار لازم ہے ایسے شخص کو مناسب طریقہ پر نصیحت کی جانی چاہئے۔(۱

(۱) أو قال: ’’نماز کردہ وناکردہ یکے است‘‘  أو قال: ’’چنداں نماز کردم مرا دل بگرفت‘‘ أو قال: ’’نماز چیزے نیست کہ اگر بماند کندہ شود‘‘ فہٰذا کلہ کفر، کذا في خزانۃ المفتیین۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیہ، ’’کتاب السیر: الباب التاسع: في أحکام المرتدین، وموجبات الکفر أنواع، ومنہا: ما یتعلق بالصلاۃ، والصوم، والزکاۃ‘‘: ج ۲، ص: ۲۸۰)

ولو قیل لرجل: صلّ فقال: ’’تو چندیں گاہ نماز کردے‘‘ أو قال: ’’چندین گاہ نماز کردم چہ بر سر آوردم‘‘ کفر۔ (الفتاویٰ السراجیہ، ’’کتاب السیر: باب ألفاظ الکفر‘‘: ج ۲، ص: ۳۰۷)

الہازل أو المستہزي إذا تکلم بکفر استخفافاً استہزاء ومزاحاً یکون کفراً عند الکل وإن کان اعتقادہ خلاف ذلک۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب السیر: الباب التاسع: في أحکام المرتدین، موجبات الکفر أنواع، ومنہا: ما یتعلق بتلقین الکفر‘‘: ج ۲، ص: ۲۸۷)

 

 

 دار العلوم وقف دیوبند

 

قرآن کریم اور تفسیر

Ref. No. 2191/44-2335

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔اردو تفسیر کا نام "معارف القرآن" ہے  جس کے مصنف مولانا مفتی شفیع صاحب ہیں،اور  ہندی  زبان میں معارف القرآن کا ترجمہ مولانا عمران بگیانوی صاحب نے کیا ہے۔  یہ دونوں تفسیریں مارکیٹ میں موجود ہیں۔ مشکوۃ المصابیح  کو اردو میں سمجھنے کے لئے 'مظاہر حق جدید' پڑھیں جس کے  مرتب  مولانا عبداللہ جاوید صاحب ہیں۔ 

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

اسلامی عقائد
الجواب وباللّٰہ التوفیق:بلا ضرورت قبروں پر کتبے لگانا ممنوع ہے۔ البتہ اگر قبر کی بے حرمتی کا اندیشہ ہو یا کوئی ایسا عالم ہو جسے لوگ تلاش کریں، تو مباح ہے۔ (۴)عالمگیری میں ہے کہ علماء کی قبروں پر کتبے لگانا شرعاً جائز ہے۔ تاہم ضرورت سے زیادہ لکھنا جائز نہیں ہے۔(۱) (۴) و إن احتیج إلی الکتابۃ حتی لا یذہب الأثر ولا یمتہن فلا بأس، فأما الکتابۃ …بغیر عذر فلا۔ (أحمد بن محمد،حاشیۃ الطحطاوي، ’’فصل في حملہا ودفنہا‘‘: ص: ۶۱۲) (۱) أنہ یکرہ کتابۃ شيء علیہ من القرآن أو الشعر أو إطراء مدح لہ ونحو ذلک۔ (ابن عابدین، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في دفن المیت‘‘: ج ۳، ص: ۱۴۴) فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج1ص359

اسلامی عقائد

الجواب وباللّٰہ التوفیق:بارات اور دیگر مہمانوں کو کھانا کھلانا لڑکی والے کے لئے جائز ہے۔ ضروری اور فرض نہیں؛ اس لیے اگر بارات اور مہمانوں کو کھانا نہ کھلایا جائے اور اس کی رقم مسجد میں خوشی اور رضامندی سے دیدی جائے تو جائز ہے۔ قانون بناکر اس طرح جبر کرنا خلاف شرع ہے اور یہ قانون اس بات کو واضح کر رہا ہے کہ لڑکی والے یا لڑکے والے رقم دینے پر مجبور ہیں؛ اس لیے یہ جبر جائز نہیں اور ایسا قانون بنانا بھی جائز نہیں (۱) اور لڑکے کے لیے ولیمہ مسنون ہے، چندہ دینے سے ولیمہ کی سنت اداء نہیں ہوگی(۲)۔

(۱) عن أبي حرۃ الرقاشي عن عمہ رضي اللّٰہ عنہما قال: قال رسول اللّٰہ علیہ وسلم: ألا لا تظلموا ألا لا یحل مال امرئ إلا بطیب نفس منہ۔ (مشکوٰۃ المصابیح، ’’کتاب البیوع: باب الغصب والعاریۃ، الفصل الثاني‘‘: ج ۱، ص: ۲۵۵، رقم: ۲۹۴۶)
(۲) إن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم رأی علی عبد الرحمن بن عوف أثر صفرۃ، فقال: ما ہذا قال: إني تزوجت إمرأۃ علی وزن نواۃ من ذہب قال بارک اللّٰہ لک أو لم ولو بشاۃ۔ (مشکوٰۃ المصابیح، ’’کتاب النکاح: باب الولیمۃ، الفصل الأول‘‘: ج ۱، ص: ۲۷۸، رقم: ۳۲۱۰)


فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج1ص445

متفرقات

الجواب وباللّٰہ التوفیق:زبیدہ جعفر بن منصور کی لڑکی تھی، اس کی کنیت ام جعفر تھی، یہ ہارون رشید جو عباسی خاندان کا چوتھا خلیفہ تھا، اس کی بیوی تھی، اس نے خواب دیکھا تھا کہ انسان، جانور، پرند، چرند اس سے صحبت کر رہے ہیں، تو وہ گھبرا کر اٹھ گئی، بہت ہی پریشان ہوئی۔ علماء نے اس کو خواب کی یہ تعبیر بتلائی کہ آپ کوئی نہر یا تالاب بنوائیں گی جس سے انسان، جانور، پرند سیراب ہوں گے؛ چنانچہ زبیدہ کی خواہش پر بادشاہ ہارون رشید نے نہر بنوانے کا حکم دیا(۱)۔ دریائے نیل سے نکالی گئی تھی، اب بھی اس نہر کے نشانات مکہ مکرمہ میں ہیں ۱۹۸۱ء ؁میں جب میں خود حج کو گیا تھا، میں نے خود دیکھے ہیں، اب بھی نہر زبیدہ کے نام سے مشہور ہے۔(۲)

(۱) ملا علي قاري، مرقات المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، ’’إنما الأعمال بالنیات‘‘: ج ۱، ص: ۴۸)

(۲) محمد بن أحمد بن الضیاء محمد القرشي المکي الحنفي، تاریخ مکۃ المشرفۃ والمسجد الحرام والمدینۃ الشریفۃ والقبر الشریف: ج ۱، ص: ۳۱۵)

 فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج2ص177

Islamic Creed (Aqaaid)

Ref. No. 2683/45-4142

In the name of Allah the most Gracious the most Merciful

The answer to your question is as follows:

If you wash the girl’s urine or stool and your hand is stained with the impurities of urine or stool, your hand became impure and it is necessary to wash the hands to get it pure. If the child’s impure body is dry and you hold it, you don’t need wash your hands just because you have touched the impure body. Hence if you prayer after that your prayer will be valid. If impure water splashes on your clothes or body while washing the girl's impure clothes or body, it is necessary to wash your clothes. So, you have to be very careful while washing your baby’s impurities.

And Allah knows best

Darul Ifta

Darul Uloom Waqf Deoband

 

طہارت / وضو و غسل

الجواب وباللّٰہ التوفیق:استنجا بائیں ہاتھ سے کرنا چاہیے، دائیں ہاتھ سے بلا عذر استنجا کرنا مکروہ اور خلاف سنت ہے۔(۲)

(۲) و کرہ بعظم و طعام و وروث و آجر و خذف و زجاج و شيء محترم کخرقۃ دیباج و یمین ولا عذر بیسراہ۔ (ابن عابدین، الدر المختار مع ردالمحتار، ’’کتاب الطہارۃ، باب الأنجاس، مطلب: إذا دخل المستنجي في ماء قلیل،‘‘ ج۱، ص:۵۵۲)؛ و یکرہ الإستنجاء بالید الیمنی (عالم بن العلاء، تاتارخانیہ، ’’نوع منہ في سنن الوضو آدابہ،‘‘ ج۱، ص:۲۱۱)، و یکرہ الاستنجاء بالعظم… و ھکذا بالیمین، ھکذا في التبیین۔ و إذا کان بالیسری عذر یمنع الاستنجاء بھا، جاز أن یستنجي بیمینہ من غیر کراھۃ۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیہ، ’’کتاب الطہارۃ، الباب السابع: في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الثالث، في الاستنجاء،‘‘ ج۱، ص:۱۰۵)
 

فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج3 ص88

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر کسی شخص کو قرض دیتے وقت کوئی چیز رہن رکھ دی جائے، تو شرعاً درست ہے؛ لیکن سود یا شبہ سود کی صورت نہ ہو۔شرائط رہن کی پابندی ضروری ہے جو شخص ایسا کرے اس کی امامت شرعاً درست ہے۔(۱)

(۱) الودیعۃ أمانۃ في ید المودع إذا ہلکت لم یضمنہا، لقولہ علیہ السلام: لیس علی المستعیر غیر المغل ضمان ولا علی المستودع غیر المغل ضمان ولأن بالناس حاجۃ إلی الاستیداع فلو ضمناہ یمتنع الناس عن قبول الودائع فیتعطل مصالحہم۔ (المرغیناني، الہدایۃ، ’’کتاب الودیعۃ‘‘:ج۳، ص: ۲۷۳، دارالکتاب دیوبند)
 

 فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج5 ص53

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب و باللہ التوفیق: ٹخنوں سے نیچے شلوار یا جبہ لٹکانا ناجائز اور حرام ہے اور یہ صریح حدیث سے ثابت ہے اور جان بوجھ کر ٹخنے سے نیچے لٹکانے والا گنہگار اور فاسق ہے اور نماز میں شلوار ٹخنے سے نیچے پہننا اور بھی برا ہے؛ اس لیے اس کے پیچھے نماز مکروہ ہے۔ بخاری شریف میں ہے:
’’ما أسفل من الکعبین من الإزار في النار‘‘ یعنی جو شخص اپنا کپڑا ٹخنے سے نیچے لٹکائے گا وہ جہنم میں جائے گا۔(۱)
ایک حدیث میں ہے کہ جو آدمی ازار لٹکاکر نماز پڑھے گا اس کی نماز قبول نہ ہوگی۔
’’عن أبي ہریرۃ: بینما رجل یصلي مسبلا إزارہ إذ قال لہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: إذہب فتوضأ فذہب فتوضأ ثم جاء ثم قال: إذہب فتوضأ ثم جاء، فقال لہ رجل یا رسول اللّٰہ! ما لک أمرتہ أن یتوضا؟ فقال: إنہ کان یصلي وہو مسبل إزارہ وإن اللّٰہ جل ذکرہ لا یقبل صلاۃ مسبل إزارہ‘‘(۲)
’’ولایجوز الإسبال تحت الکعبین إن کان للخیلاء، وقد نص الشافعي علی أن التحریم مخصوص بالخیلاء؛ لدلالۃ ظواہر الأحادیث علیہا، فإن کان للخیلاء فہو ممنوع منع تحریم، وإلا فمنع تنزیہ‘‘(۳)
’’کرہ إمامۃ ’’الفاسق‘‘ العالم لعدم اہتمامہ بالدین فتجب إہانتہ شرعا فلا یعظم بتقدیمہ للإمامۃ‘‘(۱)

(۱) أخرج البخاري في صحیحہ، ’’کتاب اللباس، باب ما أسفل من الکعبین ففی النار‘‘: ج ۳، ص: ۴۸، رقم:۵۷۸۷۔
(۲) أخرجہ أبوداود في سننہ، ’’کتاب اللباس، باب الإسبال في الصلاۃ‘‘: ج ۲، ص: ۲۱۵، رقم: ۴۰۸۶۔
(۳) أحمد بن محمد، حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح، ’’فصل في بیان الأحق بالإمامۃ‘‘: ج ۱، ص: ۳۱۷۔
(۱) ملا علي قاري، مرقاۃ المفا تیح، ’’کتاب اللباس، الفصل الأول‘‘: ج ۸، ص: ۱۹۸، رقم: ۴۳۱۴۔

 

فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج5 ص179