Frequently Asked Questions
عائلی مسائل
Ref. No. 3197/46-7043
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ بطور علامت کے کوئی پتھر وغیرہ لگانے کی اجازت ہے، بشرطیکہ کسی مفسدہ کا اندیشہ نہ ہو۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
ربوٰ وسود/انشورنس
Ref. No. 3196/46-7041
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ میڈیکل ہیلتھ انشورنس میں قمار یا سود پایا جاتا ہے، جس پر نصوص میں سخت وعید بیان ہوئی ہے۔ اس لئے عام حالات میں شرعاً اس کی اجازت نہیں ہے ۔ اس لیے کہ اگر محدود مدت کے اندر بیماری پیش آئی تو سود کے ساتھ رقم ملتی ہے اور بیماری پیش نہ آئی تو جمع رقم واپس نہیں کی جاتی اور اس طرح اس پر قمار کی تعریف صادق آتی ہے۔اس لئے میڈیکل انشورنس لینا جائز نہیں ہے، تاہم اگر کوئی مجبوری پیش آجائے، اور مالی اعتبار سے تنگی ہے اور علاج کے لئے کوئی نظم نہیں ہے تو بقدر ضرورت اس سے استفادہ کی گنجائش ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
نماز / جمعہ و عیدین
Ref. No. 3195/46-7040
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ اگر کسی شخص نے جان بوجھ کر نماز چھوڑی، تو اس پر گناہ ہے، کیونکہ نماز دین کا اہم ترین رکن ہے اور اسے جان بوجھ کر ترک کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ تاہم اگر اس شخص نے بعد میں توبہ کرلی، پھر نمازوں کو درست طریقے سے پڑھنا شروع کردیا، تو اللہ کی رحمت سے اُمید ہے کہ اس کی توبہ قبول ہو جائے گی۔اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، اور وہ اپنے بندوں کو معاف کرنے والا ہے، بشرطیکہ وہ سچے دل سے توبہ کرے، نادم ہو اور آئندہ کے لیے نماز کو ترک نہ کرنے کا پختہ عزم کرے۔
اس لئے اگر کسی نے قضا نماز پڑھ لی اور جو کوتاہی ہوئی اس پر توبہ واستغفار بھی کرلیا تو اب امید ہے کہ ان شاء اللہ اس کوتاہی پر سزا نہیں ہوگی۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
تجارت و ملازمت
Ref. No. 3194/46-7039
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ نعت، نظم، غزل اور اشعار بناکر یا کوئی مضمون لکھ کر اس کو بیچنا اور اس سے پیسے کماناجائز اور درست ہے بشرطیکہ اشعار میں کوئی خلاف امر بات نہ ہو۔ شعرگوئی ایک فن ہے جس میں وقت اور محنت دونوں چیزیں شامل ہوتی ہیں، اس لئے اگر کوئی آدمی اپنے فن اور آرٹ کے ذریعہ کمائی کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس کام میں ممانعت کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی ہے۔
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشِّعْرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ كَلَامٌ فَحَسَنُهُ حَسَنٌ وَقَبِيحُهُ قَبِيحٌ» . رَوَاهُ الدَّارَ قُطْنِيّ. (مشکوٰۃ المصابیح: (رقم الحدیث: 4807)
إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِکْمَةً.( بخاري، الصحیح، 5: 2276، رقم: 5793، دار ابن کثیر الیمامة بیروت)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
اسلامی عقائد
Ref. No. 3193/46-7031
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ یہ تمام باتیں عقائد اہل سنت والجماعت کے خلاف ہیں۔ علمائے دیوبند کے عقیدہ کے خلاف ہو کر کوئی دیوبندی کیسے ہو سکتا ہے۔ علماء دیوبند کے عقائد کا حامل ہی دیوبندی کہلا سکتا ہے چاہے وہ دنیا کے کسی گوشہ میں ہو اور علماء دیوبند سے بھی ناواقف ہو۔
بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ عقائد ونظریات کا حامل شخص شیعہ ہے جو تقیہ کر رہا ہے اور دوسروں کو دھوکہ دینے کے لئے خود کو دیوبندی کہہ رہا ہے۔ حالانکہ حقیقت میں وہ دیوبندی نہیں ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
Business & employment
Business & employment
Ref. No. 3192/46-7029
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ بیع کے صحیح ہونے کی ایک شرط یہ ہے کہ مبیع بائع کے قبضہ میں ہو، اور وہ اس کا مالک ہو، حدیث شریف میں ایسی چیز بیچنے سے منع کیاگیاہے جس کا بائع خود مالک نہ ہو۔ صورت مسئولہ میں اگر بیچنے والے کے پاس محض اشتہار ہے اور جب کوئی خریدار سامان طلب کرتاہے تو وہ دوسرے مارکیٹ سے سامان خرید کر دیتاہے تو یہ دھوکہ کے ساتھ دوسرے کا مال بیچن اہے جو ناجائز ہے۔ اور اگر آپ کے اشتہار پر کلک کرکے لوگ اصل بائع تک پہونچتے ہیں اور آپ کوکمپنی سے متعینہ کمیشن ملتاہے تو وہ متعینہ کمیشن جائز ہوگا۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
Divorce & Separation
Ref. No. 3190/46-7032
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ طلاق کے لئے کنائی الفاظ استعمال کرتے وقت متصلاً اگر طلاق کی نیت نہیں تھی تو طلاق واقع نہیں ہوئی، بعد میں نیت کا اعتبار نہیں ہوگا، پھر شوہر نے اپنی بیوی کو صریح دو طلاقیں دیں۔ اور پھر نکاح وغیرہ کر کے دونوں میاں بیوی کے طور پر رہنے لگے تو معاملہ بھی درست ہو گیا، اس لئے بشرط صحت سوال صورت مسئولہ میں زید کا نکاح درست ہو گیا اور بچے اسی کی جانب منسوب ہوں گے۔ اور دونوں کا نکاح اب بھی باقی ہے، دونوں کو چاہئے کہ میاں بیوی کے طور پر دونوں ایک ساتھ رہیں اور ذہن کو تمام شکوک وشبہات سے پاک رکھیں۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
Usury / Insurance
Ref. No. 3189/46-7030
In the name of Allah the most Gracious the most Merciful
The answer to your question is as follows:
The proper method of halal investment is to invest money in a legitimate, halal trade / business and earn profits in a way where both profit and loss are shared. The profit should not be predetermined or fixed, and the risk of loss should be borne by both parties according to their share of the investment. If the profit is fixed in advance, or if the risk of loss is placed solely on the working party, or if the person receiving the money does not actually invest it in the business but simply provides the money in exchange for a return, all of these situations are impermissible.
This effectively resembles a loan with interest, and as is well-established, charging or earning interest (riba) is strictly forbidden in Islam. Engaging in riba—whether by lending, borrowing, or facilitating it—is unlawful and considered a major sin according to Quran and hadith. Therefore, the transaction your cousin is involved in is a violation of Islamic principles and is haram. It is not permissible to invest in or profit from such a transaction.
"عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه» ، وقال: «هم سواء»". (الصحیح لمسلم، 3/1219، باب لعن آكل الربا ومؤكله، ط:، دار احیاء التراث ، بیروت)(مشکاۃ المصابیح، باب الربوا، ص: 243)
"كل قرض جر منفعةً فهو رباً". (الجامع الصغیر للسیوطی، ص:395، برقم :9728، ط: دارالکتب العلمیہ، بیروت)
"(ومنها) : أن يكون الربح جزءًا شائعًا في الجملة، لا معينًا، فإن عينا عشرةً، أو مائةً، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدةً؛ لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لايحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما، فلايتحقق الشركة في الربح". (بدائع الصنائع، 6/ 59، کتاب الشرکة، فصل في بيان شرائط جواز أنواع الشركة، ط: سعید)
And Allah knows best
Darul Ifta
Darul Uloom Waqf Deoband
Fiqh
Ref. No. 3187/46-7020
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ کرنسی کے بدلے سونے کی خرید و فروخت "بیعِ صرف" کہلاتی ہ۔ اگر آپ نے بینک کو پیسے دئے اور اس نے اس رقم کے بدلے سونے کی مقدار متعین کرکے آپ کے اکاونٹ میں سونا لکھ دیا اور آپ کو اس کااختیار دیا کہ جب چاہیں آپ اس سونے کو بھی سکتے ہیں اور بیچ کر اس کی مقدار کو بھی لے سکتے ہیں تو یہ صورت جائز ہے۔ کیونکہ آپ نے بینک سے سونا خریدا اور اس کو بینک کے پاس ہی رکھ دیا اورسونا بینک میں موجود ہے کہ جب آپ چاہیں اس کو لے سکتے ہیں، تو یہ آپ کا قبضہ شمار ہوگا جو بیع صر ف میں ضروری ہے۔
شیئرمارکیٹ میں جو سونے کی خریدوفروخت ہے اس میں سونا حقیقتا موجود نہیں ہوتاہے بلکہ صرف ڈیجیٹل طور پر نظر آتاہے، اور اگر آپ اس سونے کو لینا چاہیں تو وہ آپ کو سونا فراہم نہیں کریں گے، بلکہ آپ کو ہر حال میں اس کو بیچنا ہی ہوگا تاکہ ڈیجیٹل طریقہ پر اس کا نفع یا نقصان آپ کو بتایاجاسکے۔ اس لئے جب اس میں سونے پر قبضہ نہیں ہے کیونکہ آپ کو سونا نہیں مل سکتاہے تو یہ بیع قبل القبض والی شکل ہوگئی جو ناجائز ہے۔ اس لئے آن لائن سونے کا کاروبار درست نہیں ہے۔
هو بيع بعض الأثمان ببعض) كالذهب والفضة إذا بيع أحدهما بالآخر أي بيع ما من جنس الأثمان بعضها ببعض وإنما فسرناه به ولم نبقه على ظاهره ليدخل فيه بيع المصوغ بالمصوغ أو بالنقد فإن المصوغ بسبب ما اتصل به من الصنعة لم يبق ثمنا صريحا ولهذا يتعين في العقد ومع ذلك بيعه صرف ...شرائطه فأربعة، الأول قبض البدلين قبل الافتراق بالأبدان.
قوله: فلو تجانسا شرط التماثل والتقابض) أي النقدان بأن بيع أحدهما بجنس الآخر فلا بد لصحته من التساوي وزنا ومن قبض البدلين قبل الافتراق." (البحر الرائق، باب الصرف، ج:6، ص:209، ط:دارالكتب الاسلامى)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند