Frequently Asked Questions
Divorce & Separation
Ref. No. 3136/46-6042
In the name of Allah the most Gracious the most Merciful
The answer to your question is as follows:
(In Islam, Nikah (marriage) is considered a sacred bond, and Islam emphasizes its stability by encouraging mutual love, affection, and fulfillment of each other's rights. However, if for some reasons, there is discord between the husband and wife, the elders of both families should first attempt to reconcile, as divorce is regarded as a disliked act in Islam, and its unnecessary use is not appropriate.
If there is no way for reconciliation and there is a fear of discord and conflict, then Islam permits separating with one explicit divorce (Talaq). After one divorce, if they wish to reunite, they can do so during the Iddah (waiting period) through reconciliation or after the Iddah by remarrying.
Issuing three divorces at once is considered a sin in Islamic law and is also a punishable offense under the country's legal system.)
In our common usage, the word "Azad" (free) is clearly used to mean divorce. Therefore, even without the intention, one revocable divorce (Talaq-e-Raj'i) has taken place. The husband then gave a second divorce and reconciled, and later gave a third conditional divorce which was fulfilled. As a result, all three irrevocable divorces (Talaq-e-Mughallazah) have occurred, making it forbidden and sinful for both of you to continue living together, and the Nikah (marriage) is also prohibited.
Now, the woman is all the way free, and after completing her Iddah (waiting period), she may marry another man if she wishes to do so.
And Allah knows best
Darul Ifta
darul Uloom Waqf Deoband
Zakat / Charity / Aid
Ref. No. 3135/46-6032
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ شریعت مطہرہ نے زکوٰۃ کے مصارف متعین کردیئے ہیں، ان مصارف کے علاوہ کسی دوسری جگہ زکوٰۃ کی رقم خرچ نہیں کی جاسکتی۔ زکوۃ میں تملیک ضروری ہے یعنی زکوۃ دینے والوں پر لازم ہے کہ زکوۃ کسی مستحق شخص کی ملکیت میں دیں، بلا تملیک مال کو کسی غریب پر خرچ کردینے سے بھی زکوۃ ادا نہیں ہوتی ہے، نیز زکوۃ کی رقم براہ راست رفاہی کاموں میں بھی استعمال نہیں کی جاسکتی ہے۔ لہذا سیاسی پارٹی کے عام چندہ میں زکوۃ کی رقم دینے سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی۔ہاں اگرکوئی سیاسی آدمی زکوۃ کی رقم جمع کرکے فقراء و مساکین اورمستحق بیواؤں میں تملیک کے طور پر تقسیم کرے تو اس کی گنجائش ہے۔ اس سلسلہ میں لوگوں میں بیداری لائی جائے کہ سیاسی جماعت کے عام چندہ میں زکوۃ کی رقم نہ دیں، ورنہ زکوۃ ادانہیں ہوگی۔
"أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله تعالى ." (الفتاوي الهندية، ص: 170، ج:1،کتاب الزکاۃ،ألباب الأول،ط:دار الفكر،بيروت)
"وَ لَايَجُوزُ أَنْ يَبْنِيَ بِالزَّكَاةِ الْمَسْجِدَ، وَكَذَا الْقَنَاطِرُ وَالسِّقَايَاتُ، وَإِصْلَاحُ الطَّرَقَاتِ، وَكَرْيُ الْأَنْهَارِ وَالْحَجُّ وَالْجِهَادُ وَكُلُّ مَا لَا تَمْلِيكَ فِيهِ، وَلَا يَجُوزُ أَنْ يُكَفَّنَ بِهَا مَيِّتٌ، وَلَا يُقْضَى بِهَا دَيْنُ الْمَيِّتِ كَذَا فِي التَّبْيِينِ، وَلَا يُشْتَرَى بِهَا عَبْدٌ يُعْتَقُ، وَلَا يَدْفَعُ إلَى أَصْلِهِ، وَإِنْ عَلَا، وَفَرْعِهِ، وَإِنْ سَفَلَ كَذَا فِي الْكَافِي." (الھندیۃ، كتاب الزكوة، الْبَابُ السَّابِعُ فِي الْمَصَارِفِ، ١ / ١٨٨، ط: ظار الفكر)
"وَ لَا يَخْرُجُ عَنْ الْعُهْدَةِ بِالْعَزْلِ بَلْ بِالْأَدَاءِ لِلْفُقَرَاءِ." (شامي، كتاب الزكوة، ٢ / ٢٧٠، ط: دار الفكر)
"وَ يُشْتَرَطُ أَنْ يَكُونَ الصَّرْفُ (تَمْلِيكًا) لَا إبَاحَةً كَمَا مَرَّ." (شامي، كتاب الزكوة، باب مصرف الزكوة و العشر، ٢ / ٣٤٤، ط: دار الفكر)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبندطلاق و تفریق
Ref. No. 3134/46-6014
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ بشرط صحت سوال صورت مسئولہ میں دوسرا مسلمان مرتد نہیں ہوا، اس کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تم جو زبردستی زبان سے کہلوانا چاہتے ہو حالانکہ زبانی کلمہ پڑھنا ضروری نہیں اور جو پہلے سے مسلمان ہو اس کے لئے زبان سے سب کے سامنے کلمہ پڑھنا ضروری نہیں ہے۔ کہنے والے کا یہ مقصد ہرگز نہیں تھا کہ میں مسلمان ہی نہیں ہوں۔سیاق و سباق سے گرچہ ایمان سے خارج نہیں ہوا تاہم شوہر پر لازم ہے کہ وہ توبہ واستغفار کرے اور آئندہ کے لیے ایسے الفاظ کہنے سے سخت اجتناب کرے۔
رجل ضرب امرأته فقالت المرأة: لست بمسلم، فقال الرجل: هب أني لست بمسلم، قال الشيخ الإمام أبو بكر محمد بن الفضل رحمه الله تعالى: لا يصير كافرا بذلك، فقد حكي عن بعض أصحابنا أن رجلا لو قيل له :ألست بمسلم؟ فقال: لا ،لايكون ذلك كفرا ؛لأن قول الناس: لیس بمسلم معناہ: أن أفعالہ لیست من أفعال المسلمین. وقال الشیخ الامام الزاهد رحمه الله تعالی: اذا لم یکن ذلك کفرا عند بعض الناس فقوله: هب أني لست بمسلم أبعد من ذلك. (الفتاوی الخانیة: (کتاب السیر، باب ما یکون کفرا من المسلم وما لا یکون، 425/3، ط: دار الفکر)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
اسلامی عقائد
Ref. No. 3133/46-6013
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ مسجد کےامور امام صاحب یا متولی صاحب ہی طے کریں، ہر شخص کی رائے پر عمل ممکن نہیں ہے۔ جنتریوں میں جو ایک دو منٹ کا فرق ہوتاہے وہ احتیاط کا ہوتاہے، کسی جنتری میں اصل وقت لکھاہوتاہے اور کسی میں دو یا تین منٹ کی احتیاط رکھ کر وقت لکھاجاتاہے، اس لئے جو جنتری کے وقت پر اذان دیدے وہ بھی درست ہے اور جو دو تین منٹ کے احتیاط پر عمل کرے وہ بھی ٹھیک ہے۔ اس لئے کوئی شخص بھی اپنی ذاتی رائے سے امام و متولی کو پریشان کرکے فسادپیدا نہ کرے۔ امام صاحب کو چاہئے کہ متولی یا مسجد کمیٹی کے مشورہ سے امور طے کرلیا کریں ۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبندمتفرقات
Ref. No. 3132/46-6012
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ ایسے موقع پر قانون کا سہارا لینا اور قانونی کارروائی کرنی چاہئے ، نیز نبی کریم ﷺ کے اوصاف کو لوگوں میں بیان کرنا چاہئے۔ مثبت طریقہ پر کام کرنے سے زیادہ فائدہ ہوتاہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
Business & employment
Ref. No. 3128/46-6006
In the name of Allah the most Gracious the most Merciful
The answer to your question is as follows:
It is not your duty to verify whether the headmaster has the authority to grant leave or the basis on which he made the announcement. As you are under the headmaster's supervision, his decision regarding leave should be followed. Once leave is announced, you are not required to attend the school, and you will not be held accountable. Your salary will still be considered legitimate.
And Allah knows best
Darul Ifta
Darul Uloom Waqf Deoband
Fiqh
Ref. No. 3127/46-6005
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ بظاہرآپ والد صاحب کی دوکان پر ان کا معاون بن کر بیٹھتے ہیں، وہ دوکان آپ کی نہیں ہے اور نہ ہی والد نے کوئی تنخواہ مقرر کی ہے تو آپ اپنے والدکی اجازت کے بغیر اس کی آمدنی میں سے کچھ نہیں لے سکتے ہیں۔ اگر والد صاحب نے صراحتا یا اشارۃ اجازت نہیں دی ہے تو والد صاحب کو خبر کیجئے میں کبھی کبھی پیسے لیتارہتاہوں، اگر وہ گذشتہ پیسوں کا مطالبہ کرتے ہیں تو ان کی دائیگی آپ پر لازم ہوگی۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
Fiqh
Ref. No. 3126/46-6004
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ اگر شرمگا ہ پر کوئی نجاست لگی ہوئی نہیں تھی، تو محض منی جیسی بدبو کی وجہ سے آپ کی پاکی پر کوئی فرق نہیں آئے گا۔ پسینہ کی بدبو چاہے کتنی ہی خراب ہو اور کہیں پر بھی ہو اس سے آدمی ناپاک نہیں ہوتاہے۔ جب منی نہیں ہے تو منی جیسی بدبو آنے سے آپ ناپاک شمار نہیں ہونگے، تاہم صفائی کا خیال رکھیں اور استنجاکرتے وقت شرمگاہ کو اچھے سے دھولیا کریں۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
طلاق و تفریق
Ref. No. 3125/46-6003
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ طلا ق کا مسئلہ سمجھانے کے طور پر طلاق کا استعمال کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی ہے ، اگرچہ اپنی بیوی کو طلاق دینے کی مثال بیان کرے، اور اس دوران اگر خودبخود خیال آجائے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، اس لئے صورت مسئولہ میں آپ کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
مذاہب اربعہ اور تقلید
Ref. No. 3124/46-6009
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ مس بالشہوۃ کی بنا پر حرمت مصاہرت کا فتوی دینے میں اگر غیرمعمولی حرج اور مشقت پیش آرہی ہو تو اس صورت میں مذہب غیر پر عمل کا مشورہ دینے کے سلسلہ میں علماء دیوبند کی آراء مختلف ہیں۔ بعض علماء نے غیر معمولی حرج کے پیش نظر مذہب غیر پر فتوی کی اجازت دی ہے۔اس لئے بہتر ہے کہ ایسی صورت میں صورت واقعہ کو علاقہ کے معتبر مفتی صاحب کے پاس پیش کیاجائے اوران کی رائے اور فتوی پر عمل کیاجائے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند