Frequently Asked Questions
طلاق و تفریق
Ref. No. 3185/46-7028
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ اگر بیوی کا مقصد داڑھی کی سنت کا مذاق اڑانا نہیں تھا بلکہ داڑھی اچھی نہ لگنےپر اپنے غصہ کا اظہار تھا تو سخت گنہگار ہوئی مگر ایمان باقی ہے۔ اور اگر داڑھی کا مذاق اڑانا ہی مقصود تھا توپھر تجدید ایمان وتجدید نکاح لازم ہوگا۔ إن کان تہاوٴنا بالسنة یکفر (الھندیۃ 2/265)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
طلاق و تفریق
Ref. No. 3186/46-7027
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ دو طلاق رجعی دینےکے بعد جب شوہر نے رجعت کرلی تو عدت ختم ہو گئی اور عورت اس کی پورے طور پر بیوی بن گئی۔ اب وہ عدت دوبارہ شروع نہیں ہو سکتی، اب تیسری طلاق کے ذریعہ ہی دونوں الگ ہو سکتے ہیں، لیکن شوہر کو چاہئے کہ تیسری طلاق نہ دے اور نباہ کرنے کی کوشش کرے اور اگر کوئی صورت نہ ہو تو تیسری طلاق دیدے تاکہ عورت، بعد عدت دوسری جگہ نکاح کرسکے، ارشاد ربانی ہے: الطلاق مرتان فامساك بمعروف او تسريح باحسان۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
ربوٰ وسود/انشورنس
Ref. No. 3184/46-7022
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ والد صاحب کے اکاؤنٹ کی اسٹیٹمنٹ بینک سے نکلوا لیں اس میں اکاؤنٹ بننے سے لے کر اب تک جتنی رقم انٹرسٹ کی ہو اس کو صدقہ کردیں، سودی بینک میں اپنی جمع شدہ رقم اپنے استعمال میں لاءیں اور سود کی رقم نکال کر فقراء پر بلا نیت ثواب صدقہ کردیں۔
قال شيخنا: ويستفاد من كتب فقهائنا " كالهداية" وغيرها أن : من ملك بملك خبيث ولم يمكنه الرد إلى المالك فسبيله التصدق على الفقراء." )معارف السنن، أبواب الطهارۃ، ج:1، ص:95، ط:مجلس الدعوۃ والتحقیق الإ سلامي(
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
Marriage (Nikah)
Ref. No. 3183/46-7021
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ والد صاحب نے اپنے بالغ بیٹوں کے مہر کی ذمہ داری تبرعا لی تھی، مہر اصلا تو بیٹوں پر ہی لازم ہے۔ لہذا اگر والد نے اپنی زندگی میں ادائیگی نہیں کی تو اب ان کے ترکہ سے اس کو منہا نہیں کیاجائے گا۔ بلکہ کل ترکہ تمام ورثہ میں تقسیم ہوگا، اور بیٹے اپنا حصہ لینے کے بعد اپنی بیویوں کا مہر خود اپنے پیسوں سے ادا کریں گے۔
ولو کان الابن کبیرا فھو متبرع لانہ لایملک الاداء بلاامرہ (رالمحتار 4/289 زکریادیوبند)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
Islamic Creed (Aqaaid)
Ref. No. 3182/46-7019
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ اللہ تعالیٰ کی ذات، اسماء و صفات قدیم ہیں اور مخلوق کی ذات و صفات حادث ہیں، اس لئے اللہ تعالیٰ کا کوئی مشابہ نہ موجود ہے اور نہ ہی کوئی ہوسکتاہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ "لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ." یعنی اس کی طرح کا کوئی بھی نہیں ہے۔ اللہ تعالی کے لئے قرآن و حدیث میں جن اعضاء کا ثبوت ملتاہے ان سے مراد اللہ تعالی کی ذاتی صفات ہیں جن کے لئے نہ کسی عضو کی ضرورت ہے اور نہ کسی جسم کی۔ اللہ تعالی کا دیکھنا یا سننا وغیرہ امور ہماری طرح عضو ِکان اور عضوِ ناک وغیرہ کے محتاج نہیں ہیں۔ اس لئے ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالی کے لئے دونوں ہاتھوں سے پکڑنا یا دونوں آنکھوں سے دیکھنا یا دونوں کانوں سے سننا وغیرہ صفات سے وہ متصف ہے مگر اس کی حقیقت کا علم نہیں کہ وہ کس طرح دیکھتا، سنتا اور پکڑتاہے۔ اس لئے یہ کہنا کہ اللہ تعالی اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھ رہاہے جیسا کہ اس کی شان ہے کوئی گناہ یا گمراہی کی بات نہیں ہوگی ۔ جمہور اہل سنت والجماعت کا یہی مذہب ہے کہ نصوص میں وارد صفات اللہ تعالی کے لیے بلاکیف ثابت ہیں، اور متشابہات کے باب میں بہت زیادہ غور خوض کرنے سے منع کیاگیاہے۔
قولہ تعالی: ید اللہ فوقَ أیدِیہم، قولہ تعالی: ما منعک أن تسجد لما خلقتُ بیديَّ اور مثلاً نفس کما فی قولہ تعالی حکایة عن عیسی -علیہ السلام- تعلم ما في نفسي ولا أعلم ما في نفسک․ وفي الحدیث، وفي الحدیث الشریف: أنت کما أثنیتَ علی نفسک․ اور مثلاً لفظ عین (آنکھ) کما في قولہ تعالی: ولتصنع علی عیني وغیرہ۔ (القرآن)
والواجب أن ینظر في ہذا الباب أعني في باب الصفات فما أثبتہ اللہ ورسولہ أثبتناہ وما نفاہ اللہ ورسولہ نفیناہ (شرح الطحاویة: ۱۶۸، ط: سعودی) والمشہور عند الجمہور من أہل السنة وا لجماعة أنہم لا یریدون بنفي التشبیہ نفي الصفات بل یریدون أنہ سبحانہ لا یشبہ المخلوق في أسمائہ وصفاتہ وأفعالہ (شرح الفقہ الاکبر ص:۱۷ ط: اشرفی)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
Fiqh
Ref. No. 3176/46-8029
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ اگر چار رکعت والی نماز میں غلطی سے دو رکعت پر سلام پھیر دے تو اس کے لئے حکم یہ ہے کہ جب تک کوئی منافی نماز عمل نہ کیا ہو اور اس کا رخ قبلہ سے نہ ہٹاہو تو وہ کھڑے ہوکر اسی حالت میں باقی رکعت نماز پڑھ لے، اور سجدہ سہو کرلے، اس کی نماز ہوجائے گی۔ جہاں تک مولانا رفعت صاحب کی کتاب کا مسئلہ ہے مجھے مذکورہ مسئلہ نہیں ملا۔
مصل رباعیۃ فریضۃ او ثلاثیۃ و لو وترا انہ اتمھا ثم علم قبل اتیانہ بمناف انہ صلی رکعتین او علم انہ ترک سجدۃ صلبیۃ او تلاویۃ اتمھا بفعل ما ترکہ وسجد للسھو لبقاء حرمۃ الصلوۃ ۔ حاصل المسئلۃ انہ سلم ساھیا علی الرکعتین مثلا وھو فی مکانہ ولم یصرف وجھہ عن القبلۃ ولم یات بمناف عاد الی الصلوۃ من غیر تحریمۃ وبنی علی ما مضی واتم ما علیہ۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
Fiqh
Ref. No. 3176/46-8029
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ اگر چار رکعت والی نماز میں غلطی سے دو رکعت پر سلام پھیر دے تو اس کے لئے حکم یہ ہے کہ جب تک کوئی منافی نماز عمل نہ کیا ہو اور اس کا رخ قبلہ سے نہ ہٹاہو تو وہ کھڑے ہوکر اسی حالت میں باقی رکعت نماز پڑھ لے، اور سجدہ سہو کرلے، اس کی نماز ہوجائے گی۔ جہاں تک مولانا رفعت صاحب کی کتاب کا مسئلہ ہے مجھے مذکورہ مسئلہ نہیں ملا۔
مصل رباعیۃ فریضۃ او ثلاثیۃ و لو وترا انہ اتمھا ثم علم قبل اتیانہ بمناف انہ صلی رکعتین او علم انہ ترک سجدۃ صلبیۃ او تلاویۃ اتمھا بفعل ما ترکہ وسجد للسھو لبقاء حرمۃ الصلوۃ ۔ حاصل المسئلۃ انہ سلم ساھیا علی الرکعتین مثلا وھو فی مکانہ ولم یصرف وجھہ عن القبلۃ ولم یات بمناف عاد الی الصلوۃ من غیر تحریمۃ وبنی علی ما مضی واتم ما علیہ۔ )حاشیۃ الطحطاوی ص 473)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
طلاق و تفریق
Ref. No. 3169/46-7000
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ جب تک زبان سے طلاق دینے کا یقین نہ ہو طلاق واقع نہیں ہوگی، خواہ اس نے واقع میں طلاق دے دی ہو۔ یہ وسوسہ اور وہم ہے کہ شاید زبان سے طلاق دیدی شاید زبان سے نہیں دل ہی دل میں دی۔ شاید میں حرام رشتہ سے منسلک ہوں، شاید یہ بچہ میرا نہیں ہے،وغیرہ ؛ یہ سب وساوس و اوہام ہیں ۔ اس طرح کے وسوسے سے باہر نکلنے کی کوشش کریں ورنہ زندگی بہت مشکل ہوجائے گی۔ کبھی میاں بیوی کے درمیان اختلاف کی شدت میں شوہر اپنے دل میں صد فی صد بیوی کو طلاق دینے کا ارادہ کرلیتاہے اور بعد میں اس کو ایسا لگتاہے کہ میں نے اس وقت شاید زبان سے بھی طلاق دیدی تھی تو بھی جب تک یقین نہ ہو کہ زبان سے طلاق دی ہے کوئی طلاق واقع نہیں گی۔ یقین نہ ہونا ہی شک کہلاتاہے۔ ہاں جو شک کا مریض نہ ہو تو اس کے حق میں غالب گمان بھی یقین کے درجہ میں ہوتاہے۔
ومنھا شک ھل طلق أم لا لم یقع قال الحموي قال المصنف في فتواہ ولا اعتبار بالشک (الأشباہ: ۱۰۸) قال في الأشباہ إلا أن یکون أکبر ظنہ علی خلافہواللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
Hajj & Umrah
Ref. No. 3167/46-6093
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ عمرہ کرانے کے لئے ذمہ دار نے جو رقم طے کرکے لے لی وہ اس کی ہے اب وہ اس رقم کو اپنے استعمال میں لائے یا سرمایہ کاری میں لگائے اس کو مکمل تصرف کا حق ہے۔ اس رقم کے بدلے میں وہ عمرہ کرانے کا پابند ہے چاہے عمرہ میں جمع شدہ رقم سے کم خرچ ہو یا زیادہ۔ اس لئے عمرہ ایجینٹ کا آپ سے رقم وصول کرکے اس کو سرمایہ کاری میں لگانا درست ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
ربوٰ وسود/انشورنس
Ref. No. 3168/46-6094
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ کریڈٹ کارڈ میں بینک کی طرف سے جو رقم بطور قرض کارڈہولڈر کو دی جاتی ہے اس میں ایک میعاد مقرر ہوتی ہے کہ اس میعاد سے پہلے اگر قرض کی رقم اداکردی جائے تو کارڈ ہولڈر پر کوئی اضافی رقم بطور سود دینا نہیں پڑتی ۔ لہذا اگر کسی کو اپنے اوپر اعتماد ہو کہ وہ سود لازم ہونے سے پہلے ہی قرض کی رقم اداکردے گا تو اس کے لئے کریڈٹ کارڈ بنوانا جائز ہے، البتہ کمپنی اگر حلال کاروبار بھی کرتی ہے اور کریڈٹ کارڈ سے سود بھی کماتی ہے تو غالب آمدنی کے حلال ہونے کی صورت میں اس میں ملازمت کرنا جائز ہے اور وہاں کی چیزوں کو استعمال کرنا بھی جائز ہوگا۔ اور اگر کمپنی صرف اپنے سودی منافع سے چلتی ہے تو پھر اس میں ملازمت کرنا اور وہاں کی چیزوں کا استعمال جائز نہیں ہوگا۔ اور جب تک اس کے ذریعہ آمدنی کے بارے میں تحقیق نہ ہو اس میں کام کرنے سے حتراز کیاجائے۔
وما لا یبطل بالشرط الفاسد القرض بأن أقرضتک ہذہ المأة بشرط أن تخدمني شہرًا مثلاً فإنہ لا یبطل بہذا الشرط وذلک لأن الشروط الفاسدة من باب الربا وأنہ یختص بالمبادلة المالیّة، وہذہ العقود کلہا لیست بمعاوضة مالیة فلا توٴثر فیہا الشروط الفاسدة الخ (البحر الرائق ۶/۳۱۲، کتاب البیع باب المتفرقات، ط: زکریا، وللمزد من التفصیل راجع: الفتاوی العثمانیة (۳/۳۵۲، فصل فی البطاقات وأحکامہا، ط: نعیمیہ دیوبند)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند